وزیراعظم یوتھ لون اسکیم کے 8 ہزار کامیاب امیدواروں کو قرضے جاری نہ ہوسکے
مجموعی طور پر2440 امیدواروں کوایک ارب41 کروڑ روپے ملے، نیشنل بینک حکام کی بریفنگ
لون اسکیم کے تحت57307 درخواستیں موصول ہوئیں، 24739 مستردہوئیں، پہلی قرعہ اندازی میں 5350 امیدوار،دوسری میں 5092 امیدوارکامیاب ہوئے۔ فوٹو: اے پی پی/فائل
SUKKUR:
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میںانکشاف کیاگیاہے کہ وزیراعظم یوتھ بزنس لون اسکیم کے 8 ہزارسے زائدکامیاب امیدواروں کو قرضے جاری نہ ہوسکے۔
وزیراعظم یوتھ بزنس لون اسکیم کی پہلی اوردوسری قرعہ اندازی میںکل10442 کامیاب امیدواروںمیںصرف2440 نوجوانوں کو ایک ارب 41 کروڑ 10 لاکھ روپے کے قرضے جاری ہوئے ہیں،علاوہ ازیں 9 ارب روپے کے فراڈ پربنگلہ دیش میںنیشنل بینک آف پاکستان کی شاخ کے جنرل منیجرکومعطل کردیاگیاہے،قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کااجلاس چیئرمین عمرایوب کی زیر صدارت ہوا،نیشنل بینک کے صدر نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایاکہ نیشنل بینک کی 20 اسلامی شاخوںسمیت 1344 شاخیںملک بھر میں کام کررہی ہیں،19ممالک میںبینک کے 31دفاتربھی قائم کیے گئے ہیں۔
کمیٹی نے بینک کی طرف سے شہروں کی نسبت دیہی علاقوں کیلیے زرعی قرضوںکے اجرا کی صورتحال پرتحفظات کااظہارکیااوربینک کی انتظامیہ کوہدایت کی کہ وہ اس سلسلے میں تفصیلی رپورٹ پیش کریں، کمیٹی نے دانیال عزیزکی سربراہی میںذیلی کمیٹی بھی تشکیل دی جومعاملے کاجائزہ لے کررپورٹ پیش کریگی،کمیٹی نے ہدایت کی کہ چھوٹے اوردرمیانے درجے کے زیادہ سے زیادہ قرضے فراہم کیے جائیں، حکومتی رکن دانیال عزیزنے کہا کہ عوام کوآلو،ٹماٹرنہیںمل رہے،قرضہ کیاملے گا؟بنگلہ دیش آپریشن میں9 ارب روپے کے قرضے ڈوبنے،یو بی ایل کیساتھ ملکربیرون ملک ایک کروڑ 40 لاکھ پائونڈزکی سرمایہ کاری اوراندرون ملک ڈوبے ہوئے بڑے قرضوںکی رپورٹ آئندہ اجلاس میںطلب کرلی گئی۔
نیشنل بینک کے صدر سید احمد اقبال اشرف نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایاکہ نیشنل بینک کے پاس پورے ملک کے 13 فیصدڈپازٹ موجود ہیںجبکہ 16 فیصدچھوٹی ودرمیانی کمپنیوں کے ڈیپازٹ بھی ہمارے پاس ہیں،انھوںنے کہا کہ گذشتہ دس سال کے دوران نیشنل بینک نے 208 ارب روپے منافع کمایاجبکہ 64 ارب روپے حکومت پاکستان کوٹیکس اداکیااور 36 ارب روپے منافع سے حصہ دیا،چیئرمین عمر ایوب نے کہا کہ نیشنل بینک کے بنگلہ دیش آپریشن میںاربوں روپے ڈوبنے کی اطلاعات ہیںجس پر بنگلہ دیش آپریشن کے انچارج ضیا اللہ نے بتایاکہ 2006 سے لیکر 2011کے دوران بنگلہ دیش میںنیشنل بینک کے 9 ارب روپے ڈوب گئے جبکہ ذمے داران کو سزائیںبھی دی گئی ہیںجس پر قائمہ کمیٹی نے بنگلہ دیش آپریشن میںڈوب جانیوالے قرضوں اورذمہ داران کیخلاف ایکشن کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ پیش کرنیکی ہدایت کی۔
