جمہوری دور میں…

صوبائی حکومتوں اور ان کے کمشنری نظام میں شامل افسروں کی طرف سے جو دعوے کیے گئے تھے وہ سب غلط ثابت ہوئے

جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے کہا ہے کہ عوام نے میاں نواز شریف کو مہنگائی بڑھانے کا مینڈیٹ نہیں دیا تھا اور موجودہ حکومت نے ایک سال میں اتنی مہنگائی بڑھا دی ہے جتنی گزشتہ حکومت نے اپنے پانچ سالوں میں بڑھائی تھی۔ آج ملک کے عوام کا سب سے بڑا مسئلہ ہوش ربا مہنگائی ہے جس کے خاتمے یا کنٹرول پر توجہ نہیں دی جارہی۔

سراج الحق کے اس بیان کی حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ موجودہ جمہوری حکومت میں مہنگائی کا نیا ریکارڈ قائم ہوا ہے اور رمضان کے مقدس ماہ میں تو انتہا ہوگئی ہے اور چاروں صوبائی حکومتیں عملی طور پر اس سلسلے میں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں اور ڈالر سستا کرنے کی دعویدار وفاقی حکومت بھی خاموش ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ 18ویں ترمیم کے بعد مہنگائی پر کنٹرول وفاقی حکومت کی نہیں بلکہ یہ اب صوبائی حکومتوں کی ذمے داری ہے اور اس سلسلے میں بااختیار ہونے کے بعد عملی طور پر کسی بھی صوبائی حکومت نے مہنگائی پر کنٹرول کی ذمے داری پوری نہیں کی اور تمام صوبائی حکومتیں اپنی نااہلی سے مہنگائی کنٹرول کرنے میں مکمل ناکام ثابت ہوئی ہیں اور مہنگائی عوام کے لیے سب سے اہم مسئلہ بن گئی ہے۔

صوبائی حکومتوں اور ان کے کمشنری نظام میں شامل افسروں کی طرف سے جو دعوے کیے گئے تھے وہ سب غلط ثابت ہوئے ہیں۔ پنجاب میں سیکڑوں سستے بازار بھی لگوائے گئے ہیں مگر کوئی خاص نتیجہ نہیں نکلا اور نہ وہاں سستی اور سرکاری نرخوں پر اشیا دستیاب ہیں۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ خود اور ان کے وزرا سستے بازاروں کے دورے بھی کر رہے ہیں مگر باقی صوبوں کے ذمے دار اپنے ٹھنڈے کمروں سے بہت کم نکل رہے ہیں اور باقی تین وزرائے اعلیٰ اور صوبائی وزیروں کو بھی فرصت نہیں مل رہی ۔

ملک بھر میں حکومتی دعوے اس بار بھی پورے نہیں ہوئے اور مہنگائی نے عوام کا جینا حرام کررکھا ہے۔ مہنگائی اب وفاقی حکومت کا شاید مسئلہ نہیں مگر مہنگائی بڑھانے کے اسباب پیدا کرنا ہی وفاقی حکومت کا کام رہ گیا ہے جس نے تین روز میں ایل پی جی روزانہ مہنگی کرنے کا ریکارڈ قائم کیا ہے جب کہ ہر ماہ پٹرولیم مصنوعات کے نرخ وفاقی حکومت بڑھاتی ہے مگر حکومت نے جون جولائی میں نرخ بڑھانے کی اوگرا کی سمری مسترد کردی تھی۔ اگر جون جولائی میں پٹرولیم نرخ بڑھتے تو مہنگائی نے قیامت ڈھا دینی تھی۔


رمضان المبارک میں خدا کا خوف نہ رکھنے والے گراں فروشوں نے حد کردی ہے۔ پھل اور سبزیوں کے دام پوچھنے پر کلو میں نہیں بلکہ پاؤ میں بتائے جاتے ہیں۔ سردا، گرما سو روپے، تربوز پچاس روپے، خربوزہ ساٹھ تا ستر روپے کلو میں اور کیلے مجبوری میں سو روپے درجن تک ضرور بتائے جاتے ہیں جب کہ انگور، خوبانی اور آلو بخارہ ساٹھ روپے پاؤ بتایا جاتا ہے تاکہ خریدار چکرا نہ جائے اور اگر یہی حال رہا تو پھل دیگر ممالک کی طرح فی دانہ فروخت ہونے لگیں گے۔

