ٹریفک پولیس نے نو پارکنگ کے نام پر گاڑیاں اٹھانی شروع کردیں

شاپنگ سینٹروں کے باہر سے لفٹر کے ذریعے موٹرسائیکلیں اٹھالی جاتی ہیں،فی بائیک 450 روپے وصول کیے جانے لگے

صدر میں ریگل چوک سے ٹریفک پولیس اہلکار موٹر سائیکلیں اٹھا رہے ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس

ٹریفک پولیس نے ٹریفک جام پر قابو پانے کی بجائے اہم شاپنگ سینٹروں کے باہر سے موٹر سائیکلیں اور گاڑیاں اٹھاکر اپنی جیبیں بھرنے پر توجہ مرکوز کردی ہے۔

نو پارکنگ کے نام پر موٹر سائیکلیں اور گاڑیاں اٹھا کر نہ صرف شہریوں کو بلاجواز تنگ کیا جاتا ہے بلکہ ان سے بھاری رقوم وصول کی جاتی ہیں ، پریشان حال شہری جب متعلقہ ٹریفک سیکشن پہنچتے ہیں تو وہاں ان سے فی بائیک 450 روپے سے 300 روپے تک وصول کیے جاتے ہیں ، شہریوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے بدعنوان افسران کو فوری طور پر عہدے سے ہٹا کر برطرف کیا جائے ، تفصیلات کے مطابق رمضان المبارک کا احترام جہاں ہر مسلمان پر فرض ہے تو وہیں ٹریفک پولیس اس ماہ مبارک میں بھی اپنے تمام تر فرائض سے غافل نظر آرہی ہے۔

شہری بدترین ٹریفک جام میں پھنسے رہتے ہیں اور ٹریفک پولیس افسران شاہراہوں سے غائب رہتے ہیں ، رمضان المبارک میں ٹریفک پولیس نے شہر کے معروف شاپنگ سینٹروں کے باہر سے نو پارکنگ کے نام پر موٹر سائیکلیں لفٹر کے ذریعے اٹھا کر لے جانا شروع کردی ہیں ، شاپنگ کرکے سینٹر سے باہر آنے والے شہری اپنی موٹر سائیکل نہ پا کر انتہائی پریشان ہوجاتے ہیں جس پر وہ معلومات حاصل کرتے ہیں اور متعلقہ ٹریفک سیکشن پہنچتے ہیں۔


اس سلسلے میں پریڈی ٹریفک سیکشن اور رسالہ ٹریفک سیکشن انتہائی بدنام ہیں اور وہاں پر تعینات سیکشن افسران نے تمام توجہ نوپارکنگ سے گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں اٹھانے پر مرکوز کی ہوئی ہیں ، پارکنگ لاٹ میں موجود اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ان پر کسی بھی دبائو کا کوئی فرق نہیں پڑتا، روزانہ کی بنیاد پر حاصل ہونے والے آمدنی کا حصہ مبینہ طور پر اعلیٰ افسران تک پہنچتا ہے اگر کوئی ہماری شکایت بھی کر دیتا ہے تو وہ آنکھیں بند کرلیتے ہیں۔

صدر کے علاقے میں ریگل چوک اور اطراف سے پریڈی ٹریفک سیکشن کے اہلکار پریڈی تھانے سے چند قدم کے فاصلے پر فٹ پاتھ کے ساتھ ہی موٹر سائیکلیں پارک کرلیتے ہیں جبکہ سول اسپتال اور اطراف کے علاقوں سے رسالہ ٹریفک سیکشن کے اہلکار لفٹر کے ذریعے موٹر سائیکلیں اٹھا کر لیجاتے ہیں جبکہ پارکنگ ایریا میں گاڑیاں دھونے والوں کو بھی ٹریفک پولیس کی مکمل سرپرستی حاصل ہوتی ہے اور وہ بلا خوف و خطر گاڑیاں پارک کرنے والوں سے دھلائی کے نام پر پیسے وصول کرتے ہیں اور ان کی گاڑیوں کو ٹریفک پولیس نہیں اٹھاتی۔

شہری جب متعلقہ ٹریفک سیکشن پہنچتے ہیں تو وہاں موجود افسران و اہلکار انتہائی تضحیک کا مظاہرہ کرتے ہیں اور شہریوں سے فی موٹر سائیکل 450 روپے سے 300 روپے تک وصول کیے جاتے ہیں ، شہریوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے بدعنوان افسران کو نہ صرف معطل کیا جائے بلکہ ان کی جگہ پر اہل اور دیانتدار افسران کو تعینات کیا جائے۔
Load Next Story