بی جے پی کا نیا صدر

بھارت کی حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے ایک متنازعہ لیڈر امیت شاہ کو پارٹی کے نئے صدر کے عہدہ پر فائز کر دیا

بھارت کی حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے ایک متنازعہ لیڈر امیت شاہ کو پارٹی کے نئے صدر کے عہدہ پر فائز کر دیا. فوٹو؛فائل

لاہور:
بھارت کی حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے ایک متنازعہ لیڈر امیت شاہ کو پارٹی کے نئے صدر کے عہدہ پر فائز کر دیا ہے حالانکہ روایت کے مطابق جس شخص پر قتل کا مقدمہ چل رہا ہو اسے اس قدر اہم منصب نہیں دیا جا سکتا۔ واضح رہے امیت شاہ وزیر اعظم نریندر مودی کے خاص معتمد ہیں۔ امیت شاہ پر ماورائے عدالت قتل کا مقدمہ چل رہا ہے جس میں انھوں نے چند دن جیل میں بھی گزارے ہیں۔ امیت شاہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھوں نے وزیراعظم نریندر مودی کی سیاسی اور انتخابی کامیابی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے اور اترپردیش (یو پی) میں ستر سے اسی تک نشستیں بی جے پی کو امیت شاہ کی کوششوں سے ہی حاصل ہوئیں۔


بھارت میں سماجی حقوق کے کارکنوں کا امیت شاہ پر الزام ہے کہ انھوں نے ضلع مظفر نگر میں مسلم کش فسادات کو ہوا دی تھی۔امیت شاہ کے بی جے پی کا صدر بننے سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ پارٹی اور حکومت پر وزیراعظم نریندرمودی کی گرفت خاصی مضبوط ہے اور معاملات ان کے مکمل کنٹرول میں ہیں۔ امیت شاہ کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کو جتنا وہ جانتے ہیں اتنا اور کوئی نہیں جانتا۔ بھارتی ریاست گجرات میں 2001 میں ہونے والے مسلم کش فسادات کے حوالے سے بھی امیت شاہ کی سازشیں آشکار ہوچکی ہیں۔ تاہم ان سب منفی باتوں کے باوجود ان کا پارٹی صدر بنایا جانا آیندہ کے خطرات کی نشاندہی کر رہا ہے۔

بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی بھی ہر مشکل میں اپنے بااعتماد ساتھی امیت شاہ کے ساتھ کھڑے رہے ہیں اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مودی امیت شاہ کی اپنے جانشین کے طور پر ''گرومنگ'' کرتے رہے ہیں۔ بہر حال امیت شاہ کو پارٹی سربراہ بنانا' بی جے پی کا اپنا معاملہ ہے لیکن اس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ بی جے پی پر سخت گیر طبقے کی گرفت بہت مضبوط ہے اور اس جماعت میں موجود اعتدال پسند رہنمائوں کی گرفت بتدریج کمزور ہوتی جا رہی ہے' بی جے پی کی حالیہ جیت سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ بھارتی عوام میں بھی انتہا پسند نظریات فروغ پا رہے ہیں جو طبقے یہ سمجھتے تھے کہ وزیراعظم نریندر مودی وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھانے کے بعد اپنی سخت گیری پالیسی میں تبدیلی لائیں گے' امیت شاہ کے صدر بننے سے یہ امید دم توڑتی نظر آ رہی ہے۔
Load Next Story