آپریشن ضرب عضب جلد مکمل ہونا چاہیے
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے بدھ کو آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے ملاقات کے دوران کم سے کم ممکنہ وقت میں
فوج نے میران شاہ کے 80 فیصد علاقے کو کنٹرول میں لے لیا ہے اور طالبان کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم تتر بتر کر دیا گیا ہے۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے بدھ کو آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے ملاقات کے دوران کم سے کم ممکنہ وقت میں آپریشن ضرب عضب کامیاب بنانے میں آرمی چیف کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ آپریشن ضرب عضب امن و سلامتی کے قیام میں معاون ہو گا، آپریشن میں مسلح افواج کے جوان اور افسر بہادری اور جرات کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ اس موقع پر آرمی چیف نے وزیراعظم کو آپریشن ضرب عضب کے بارے میں بتایا کہ یہ طے کردہ اہداف کے مطابق کامیابی سے جاری ہے، مسلح افواج وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق آپریشن کے مقاصد حاصل کریں گی۔
اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ فوج نے نہایت مہارت سے آپریشن میں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ملک اور قوم کو دہشت گردی کی لعنت سے نجات دلانے کے لیے آپریشن کے دوران جن فوجی افسروں اور جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے قوم ان کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔ اس آپریشن کے دوران فوج کو روز بروز نئی سے نئی کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں، عسکری ذرایع کے مطابق بدھ کو تحصیل شوال کے علاقے زوئی درہ سیر گئی میں جیٹ طیاروں کی بمباری سے 11 دہشت گرد ہلاک اور ان کے تین ٹھکانے تباہ ہو گئے۔ فوج نے میران شاہ کے 80 فیصد علاقے کو کنٹرول میں لے لیا ہے اور طالبان کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم تتر بتر کر دیا گیا ہے۔
ذرایع کے مطابق شمالی وزیرستان میں ہونے والی تازہ کارروائی میں ہلاک ہونے والوں میں اکثریت غیر ملکی جنگجوئوں کی ہے۔ یہ امر قابل ستائش اور باعث انبساط ہے کہ فوج نے میرانشاہ کے ایک بڑے حصے میں امن قائم کر دیا ہے اور امید ہے کہ بقایا 20 فیصد علاقہ بھی جلد ہی فوج کے کنٹرول میںآ جائے گا۔ میرانشاہ میں امن قائم ہونے کے بعد پہلی بار ملکی اور غیر ملکی میڈیا کو اس علاقے کا دورہ کرایا گیا اور انھیں بریفنگ میں جی سی او شمالی وزیرستان نے بتایا کہ 17 جون سے اب تک دہشت گردوں کے سو سے زائد ٹھکانے تباہ کیے گئے' شمالی وزیرستان میں القاعدہ کی موجودگی کے شواہد بھی ملے ہیں' انھوں نے واضح طور پر کہا کہ حافظ گل بہادر جہاں بھی ملے گا اسے مار دیا جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ وہ اس بات کا تعین نہیں کر سکتے کہ آپریشن کتنے ہفتوں یا مہینوں میں مکمل کر لیا جائے گا۔ عسکری ماہرین اس آپریشن میں کامیابیاں حاصل کرنے پر جہاں فوج کی قربانیوں کی تعریف کر رہے ہیں وہاں وہ اس امر کا اظہار بھی کر رہے ہیں کہ اس آپریشن کو جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے کیونکہ انھیں خدشہ ہے کہ اس میں تاخیر ہونے سے دہشت گرد عناصر کو اپنی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔ ان علاقوں میں غیر ملکی جنگجوئوں کی ایک بڑی تعداد ابھی تک موجود ہے اور آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والے غیر ملکی جنگجوئوں کی اطلاعات سے بھی اس کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔
