جشن آزادی کی تقریبات منانے کا فیصلہ
دو ہفتے کی طویل جشن آزادی کی تقریبات ملک بھر میں منائی جائیں گی
تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے حوالے سے بھی یقینا حکومت نے کوئی منصوبہ بندی کر رکھی ہو گی، فوٹو:فائل
وفاقی حکومت نے جشن آزادی کی تقریبات 2 ہفتے تک منانے کا فیصلہ کیا ہے، بڑی تقریب 14اگست کو ڈی چوک اسلام آباد میں ہوگی، وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اس تقریب سے خطاب کریں گے۔ ذرائع کے مطابق دو ہفتے کی طویل جشن آزادی کی تقریبات ملک بھر میں منائی جائیں گی۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے والی تقریب میں مسلح افواج کے سربراہان، سفراء اور اہم شخصیات بھی شریک ہوں گی۔ ملک بھر میں ہونے والی جشن آزادی کی تقریبات میں ملی نغمے، ترانے اور ملکی ثقافت کے فروغ پرمبنی پروگرام ہوں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جشن آزادی تقریبات منانے کا فیصلہ وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس میں ہوا۔ ذرائع کے مطابق دوہفتے کی تقریبات میں یہ امر نمایاں ہوگا کہ آزاد قومیں جشن آزادی کیسے مناتی ہیں، اس کا عملی اظہار دیکھنے کو ملے گا۔ وزیراعظم پاکستان اپنے خطاب میں دہشت گردی کے خلاف عزم کا اعادہ کریں گے اور شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ضرب عضب کے حوالے سے پوری مسلح افواج سے اظہار یکجہتی اور دنیا کو یہ پیغام دیا جائے گا کہ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف متحد ہے۔ طویل عرصہ کے بعد 14 اگست کے موقع پر آزادی کی تقریبات منائی جائیں گی۔
ذرائع کے مطابق تقریبات کی مزید منصوبہ بندی کی جارہی ہے اور ان تقریبات میں قومی امنگوں ، نظریات، قومی یکجہتی اور اتفاق و اتحاد کے پیغامات نمایاں ہوں گے۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید کو ان تمام تقاریب کے لیے انچارج بنایا گیاہے۔ وہ ان تقاریب کے انتظامات کریں گے۔ ایک نجی چینل کے مطابق وفاقی وزیراطلاعات پرویز رشید نے کہا ہے کہ ماضی کی تمام حکومتیں 14 اگست مناتی رہی ہیں، ہم بھی یوم آزادی شایان شان طریقے سے منائیں گے، یوم آزادی کی تقریبات سے کسی لانگ مارچ کا تعلق نہیں، 14 اگست تب سے منایا جا رہا ہے جب لانگ مارچ ابھی پیدا بھی نہیں ہوا تھا، ڈی چوک میں 14اگست کی تقریب کرانے کا اعلان ایک سال پہلے کردیا تھا۔
بلاشبہ 14 اگست پوری قوم کے لیے خوشی و مسرت کا دن ہے کیونکہ اس روز پاکستان نے آزادی حاصل کی تھی، اگر موجودہ حکومت نے اس دن کے حوالے سے دو ہفتے تک تقریبات کے انعقاد کا پروگرام بنایا ہے تو یہ مثبت پیش رفت ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق جشن آزادی کی مرکزی تقریب اسلام آباد کے ڈی چوک میں ہو گی۔ بہرحال ملک میں امن و امان کی موجودہ صورت حال اور سیاسی حالات کے پیش نظر حکومت کو اس تقریب کے لیے غیرمعمولی حفاظتی اقدامات کرنے ہوں گے۔
ادھر تحریک انصاف نے 14 اگست کو لانگ مارچ کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔ اس لیے بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ شاید حکومت نے اس لانگ مارچ کو کاؤنٹر کرنے کے لیے 14اگست کو اسلام آباد کے ڈی چوک اور ملک کے دیگر شہروں میں تقریب منانے کا اعلان کیا ہے۔ جہاں تک حکومت کا تعلق ہے تو ہر حکومت 14 اگست کی مناسبت سے تقاریب کا انعقاد کرتی ہے تاہم پچھلے کچھ عرصے سے یہ حفاظتی نقطہ نظر سے اسلام آباد میں تقریب کنونشن سینٹر تک محدود ہو گئی تھی۔ بہرحال حکومت نے اب وسیع پیمانے پر جشن آزادی منانے کا فیصلہ کیا ہے تو یہ سراہے جانے کے قابل ہے۔
تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے حوالے سے بھی یقینا حکومت نے کوئی منصوبہ بندی کر رکھی ہو گی۔ ممکن ہے کہ حکومت یہ سمجھ رہی ہو کہ لانگ مارچ اپنی جگہ ہوتا رہے، اس کا جشن آزادی کی تقریبات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ 14 اگست ایک قومی دن ہے اور اسے ہر سیاسی جماعت اور تنظیم کو منانا چاہیے۔ اس وقت شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ہو رہا ہے اور خدشہ ہے کہ بڑی تعداد میں دہشت گرد فرار ہو کر ملک کے دیگر حصوں میں پھیل گئے ہیں۔ ادھر تحریک انصاف نے لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔ اس سارے منظرنامے کو سامنے رکھا جائے تو بہت سے خطرات و خدشات جنم لیتے ہیں۔ موجودہ صورت حال کا تقاضا یہ ہے کہ حالات پر گہری نظر رکھی جائے، اس وقت پاک فوج کا ساتھ دینے کی بھی ضرورت ہے تاکہ وہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن میں خود کو تنہا نہ سمجھے اور ادھر دہشت گرد قوتوں کو بھی پیغام دینا ہے کہ قوم ان سے کسی قسم کا خطرہ محسوس نہیں کر رہی ہے۔
اخباری اطلاعات کے مطابق حکومت کے پروگرام کے مطابق اسلام آباد میں جشن آزادی کی تقریب میں وزیراعظم اپنے خطاب میں دہشت گردی کے خلاف عزم کا اعادہ کریں گے۔ یہ بہت اچھی بات ہے۔ اس تقریب کے انعقاد سے دنیا کو یہ پیغام بھی جائے گا کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کے خطرات کم ہوئے ہیں، زیادہ نہیں۔ بہرحال اس انتہائی اہم موقع پر حکومت اور ملک کی اپوزیشن جماعتوں کو گہرے غور و فکر کے بعد ایسا لائحہ عمل اختیار کرنا چاہیے جس سے جشن آزادی کی تقریبات متاثر نہ ہوں اور ملک میں گھیراؤ جلاؤ یا تصادم کی صورت حال بھی پیدا نہ ہو۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جشن آزادی تقریبات منانے کا فیصلہ وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس میں ہوا۔ ذرائع کے مطابق دوہفتے کی تقریبات میں یہ امر نمایاں ہوگا کہ آزاد قومیں جشن آزادی کیسے مناتی ہیں، اس کا عملی اظہار دیکھنے کو ملے گا۔ وزیراعظم پاکستان اپنے خطاب میں دہشت گردی کے خلاف عزم کا اعادہ کریں گے اور شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ضرب عضب کے حوالے سے پوری مسلح افواج سے اظہار یکجہتی اور دنیا کو یہ پیغام دیا جائے گا کہ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف متحد ہے۔ طویل عرصہ کے بعد 14 اگست کے موقع پر آزادی کی تقریبات منائی جائیں گی۔
ذرائع کے مطابق تقریبات کی مزید منصوبہ بندی کی جارہی ہے اور ان تقریبات میں قومی امنگوں ، نظریات، قومی یکجہتی اور اتفاق و اتحاد کے پیغامات نمایاں ہوں گے۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید کو ان تمام تقاریب کے لیے انچارج بنایا گیاہے۔ وہ ان تقاریب کے انتظامات کریں گے۔ ایک نجی چینل کے مطابق وفاقی وزیراطلاعات پرویز رشید نے کہا ہے کہ ماضی کی تمام حکومتیں 14 اگست مناتی رہی ہیں، ہم بھی یوم آزادی شایان شان طریقے سے منائیں گے، یوم آزادی کی تقریبات سے کسی لانگ مارچ کا تعلق نہیں، 14 اگست تب سے منایا جا رہا ہے جب لانگ مارچ ابھی پیدا بھی نہیں ہوا تھا، ڈی چوک میں 14اگست کی تقریب کرانے کا اعلان ایک سال پہلے کردیا تھا۔