چیئرمین نے کہاکہ بیرون ملک یو بی ایل کیساتھ مل کر ایک کروڑ 40 لاکھ پائونڈ کی سرمایہ کاری بارے بھی رپورٹ پیش کی جائے،گذشتہ مالی سال کے دوران نیشنل بینک سے جاری ہونیوالے 92 ارب روپے کے زرعی قرضوںکی تفصیلات بھی بتائی جائیں۔
نیشنل بینک حکام نے بتایا کہ وزیر اعظم یوتھ لون اسکیم کے تحت 57307 درخواستیں موصول ہوئیںجن میں سے 24739 مسترد ہوئیں،وزیراعظم یوتھ لون اسکیم کی پہلی قرعہ اندازی میں 5350 امیدوارجبکہ دوسری قرعہ اندازی میں 5092 امیدوار قرضے کے حقدار ٹھہرے جبکہ اب تک مجموعی طور پر2440 امیدواروں کوایک ارب 41 کروڑ 10 لاکھ روپے کے قرضے جاری ہوچکے ہیںجن میں ایک ارب 34 کروڑدس لاکھ روپے کے قرضے پہلی قرعہ اندازی کے کامیاب امیدواروں کو جبکہ چھ کروڑ 90 لاکھ روپے کے قرضے دوسری قرعہ اندازی کے کامیاب امیدواروں کو جاری ہوئے۔
ادھرقائمہ کمیٹی سینیٹ مواصلات کے چیئرمین دائودخان اچکزئی نے کمیٹی کے اجلاس میں وزیر مواصلات ،سیکریٹری خزانہ،سیکریٹری منصوبہ بندی کمیشن کی عدم شرکت پرنوٹس لیتے ہوئے اراکین کمیٹی کے متفقہ فیصلے کے تحت سیکریٹری خزانہ،سیکریٹری منصوبہ بندی کمیشن کیخلاف تادیبی کارروائی کرنے کیلیے وزیراعظم کوخط لکھنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہاکہ تمام وزارتوںکی ماںمنصوبہ بندی کمیشن اوربجٹ کی منظوری دینے والی وزارت کے سیکریٹریزقومی مسائل کے حل کیلیے منعقدہونیوالے قائمہ کمیٹی کے اجلاسوںمیںجان بوجھ کرشرکت نہیںکرتے جو پارلیمنٹ کے وقارکوکم کرنے کے مترادف ہے۔
کمیٹی کااجلاس چیئرمین قائمہ کمیٹی سینیٹردائودخان اچکزئی کی صدرات میںہواجس میںوزارت خزانہ کے ڈپٹی سیکریٹری ،منصوبہ بندی کمیشن کے چیف ٹرانسپورٹ آفیسرکی شرکت پراراکین نے متفقہ طورپرغصے کا اظہار کرتے ہوئے قرار دیا کہ جونیئرافسران کمیٹی کے اجلاس میںشرکت نہیں کر سکتے ، چیئرمین نے کہاکہ پچھلے اجلاس میںوزیرمملکت اراکین سے لڑرہے تھے آج کے اجلاس میں خود موجود نہیں، سرکاری ممبر نثار محمد خان نے کہاکہ اگراگلے اجلاس میں متعلقہ دونوں سیکریٹریزنہ آئے تومیںاجلاس میںشرکت نہیں کرونگا اور کہا کہ بیوروکریسی کواپناقبلہ درست کرنا چاہیے۔
سینیٹرکامل علی آغانے کہاکہ غیر حاضر دونوں سیکریٹریوں کی باز پرس کی جائے اوروزیر اعظم کو تحریری طورپرآگاہ کیاجائے جس پر قائمہ کمیٹی کے اراکین نے متفقہ طورپرقراردیاکہ دونوں غیر حاضر سیکریٹریوں کیخلاف کارروائی کیلیے خط لکھا جائے،چیئرمین نے کہا کہ قائمہ کمیٹی اوراین ایچ اے کی مشترکہ پالیسی بنا کر عمل کروانامقصدہے تاکہ یکساںطورپرمعاملات چلائے جا سکیں۔ ادھرقومی اسمبلی کی ذیلی کمیٹی برائے نیشنل ہیلتھ سروسز ریگولیشن اینڈ کوآرڈینیشن کا اجلاس کنوینرڈاکٹر رمیش کمارکی زیرصدارت ہوا تو ایڈزکنٹرول پروگرام کے منیجر ڈاکٹر عبدالبصیراچکزئی نے کنوینرسے کہاکہ میڈیاکی رپورٹنگ کی وجہ سے مسائل پیداہورہے ہیں۔