شمالی وزیرستان میں جتنی بڑی تعداد میں بارودی فیکٹریاں اور بارودی سرنگیں پکڑی گئی ہیں اس سے یہ واضح ہو جاتاہے کہ یہ علاقہ خود کش حملہ آوروں اور دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ اور نرسری بن چکا تھا اور وہ یہاں سے نکل کر پورے ملک میں اپنی کارروائیاں کر کے خوف و ہراس پھیلا رہے تھے۔ اب اس علاقے میں دہشت گردوں کے خاتمے کے بعد یہ امید کی جا رہی ہے کہ ملک بھر میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں نمایاں کمی ہو گی اور امن و امان کی صورت حال پھر سے بحال ہو جائے گی۔ بعض ماہرین یہ خدشہ ظاہر کررہے ہیں کہ جو دہشت گرد آپریشن کی وجہ سے اس علاقے سے نکل گئے ہیں وہ کچھ عرصہ بعد موقع پا کر دوبارہ اس علاقے میں آ سکتے ہیں۔
جی سی او شمالی وزیرستان نے بی بی سی بات کرتے ہوئے وضاحت کی کہ اس علاقے کو سو فیصد سیل کرنا ممکن نہیں ہے لیکن جو عناصر یہاں سے نکل گئے ہیں انھیں علاقے میں واپس آنے نہیں دیا جائے گا۔ اس آپریشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانا ملکی سلامتی کے لیے نہایت ضروری ہے۔ ذرایع کے مطابق وزیراعظم اور آرمی چیف نے ملاقات کے دوران شمالی وزیرستان میں منطقی انجام تک پہنچنے تک آپریشن جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ تمام دہشت گرد گروپوں کا بلا تفریق خاتمہ کیا جائے گا۔ آپریشن کے باعث متاثر ہونے والے افراد کی امداد کے لیے بھی حکومت اور فوج بھرپور طور پر کام کر رہی ہیں۔
وزیراعظم کا کہنا ہے کہ آئی ڈی پیز کے لیے جامع بحالی منصوبہ وضع کر رہے ہیں تاکہ آپریشن مکمل ہونے پر عزت و وقار کے ساتھ ان کو از سر نو بحال کیا جا سکے۔ آپریشن مکمل ہونے کے بعد آئی ڈی پیز کی بحالی حکومت کے لیے ایک نیا چیلنج ہو گا۔ اس امر کو یقینی بنانا ضروری ہے کہ آئی ڈی پیز ملک بھر میں نہ پھیلیں انھیں ایک خاص علاقے تک محدود رکھا جائے کیونکہ اس بات کا خدشہ ابھی تک موجود ہے کہ دہشت گرد مہاجرین کے روپ میں ملک بھر میں دہشت گردی کی کارروائیاں کر سکتے ہیں۔
اس لیے ملک میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے یہ ناگزیر ہو چکا ہے کہ آئی ڈی پیز کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے جامع منصوبہ بندی کی جائے اور آپریشن کی تکمیل کے بعد ان کی جلد از جلد بحالی میں کسی قسم کی کوتاہی اور لاپرواہی نہ کی جائے۔ ہم ایک بار پھر کامیاب آپریشن پر افواج پاکستان کو مبارکباد پیش کرتے اور امید کرتے ہیں کہ وہ جلد از جلد اس آپریشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں کامیاب ہو جائیں گی۔
اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ فوج نے نہایت مہارت سے آپریشن میں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ملک اور قوم کو دہشت گردی کی لعنت سے نجات دلانے کے لیے آپریشن کے دوران جن فوجی افسروں اور جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے قوم ان کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔ اس آپریشن کے دوران فوج کو روز بروز نئی سے نئی کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں، عسکری ذرایع کے مطابق بدھ کو تحصیل شوال کے علاقے زوئی درہ سیر گئی میں جیٹ طیاروں کی بمباری سے 11 دہشت گرد ہلاک اور ان کے تین ٹھکانے تباہ ہو گئے۔ فوج نے میران شاہ کے 80 فیصد علاقے کو کنٹرول میں لے لیا ہے اور طالبان کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم تتر بتر کر دیا گیا ہے۔