بلاشبہ 14 اگست پوری قوم کے لیے خوشی و مسرت کا دن ہے کیونکہ اس روز پاکستان نے آزادی حاصل کی تھی، اگر موجودہ حکومت نے اس دن کے حوالے سے دو ہفتے تک تقریبات کے انعقاد کا پروگرام بنایا ہے تو یہ مثبت پیش رفت ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق جشن آزادی کی مرکزی تقریب اسلام آباد کے ڈی چوک میں ہو گی۔ بہرحال ملک میں امن و امان کی موجودہ صورت حال اور سیاسی حالات کے پیش نظر حکومت کو اس تقریب کے لیے غیرمعمولی حفاظتی اقدامات کرنے ہوں گے۔
ادھر تحریک انصاف نے 14 اگست کو لانگ مارچ کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔ اس لیے بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ شاید حکومت نے اس لانگ مارچ کو کاؤنٹر کرنے کے لیے 14اگست کو اسلام آباد کے ڈی چوک اور ملک کے دیگر شہروں میں تقریب منانے کا اعلان کیا ہے۔ جہاں تک حکومت کا تعلق ہے تو ہر حکومت 14 اگست کی مناسبت سے تقاریب کا انعقاد کرتی ہے تاہم پچھلے کچھ عرصے سے یہ حفاظتی نقطہ نظر سے اسلام آباد میں تقریب کنونشن سینٹر تک محدود ہو گئی تھی۔ بہرحال حکومت نے اب وسیع پیمانے پر جشن آزادی منانے کا فیصلہ کیا ہے تو یہ سراہے جانے کے قابل ہے۔
تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے حوالے سے بھی یقینا حکومت نے کوئی منصوبہ بندی کر رکھی ہو گی۔ ممکن ہے کہ حکومت یہ سمجھ رہی ہو کہ لانگ مارچ اپنی جگہ ہوتا رہے، اس کا جشن آزادی کی تقریبات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ 14 اگست ایک قومی دن ہے اور اسے ہر سیاسی جماعت اور تنظیم کو منانا چاہیے۔ اس وقت شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ہو رہا ہے اور خدشہ ہے کہ بڑی تعداد میں دہشت گرد فرار ہو کر ملک کے دیگر حصوں میں پھیل گئے ہیں۔ ادھر تحریک انصاف نے لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔ اس سارے منظرنامے کو سامنے رکھا جائے تو بہت سے خطرات و خدشات جنم لیتے ہیں۔ موجودہ صورت حال کا تقاضا یہ ہے کہ حالات پر گہری نظر رکھی جائے، اس وقت پاک فوج کا ساتھ دینے کی بھی ضرورت ہے تاکہ وہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن میں خود کو تنہا نہ سمجھے اور ادھر دہشت گرد قوتوں کو بھی پیغام دینا ہے کہ قوم ان سے کسی قسم کا خطرہ محسوس نہیں کر رہی ہے۔
اخباری اطلاعات کے مطابق حکومت کے پروگرام کے مطابق اسلام آباد میں جشن آزادی کی تقریب میں وزیراعظم اپنے خطاب میں دہشت گردی کے خلاف عزم کا اعادہ کریں گے۔ یہ بہت اچھی بات ہے۔ اس تقریب کے انعقاد سے دنیا کو یہ پیغام بھی جائے گا کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کے خطرات کم ہوئے ہیں، زیادہ نہیں۔ بہرحال اس انتہائی اہم موقع پر حکومت اور ملک کی اپوزیشن جماعتوں کو گہرے غور و فکر کے بعد ایسا لائحہ عمل اختیار کرنا چاہیے جس سے جشن آزادی کی تقریبات متاثر نہ ہوں اور ملک میں گھیراؤ جلاؤ یا تصادم کی صورت حال بھی پیدا نہ ہو۔