آزاد فلسطینی ریاست کا خواب

اب تک 675 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں، اسرائیل میں ابھی تک کوئی شخص ہلاک نہیں ہوا

ہلاکتیں بلاشبہ اسرائیل کے مذموم وحشیانہ مظالم کی منہ بولتی تصویر ہے جس کا سنگین پہلو اب کمسن بچوں کو ہلاک کرنے پر منتج ہوا ہے۔فوٹو:اے ایف پی

اسرائیلی فوج نے غزہ میں وحشیانہ بمباری کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے جمعہ کو ایک خاتون اور آٹھ سالہ بچے سمیت مزید 11 فلسطینیوں کو شہید کر دیا جسکے بعد چار دنوں میں ہلاکتوں کی تعداد 103 ہو گئی۔ یہ ہلاکتیں بلاشبہ اسرائیل کے مذموم وحشیانہ مظالم کی منہ بولتی تصویر ہے جس کا سنگین پہلو اب کمسن بچوں کو ہلاک کرنے پر منتج ہوا ہے۔

اب تک 675 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں، اسرائیل میں ابھی تک کوئی شخص ہلاک نہیں ہوا البتہ صرف 10 افراد زخمی ہوئے، اسرائیلی فضائیہ نے جمعہ کو غزہ میں 50 مقامات کو نشانہ بنایا جن میں حماس کے اکیس ٹھکانے بھی شامل ہیں جب کہ عالمی قوتوں کو اب اس حقیقت کی تہہ تک پہنچنا چاہیے کہ کیوں 2006ء سے لے کر آج تک فلسطین کو موت کی وادی میں بدلنے کے اسرائیلی خواب کی تعبیر میں عالمی برادری اور سپر پاورز مداخلت سے گریزاں ہیں؟ وہ افغانستان اور عراق کے خلاف فوج کشی کر سکتے ہیں مگر اسرائیل کو ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے عالمی قوانین کے تحت سرنڈر نہیں کرا سکتے۔


اسرائیلی مظالم کا واضح مقصد فلسطین کی عبوری وحدانی حکومت کو آئندہ انتخابات کے انعقاد سے پہلے تشدد دھونس دھمکی اور فضائی حملوں اور زمینی کارروائی سے خوف و ہراس میں مبتلا کر کے فلسطینی عوام کے قومی کاز سے دور رکھنا ہے۔ اسرائیل نے غزہ کی پٹی کے شمالی اور جنوبی حصوں میں مقیم 10 ہزار سے زیادہ فلسطینیوں کو فوری گھر چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے جب کہ حماس نے اسرائیل کے بن گوریان ہوائی اڈے پر حملے کی دھمکی دیدی ہے۔ صورتحال ابتر ہو سکتی ہے، دوسری طرف اسرائیل اور حماس میں جنگ بندی کے لیے بظاہر عالمی کوششیں شروع ہو گئی ہیں، امریکی صدر باراک اوباما نے اسرائیلی وزیر اعظم کو فون کر کے بحران حل کرنے کے لیے مدد کی پیشکش کی ہے، اوباما نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ مسلح تصادم مزید پھیل سکتا ہے اور فریقین پر زور دیا کہ عام شہریوں کی جانوں کی حفاظت کی جائے اور امن قائم کیا جائے، ادھر فرانسیسی اور روسی صدور نے بھی جنگ بندی کی اپیل کی ہے۔

تاہم اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی دیدہ دلیری کا یہ عالم ہے کہ اس نے عالمی دباؤ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ غزہ پر بمباری جاری رہیگی۔ عالمی ضمیر لب بستہ ہے، اور دنیا میں امن قائم کرنے کی ٹھیکیدار قوتیں یہ کھیل پچھلے کئی برسوں سے کھیلتی آ رہی ہیں، اسرائیل مغرب کا مغرور، ضدی، سرکش اور لاڈلا بیٹا بنا ہوا ہے، صہیونیت امریکا کی جڑوں میں بیٹھ گئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ عالم عرب ہو یا کوئی بھی عالمی فورم اسرائیلی رعونت کسی کو خاطر مین نہیں لاتی۔ اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ اسرائیل غزہ میں گھروں پر بمباری کر کے جنگی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے، 34 رفاعی اداروں اور این جی اوز کے ایک گروپ نے لڑائی ختم کرنیکا مطالبہ کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ مطالبات کا سلسلہ کیا قیامت تک جاری رہیگا، آخر فلسطینی عوام اسرائیلی مظالم اور بربریت سے کب نجات حاصل کریں گے۔ ایک آزاد فلسطینی ریاست کا خواب کب شرمندہ تعبیر ہو گا؟
Load Next Story