ذرایع کے مطابق شمالی وزیرستان میں ہونے والی تازہ کارروائی میں ہلاک ہونے والوں میں اکثریت غیر ملکی جنگجوئوں کی ہے۔ یہ امر قابل ستائش اور باعث انبساط ہے کہ فوج نے میرانشاہ کے ایک بڑے حصے میں امن قائم کر دیا ہے اور امید ہے کہ بقایا 20 فیصد علاقہ بھی جلد ہی فوج کے کنٹرول میںآ جائے گا۔ میرانشاہ میں امن قائم ہونے کے بعد پہلی بار ملکی اور غیر ملکی میڈیا کو اس علاقے کا دورہ کرایا گیا اور انھیں بریفنگ میں جی سی او شمالی وزیرستان نے بتایا کہ 17 جون سے اب تک دہشت گردوں کے سو سے زائد ٹھکانے تباہ کیے گئے' شمالی وزیرستان میں القاعدہ کی موجودگی کے شواہد بھی ملے ہیں' انھوں نے واضح طور پر کہا کہ حافظ گل بہادر جہاں بھی ملے گا اسے مار دیا جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ وہ اس بات کا تعین نہیں کر سکتے کہ آپریشن کتنے ہفتوں یا مہینوں میں مکمل کر لیا جائے گا۔ عسکری ماہرین اس آپریشن میں کامیابیاں حاصل کرنے پر جہاں فوج کی قربانیوں کی تعریف کر رہے ہیں وہاں وہ اس امر کا اظہار بھی کر رہے ہیں کہ اس آپریشن کو جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے کیونکہ انھیں خدشہ ہے کہ اس میں تاخیر ہونے سے دہشت گرد عناصر کو اپنی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔ ان علاقوں میں غیر ملکی جنگجوئوں کی ایک بڑی تعداد ابھی تک موجود ہے اور آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والے غیر ملکی جنگجوئوں کی اطلاعات سے بھی اس کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔
شمالی وزیرستان میں جتنی بڑی تعداد میں بارودی فیکٹریاں اور بارودی سرنگیں پکڑی گئی ہیں اس سے یہ واضح ہو جاتاہے کہ یہ علاقہ خود کش حملہ آوروں اور دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ اور نرسری بن چکا تھا اور وہ یہاں سے نکل کر پورے ملک میں اپنی کارروائیاں کر کے خوف و ہراس پھیلا رہے تھے۔ اب اس علاقے میں دہشت گردوں کے خاتمے کے بعد یہ امید کی جا رہی ہے کہ ملک بھر میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں نمایاں کمی ہو گی اور امن و امان کی صورت حال پھر سے بحال ہو جائے گی۔ بعض ماہرین یہ خدشہ ظاہر کررہے ہیں کہ جو دہشت گرد آپریشن کی وجہ سے اس علاقے سے نکل گئے ہیں وہ کچھ عرصہ بعد موقع پا کر دوبارہ اس علاقے میں آ سکتے ہیں۔
جی سی او شمالی وزیرستان نے بی بی سی بات کرتے ہوئے وضاحت کی کہ اس علاقے کو سو فیصد سیل کرنا ممکن نہیں ہے لیکن جو عناصر یہاں سے نکل گئے ہیں انھیں علاقے میں واپس آنے نہیں دیا جائے گا۔ اس آپریشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانا ملکی سلامتی کے لیے نہایت ضروری ہے۔ ذرایع کے مطابق وزیراعظم اور آرمی چیف نے ملاقات کے دوران شمالی وزیرستان میں منطقی انجام تک پہنچنے تک آپریشن جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ تمام دہشت گرد گروپوں کا بلا تفریق خاتمہ کیا جائے گا۔ آپریشن کے باعث متاثر ہونے والے افراد کی امداد کے لیے بھی حکومت اور فوج بھرپور طور پر کام کر رہی ہیں۔
وزیراعظم کا کہنا ہے کہ آئی ڈی پیز کے لیے جامع بحالی منصوبہ وضع کر رہے ہیں تاکہ آپریشن مکمل ہونے پر عزت و وقار کے ساتھ ان کو از سر نو بحال کیا جا سکے۔ آپریشن مکمل ہونے کے بعد آئی ڈی پیز کی بحالی حکومت کے لیے ایک نیا چیلنج ہو گا۔ اس امر کو یقینی بنانا ضروری ہے کہ آئی ڈی پیز ملک بھر میں نہ پھیلیں انھیں ایک خاص علاقے تک محدود رکھا جائے کیونکہ اس بات کا خدشہ ابھی تک موجود ہے کہ دہشت گرد مہاجرین کے روپ میں ملک بھر میں دہشت گردی کی کارروائیاں کر سکتے ہیں۔
اس لیے ملک میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے یہ ناگزیر ہو چکا ہے کہ آئی ڈی پیز کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے جامع منصوبہ بندی کی جائے اور آپریشن کی تکمیل کے بعد ان کی جلد از جلد بحالی میں کسی قسم کی کوتاہی اور لاپرواہی نہ کی جائے۔ ہم ایک بار پھر کامیاب آپریشن پر افواج پاکستان کو مبارکباد پیش کرتے اور امید کرتے ہیں کہ وہ جلد از جلد اس آپریشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں کامیاب ہو جائیں گی۔