کمیٹی میں اس وقت ایک ہی رکن اسمبلی عبد القہارخان شریک تھے،انھوںنے کہہ ڈالا کہ میڈیاکوچھوڑیں ،ہمیںانکی ضرورت نہیں،کوئی کام کی بات ہے تواجلاس شروع کیاجائے،انھوںنے کنوینرسے کہاکہ آئندہ اجلاس رمضان کے بعد ہونگے،اسی دوران رکن اسمبلی اور ایڈز کنٹرول پروگرام کے منیجرعبدالبصیراچکزئی اور ملیریا کے انچارج ڈاکٹراسلم خان نے علاقائی زبان میںگفتگو شروع کر دی جس پرمیڈیا کے نمائندے احتجاجاً اجلاس سے باہر آگئے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میںانکشاف کیاگیاہے کہ وزیراعظم یوتھ بزنس لون اسکیم کے 8 ہزارسے زائدکامیاب امیدواروں کو قرضے جاری نہ ہوسکے۔
وزیراعظم یوتھ بزنس لون اسکیم کی پہلی اوردوسری قرعہ اندازی میںکل10442 کامیاب امیدواروںمیںصرف2440 نوجوانوں کو ایک ارب 41 کروڑ 10 لاکھ روپے کے قرضے جاری ہوئے ہیں،علاوہ ازیں 9 ارب روپے کے فراڈ پربنگلہ دیش میںنیشنل بینک آف پاکستان کی شاخ کے جنرل منیجرکومعطل کردیاگیاہے،قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کااجلاس چیئرمین عمرایوب کی زیر صدارت ہوا،نیشنل بینک کے صدر نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایاکہ نیشنل بینک کی 20 اسلامی شاخوںسمیت 1344 شاخیںملک بھر میں کام کررہی ہیں،19ممالک میںبینک کے 31دفاتربھی قائم کیے گئے ہیں۔
کمیٹی نے بینک کی طرف سے شہروں کی نسبت دیہی علاقوں کیلیے زرعی قرضوںکے اجرا کی صورتحال پرتحفظات کااظہارکیااوربینک کی انتظامیہ کوہدایت کی کہ وہ اس سلسلے میں تفصیلی رپورٹ پیش کریں، کمیٹی نے دانیال عزیزکی سربراہی میںذیلی کمیٹی بھی تشکیل دی جومعاملے کاجائزہ لے کررپورٹ پیش کریگی،کمیٹی نے ہدایت کی کہ چھوٹے اوردرمیانے درجے کے زیادہ سے زیادہ قرضے فراہم کیے جائیں، حکومتی رکن دانیال عزیزنے کہا کہ عوام کوآلو،ٹماٹرنہیںمل رہے،قرضہ کیاملے گا؟بنگلہ دیش آپریشن میں9 ارب روپے کے قرضے ڈوبنے،یو بی ایل کیساتھ ملکربیرون ملک ایک کروڑ 40 لاکھ پائونڈزکی سرمایہ کاری اوراندرون ملک ڈوبے ہوئے بڑے قرضوںکی رپورٹ آئندہ اجلاس میںطلب کرلی گئی۔
نیشنل بینک کے صدر سید احمد اقبال اشرف نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایاکہ نیشنل بینک کے پاس پورے ملک کے 13 فیصدڈپازٹ موجود ہیںجبکہ 16 فیصدچھوٹی ودرمیانی کمپنیوں کے ڈیپازٹ بھی ہمارے پاس ہیں،انھوںنے کہا کہ گذشتہ دس سال کے دوران نیشنل بینک نے 208 ارب روپے منافع کمایاجبکہ 64 ارب روپے حکومت پاکستان کوٹیکس اداکیااور 36 ارب روپے منافع سے حصہ دیا،چیئرمین عمر ایوب نے کہا کہ نیشنل بینک کے بنگلہ دیش آپریشن میںاربوں روپے ڈوبنے کی اطلاعات ہیںجس پر بنگلہ دیش آپریشن کے انچارج ضیا اللہ نے بتایاکہ 2006 سے لیکر 2011کے دوران بنگلہ دیش میںنیشنل بینک کے 9 ارب روپے ڈوب گئے جبکہ ذمے داران کو سزائیںبھی دی گئی ہیںجس پر قائمہ کمیٹی نے بنگلہ دیش آپریشن میںڈوب جانیوالے قرضوں اورذمہ داران کیخلاف ایکشن کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ پیش کرنیکی ہدایت کی۔
چیئرمین نے کہاکہ بیرون ملک یو بی ایل کیساتھ مل کر ایک کروڑ 40 لاکھ پائونڈ کی سرمایہ کاری بارے بھی رپورٹ پیش کی جائے،گذشتہ مالی سال کے دوران نیشنل بینک سے جاری ہونیوالے 92 ارب روپے کے زرعی قرضوںکی تفصیلات بھی بتائی جائیں۔
