ارجنٹائن یا جرمنی فٹبال کی بادشاہت کیلئے آج فیصلہ کن جنگ ہوگی
برازیل کوروندنے والی جرمن ٹیم خود کو میچ سے قبل ہی چیمپئن محسوس کرنے لگی،حریف بھی 28 برس بعد ٹرافی تھامنے کیلیے بیتاب
جرمن ٹیم فتح کی صورت میں لاطینی امریکی سرزمین پر ٹرافی جیتنے والی پہلی یورپی ٹیم کا اعزاز بھی حاصل ہوجائے گا۔ فوٹو؛فائل
فٹبال کی بادشاہت کیلیے فیصلہ کن جنگ اتوار کو ارجنٹائن اور جرمنی کے درمیان ہوگی۔
دونوں ٹیموں کے درمیان بالادستی کیلیے گھمسان کا رن پڑے گا، تھامس مولر اور لیونل میسی میں دوبدو مقابلہ ہوگی، برازیل کو روندنے والی جرمن ٹیم خود کو میچ سے قبل ہی چیمپئن محسوس کررہی ہے، فتح کی صورت میں لاطینی امریکی سرزمین پر ٹرافی جیتنے والی پہلی یورپی ٹیم کا اعزاز بھی حاصل ہوجائے گا، دوسری جانب ارجنٹائن بھی 28 برس ٹرافی کو ہاتھوں میں اٹھانے کیلیے بیتاب ہے۔ تفصیلات کے مطابق جرمنی اور ارجنٹائن تیسری مرتبہ ورلڈ کپ فائنل میں اتوار کو مدمقابل آرہے ہیں، 1986 میں میراڈونا کے جادوئی کھیل کی بدولت ارجنٹائن نے چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا تھا، ٹیم نے فائنل میں مغربی جرمنی کو میکسیکو میں 2-3 سے شکست دی۔
مگر جرمن سائیڈ نے بھی حساب زیادہ عرصے باقی نہیں رکھا بلکہ اگلے ورلڈ کپ کے فائنل میں ارجنٹائن کو 1-0 سے پچھاڑ دیا تھا۔اگر ریوڈی جنیرو کے ماریکانا اسٹیڈیم میں کوچ جوکھیم لیو کی جرمن سائیڈ کامیابی حاصل کرلے تو وہ لاطینی امریکی سرزمین پر ورلڈ کپ جیتنے والی پہلی یورپیئن سائیڈ بن جائے گی۔ جرمنی نے اگرچہ سیمی فائنل میں برازیلین شائقین کا دل بُری طرح توڑا لیکن پھر بھی اسے میزبان کرائوڈ کی حمایت حاصل رہنے کی توقع ہے کیونکہ وہ کسی بھی صورت اپنے پڑوسی ملک ارجنٹائن کو چیمپئن بنتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں ٹیموں میں اب تک ہونے والے باہمی مقابلوں میں سے اگرچہ ارجنٹائن نے 9 اور جرمنی نے 7 بار فتح حاصل کی مگر دونوں کے گول 28، 28 ہی ہیں۔ اس وقت عالمی رینکنگ میں جرمن سائیڈ دوسرے جبکہ میسی کی ٹیم پانچویں نمبر پر ہیں۔ جرمنی کے تھامس مولر اور ارجنٹائنی میسی کو اپنی اپنی ٹیم میں مرکزی حیثیت حاصل ہے، دونوں نے بالترتیب 5 اور 4 گول کیے،اس وقت دنیا بھر کی نگاہیں 27 سالہ میسی پر ہی مرکوز ہیں جوکیریئر کا پہلا ورلڈ کپ فائنل کھیل رہے ہیں۔
ارجنٹائنی شائقین کو امید ہے کہ میراڈونا اور حال ہی میں انتقال کرنے والے الفریڈو ڈی اسٹیفانو کے نقش قدم پر چلتے ہوئے میسی اپنے روایتی حریف کی سرزمین پر ٹائٹل جتوائیں گے۔ ورلڈ کپ فائنل تک رسائی کے دوران ارجنٹائن نے صرف 8 گول کیے،اس کے خلاف ناک آئوٹ رائونڈ میں ایک بھی گول نہیں ہوا جبکہ جرمنی نے اب تک ایونٹ میں 17 گول بنائے، اس طرح ورلڈ کپ کی تاریخ میں سب سے زیادہ 223 گول کرنے والی ٹیم کا اعزاز بھی حاصل کرلیا،اس سے پہلے یہ ریکارڈ برازیل کے پاس تھا۔ دریں اثنا ورلڈ کپ فائنل میں اٹلی کے متنازع ریفری نکولا رزولی ذمہ داری انجام دیں گے، ان پر پہلے ہی ارجنٹائن اور خاص طور پر میسی کو فائدہ پہنچانے کا الزام عائد ہوچکا ہے۔
42 سالہ رزولی نے کوارٹر فائنل میں بھی ذمہ داری انجام دی جس میں ارجنٹائن 1-0 سے فاتح رہا تھا، بیلجیئم کے مارکو ولموٹس نے بعد میں دعویٰ کیا تھا کہ جب میسی کے ساتھ کچھ ہوتو روزلی انھیں فری کک دے دیتے جبکہ ارجنٹائن کے کسی کھلاڑیوں کو یلو کارڈ نہیں دکھایا گیا، ہم نے ایک فائول کیا تو جھٹ سے کارڈ نکال لیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ روزلی رواں ورلڈ کپ میں ارجنٹائن کے تیسرے میچ کے آفیشل ہوں گے، اس سے قبل وہ گروپ اسٹیج میں نائیجیریا کے خلاف مقابلے میں بھی ذمہ داریاں انجام دے چکے جس میں ٹیم کو 3-2 سے فتح حاصل ہوئی تھی۔