رمضان میں آلو کا استعمال بڑھ جاتا ہے اور رمضان میں آلو کے بڑھے ہوئے نرخوں کا بھی نیا ریکارڈ قائم ہوا ہے اور وفاقی وزیر خزانہ آلو کے نرخ بھی کم نہیں کراسکے ہیں۔ آلو ہمیشہ کم قیمت سبزی میں شمار ہوتا تھا جس کی ڈیمانڈ بڑھانے میں چپس اور فنگر چپس بنانے والوں نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے اور یہ سستی سبزی بھی غریبوں کی پہنچ سے دور ہوگئی ہے جو ہمیشہ سب سے زیادہ سستا ہوا کرتا تھا۔ یہی حال پیاز کا ہے جس کا استعمال پکوڑوں کی وجہ سے رمضان میں بڑھ جاتا ہے۔ ہماری بدقسمتی کہ زرعی ملک ہوتے ہوئے بھی ہم سبزیوں کے معاملے میں خودکفیل نہیں ہیں اور آلو، پیاز سمیت متعدد سبزیاں بھارت سے منگوانے پر مجبور ہیں۔ ملک بھر میں آٹا مختلف نرخوں پر دستیاب ہے اور پنجاب حکومت نے آٹا سستے داموں فروخت کرانے کے جو دعوے کیے تھے اس پر بھی عمل نہیں ہوسکا اور پنجاب میں آٹا پھر مہنگا کردیا گیا ہے۔

سندھ اور کراچی میں تو حکومت کا وجود نظر نہیں آتا۔ کمشنر کراچی خود مارکیٹوں اور بازاروں میں اشیائے ضرورت کے نرخ چیک کرتے نظر آتے ہیں۔ ان کی چیکنگ کے دوران بعض گراں فروش ٹھیلے پتھارے چھوڑ کر بھاگ گئے تو انھوں نے ان کے پھل موجود لوگوں میں مفت تقسیم کرادیے جس پر تنقید بھی ہوئی ہے مگر گراں فروشوں کا اور کوئی علاج بھی تو نظر نہیں آتا۔ گراں فروشوں نے ڈھٹائی کی حد کر رکھی ہے اور وہ اپنی آنکھیں ماتھے پر رکھ کر نرخ بتاتے ہیں اور کوئی شرم محسوس نہیں کرتے۔

میڈیا گراں فروشی روکنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے اور اضلاع کے متعلقہ افسران بھی بازاروں میں چیک کرنے جاتے ہیں تو سرکاری نرخوں پر عمل ہونے لگتا ہے۔ جن گراں فروشوں پر جرمانے ہوتے ہیں ان سے حکومت کا خزانہ ضرور بڑھ جاتا ہے مگر صارفین کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ جرمانہ کرکے چلے جانے والے افسروں اور میڈیا کے بعد جرمانے کی رقم بمع سود وصول کرنے کے لیے گراں فروش نرخ مزید بڑھا دیتے ہیں۔ میڈیا اور متعلقہ افسروں کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ ہر جگہ موجود ہوں۔ ان کی موجودگی میں تو لوگوں کو کم یا سرکاری نرخوں پر اشیا مل جاتی ہیں اور ان کے جانے کے بعد منہ مانگے نرخوں پر عوام کو لوٹنے کا سلسلہ پھر شروع ہوجاتا ہے۔

یہ بھی درست ہے کہ کسی حد تک صارفین بھی مہنگائی کے ذمے دار ہیں مگر وہ صارفین اقلیت میں ہیں جو پوش علاقوں میں رہتے ہیں کاروں میں بیٹھے نرخ پوچھے بغیر آرڈر دیتے ہیں اور بل کی ادائیگی کرکے ٹپ بھی دے جاتے ہیں۔ صارفین کی اکثریت بھاؤ تاؤ کرتی ہے۔ مجبوری میں کچھ نہ کچھ خریداری کرتے ہیں یا بغیر خریداری حکومت کو کوستے ہوئے خالی لوٹ جاتے ہیں۔ کراچی میں پہلی بار ایک بازار کے آرگنائزر پر گراں فروشی کی وجہ سے ایک لاکھ روپے جرمانہ ضرور ہوا مگر سرکاری بازاروں میں گرانی پر کنٹرول نہ ہوسکا۔ کپڑے، گارمنٹس اور راشن، مصالحے فروخت کرنے والے تو کبھی گرفت میں نہیں آتے اور عوام ہر جگہ لوٹے جا رہے ہیں اور جمہوری حکومتوں نے گراں فروشوں کو شاید جمہوریت کی وجہ سے ہی عوام کو لوٹنے کی آزادی دے رکھی ہے مگر اس آزادی کی سزا انھیں ووٹ دینے والوں کو بھگتنا پڑ رہی ہے۔
Load Next Story