نیشنل بینک حکام نے بتایا کہ وزیر اعظم یوتھ لون اسکیم کے تحت 57307 درخواستیں موصول ہوئیںجن میں سے 24739 مسترد ہوئیں،وزیراعظم یوتھ لون اسکیم کی پہلی قرعہ اندازی میں 5350 امیدوارجبکہ دوسری قرعہ اندازی میں 5092 امیدوار قرضے کے حقدار ٹھہرے جبکہ اب تک مجموعی طور پر2440 امیدواروں کوایک ارب 41 کروڑ 10 لاکھ روپے کے قرضے جاری ہوچکے ہیںجن میں ایک ارب 34 کروڑدس لاکھ روپے کے قرضے پہلی قرعہ اندازی کے کامیاب امیدواروں کو جبکہ چھ کروڑ 90 لاکھ روپے کے قرضے دوسری قرعہ اندازی کے کامیاب امیدواروں کو جاری ہوئے۔
ادھرقائمہ کمیٹی سینیٹ مواصلات کے چیئرمین دائودخان اچکزئی نے کمیٹی کے اجلاس میں وزیر مواصلات ،سیکریٹری خزانہ،سیکریٹری منصوبہ بندی کمیشن کی عدم شرکت پرنوٹس لیتے ہوئے اراکین کمیٹی کے متفقہ فیصلے کے تحت سیکریٹری خزانہ،سیکریٹری منصوبہ بندی کمیشن کیخلاف تادیبی کارروائی کرنے کیلیے وزیراعظم کوخط لکھنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہاکہ تمام وزارتوںکی ماںمنصوبہ بندی کمیشن اوربجٹ کی منظوری دینے والی وزارت کے سیکریٹریزقومی مسائل کے حل کیلیے منعقدہونیوالے قائمہ کمیٹی کے اجلاسوںمیںجان بوجھ کرشرکت نہیںکرتے جو پارلیمنٹ کے وقارکوکم کرنے کے مترادف ہے۔
کمیٹی کااجلاس چیئرمین قائمہ کمیٹی سینیٹردائودخان اچکزئی کی صدرات میںہواجس میںوزارت خزانہ کے ڈپٹی سیکریٹری ،منصوبہ بندی کمیشن کے چیف ٹرانسپورٹ آفیسرکی شرکت پراراکین نے متفقہ طورپرغصے کا اظہار کرتے ہوئے قرار دیا کہ جونیئرافسران کمیٹی کے اجلاس میںشرکت نہیں کر سکتے ، چیئرمین نے کہاکہ پچھلے اجلاس میںوزیرمملکت اراکین سے لڑرہے تھے آج کے اجلاس میں خود موجود نہیں، سرکاری ممبر نثار محمد خان نے کہاکہ اگراگلے اجلاس میں متعلقہ دونوں سیکریٹریزنہ آئے تومیںاجلاس میںشرکت نہیں کرونگا اور کہا کہ بیوروکریسی کواپناقبلہ درست کرنا چاہیے۔
سینیٹرکامل علی آغانے کہاکہ غیر حاضر دونوں سیکریٹریوں کی باز پرس کی جائے اوروزیر اعظم کو تحریری طورپرآگاہ کیاجائے جس پر قائمہ کمیٹی کے اراکین نے متفقہ طورپرقراردیاکہ دونوں غیر حاضر سیکریٹریوں کیخلاف کارروائی کیلیے خط لکھا جائے،چیئرمین نے کہا کہ قائمہ کمیٹی اوراین ایچ اے کی مشترکہ پالیسی بنا کر عمل کروانامقصدہے تاکہ یکساںطورپرمعاملات چلائے جا سکیں۔ ادھرقومی اسمبلی کی ذیلی کمیٹی برائے نیشنل ہیلتھ سروسز ریگولیشن اینڈ کوآرڈینیشن کا اجلاس کنوینرڈاکٹر رمیش کمارکی زیرصدارت ہوا تو ایڈزکنٹرول پروگرام کے منیجر ڈاکٹر عبدالبصیراچکزئی نے کنوینرسے کہاکہ میڈیاکی رپورٹنگ کی وجہ سے مسائل پیداہورہے ہیں۔
کمیٹی میں اس وقت ایک ہی رکن اسمبلی عبد القہارخان شریک تھے،انھوںنے کہہ ڈالا کہ میڈیاکوچھوڑیں ،ہمیںانکی ضرورت نہیں،کوئی کام کی بات ہے تواجلاس شروع کیاجائے،انھوںنے کنوینرسے کہاکہ آئندہ اجلاس رمضان کے بعد ہونگے،اسی دوران رکن اسمبلی اور ایڈز کنٹرول پروگرام کے منیجرعبدالبصیراچکزئی اور ملیریا کے انچارج ڈاکٹراسلم خان نے علاقائی زبان میںگفتگو شروع کر دی جس پرمیڈیا کے نمائندے احتجاجاً اجلاس سے باہر آگئے۔