دونوں ٹیموں کے درمیان بالادستی کیلیے گھمسان کا رن پڑے گا، تھامس مولر اور لیونل میسی میں دوبدو مقابلہ ہوگی، برازیل کو روندنے والی جرمن ٹیم خود کو میچ سے قبل ہی چیمپئن محسوس کررہی ہے، فتح کی صورت میں لاطینی امریکی سرزمین پر ٹرافی جیتنے والی پہلی یورپی ٹیم کا اعزاز بھی حاصل ہوجائے گا، دوسری جانب ارجنٹائن بھی 28 برس ٹرافی کو ہاتھوں میں اٹھانے کیلیے بیتاب ہے۔ تفصیلات کے مطابق جرمنی اور ارجنٹائن تیسری مرتبہ ورلڈ کپ فائنل میں اتوار کو مدمقابل آرہے ہیں، 1986 میں میراڈونا کے جادوئی کھیل کی بدولت ارجنٹائن نے چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا تھا، ٹیم نے فائنل میں مغربی جرمنی کو میکسیکو میں 2-3 سے شکست دی۔
مگر جرمن سائیڈ نے بھی حساب زیادہ عرصے باقی نہیں رکھا بلکہ اگلے ورلڈ کپ کے فائنل میں ارجنٹائن کو 1-0 سے پچھاڑ دیا تھا۔اگر ریوڈی جنیرو کے ماریکانا اسٹیڈیم میں کوچ جوکھیم لیو کی جرمن سائیڈ کامیابی حاصل کرلے تو وہ لاطینی امریکی سرزمین پر ورلڈ کپ جیتنے والی پہلی یورپیئن سائیڈ بن جائے گی۔ جرمنی نے اگرچہ سیمی فائنل میں برازیلین شائقین کا دل بُری طرح توڑا لیکن پھر بھی اسے میزبان کرائوڈ کی حمایت حاصل رہنے کی توقع ہے کیونکہ وہ کسی بھی صورت اپنے پڑوسی ملک ارجنٹائن کو چیمپئن بنتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں ٹیموں میں اب تک ہونے والے باہمی مقابلوں میں سے اگرچہ ارجنٹائن نے 9 اور جرمنی نے 7 بار فتح حاصل کی مگر دونوں کے گول 28، 28 ہی ہیں۔ اس وقت عالمی رینکنگ میں جرمن سائیڈ دوسرے جبکہ میسی کی ٹیم پانچویں نمبر پر ہیں۔ جرمنی کے تھامس مولر اور ارجنٹائنی میسی کو اپنی اپنی ٹیم میں مرکزی حیثیت حاصل ہے، دونوں نے بالترتیب 5 اور 4 گول کیے،اس وقت دنیا بھر کی نگاہیں 27 سالہ میسی پر ہی مرکوز ہیں جوکیریئر کا پہلا ورلڈ کپ فائنل کھیل رہے ہیں۔
ارجنٹائنی شائقین کو امید ہے کہ میراڈونا اور حال ہی میں انتقال کرنے والے الفریڈو ڈی اسٹیفانو کے نقش قدم پر چلتے ہوئے میسی اپنے روایتی حریف کی سرزمین پر ٹائٹل جتوائیں گے۔ ورلڈ کپ فائنل تک رسائی کے دوران ارجنٹائن نے صرف 8 گول کیے،اس کے خلاف ناک آئوٹ رائونڈ میں ایک بھی گول نہیں ہوا جبکہ جرمنی نے اب تک ایونٹ میں 17 گول بنائے، اس طرح ورلڈ کپ کی تاریخ میں سب سے زیادہ 223 گول کرنے والی ٹیم کا اعزاز بھی حاصل کرلیا،اس سے پہلے یہ ریکارڈ برازیل کے پاس تھا۔ دریں اثنا ورلڈ کپ فائنل میں اٹلی کے متنازع ریفری نکولا رزولی ذمہ داری انجام دیں گے، ان پر پہلے ہی ارجنٹائن اور خاص طور پر میسی کو فائدہ پہنچانے کا الزام عائد ہوچکا ہے۔
42 سالہ رزولی نے کوارٹر فائنل میں بھی ذمہ داری انجام دی جس میں ارجنٹائن 1-0 سے فاتح رہا تھا، بیلجیئم کے مارکو ولموٹس نے بعد میں دعویٰ کیا تھا کہ جب میسی کے ساتھ کچھ ہوتو روزلی انھیں فری کک دے دیتے جبکہ ارجنٹائن کے کسی کھلاڑیوں کو یلو کارڈ نہیں دکھایا گیا، ہم نے ایک فائول کیا تو جھٹ سے کارڈ نکال لیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ روزلی رواں ورلڈ کپ میں ارجنٹائن کے تیسرے میچ کے آفیشل ہوں گے، اس سے قبل وہ گروپ اسٹیج میں نائیجیریا کے خلاف مقابلے میں بھی ذمہ داریاں انجام دے چکے جس میں ٹیم کو 3-2 سے فتح حاصل ہوئی تھی۔