2 ہزار روپے کی مبینہ کرپشن پر بینک ملازم 7سال سے قید
اسسٹنٹ نائب صدر نیشنل بینک نے جیل میں قید شکیل کو برخاستگی کا نوٹس جاری کردیا،عدالت کا بینک حکام سے جواب طلب
بینکنگ کورٹ میں فیصلہ نہ ہوسکا، بینک ملازم جیل میں ہے، ریجنل ہیڈ نوکری پر حاضری کا نوٹس دے رہے ہیں،وکیل درخواست گزار۔ فوٹو: فائل
سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس منیب اخترا ور جسٹس شفیع صدیقی پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے اسسٹنٹ نائب صدر نیشنل بینک کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کرتے ہوئے21 اگست تک جواب طلب کرلیا۔
تفصیلات کے مطابق نیشنل بینک آف پاکستان کا ملازم صرف 2 ہزار روپے کی مبینہ کرپشن کے الزام میں 7 سال سے جیل میں قید ہے، بینکنگ کورٹ تاحال اس مقدمے کا فیصلہ نہیں کر سکی ہے، نیشنل بینک کے اسسٹنٹ نائب صدر نے جیل میں قید شکیل احمد کو ڈیوٹی پر حاضر نہ ہونے پر نوکری سے برخاستگی کا نوٹس جاری کیا ہے، 24 فروری 2014 کو سندھ ہائی کورٹ نے نیشنل بینک حیدرآباد کے ملازم شکیل احمد کی درخواست پر نیشنل بینک کے ریجنل ڈائریکٹر کو حکم دیا تھا کہ بینکنگ سروس رولز کے تحت ملزم کے خلاف کارروائی کی جائے جب تک کرپشن اور چارج شیٹ کے ذریعے ملزم پر الزام ثابت نہیں ہوتا اسے نوکری سے برخاست نہ کیا جائے۔
عدالتی احکامات کے باوجود نیشنل بینک کے اسسٹنٹ نائب صدر (اے وی پی) ریجنل ہیڈ حیدرآباد نے8 فروری کو جیل میں ملزم شکیل احمد کو عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نوٹس بھیجا کہ ملازمت پر حاضر ہوں ورنہ نوکری سے برخاست کردیا جائیگا ، عدالتی احکامات کی خلاف ورزی پر درخواست گزار کے وکیل شعاع النبی نے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی اور موقف اختیارکیا کہ نیشنل بینک میں 2 ہزار روپے کی کرپشن کا جرم ثابت نہیں ہوا اور بینک ملازم جیل میں ہے لیکن ریجنل ہیڈ حیدرآباد شکیل احمد کو نوکری پر حاضری کیلیے نوٹس بھیج رہے ہیں جوکہ توہین عدالت کے مترادف ہے، مدعا علیہان کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے اور درخواست گزار شکیل کو ملازمت سے فارغ کرنے کا خط کالعدم قراردیا جائے۔
تفصیلات کے مطابق نیشنل بینک آف پاکستان کا ملازم صرف 2 ہزار روپے کی مبینہ کرپشن کے الزام میں 7 سال سے جیل میں قید ہے، بینکنگ کورٹ تاحال اس مقدمے کا فیصلہ نہیں کر سکی ہے، نیشنل بینک کے اسسٹنٹ نائب صدر نے جیل میں قید شکیل احمد کو ڈیوٹی پر حاضر نہ ہونے پر نوکری سے برخاستگی کا نوٹس جاری کیا ہے، 24 فروری 2014 کو سندھ ہائی کورٹ نے نیشنل بینک حیدرآباد کے ملازم شکیل احمد کی درخواست پر نیشنل بینک کے ریجنل ڈائریکٹر کو حکم دیا تھا کہ بینکنگ سروس رولز کے تحت ملزم کے خلاف کارروائی کی جائے جب تک کرپشن اور چارج شیٹ کے ذریعے ملزم پر الزام ثابت نہیں ہوتا اسے نوکری سے برخاست نہ کیا جائے۔
عدالتی احکامات کے باوجود نیشنل بینک کے اسسٹنٹ نائب صدر (اے وی پی) ریجنل ہیڈ حیدرآباد نے8 فروری کو جیل میں ملزم شکیل احمد کو عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نوٹس بھیجا کہ ملازمت پر حاضر ہوں ورنہ نوکری سے برخاست کردیا جائیگا ، عدالتی احکامات کی خلاف ورزی پر درخواست گزار کے وکیل شعاع النبی نے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی اور موقف اختیارکیا کہ نیشنل بینک میں 2 ہزار روپے کی کرپشن کا جرم ثابت نہیں ہوا اور بینک ملازم جیل میں ہے لیکن ریجنل ہیڈ حیدرآباد شکیل احمد کو نوکری پر حاضری کیلیے نوٹس بھیج رہے ہیں جوکہ توہین عدالت کے مترادف ہے، مدعا علیہان کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے اور درخواست گزار شکیل کو ملازمت سے فارغ کرنے کا خط کالعدم قراردیا جائے۔