رمضان کا پہلا عشرہ عامر لیاقت کی فقید المثال مقبولیت ایکسپریس بدستور سب سے آگے
غیر جانبدار ذرائع کے مطابق پاکستان رمضان نے سب سے زیادہ ریٹنگ حاصل کرلی،مزید اضافے کا امکان
غیر جانبدار ذرائع کے مطابق پاکستان رمضان نے سب سے زیادہ ریٹنگ حاصل کرلی،مزید اضافے کا امکان
زندگی کے ہر شعبے اور ہر طبقہ عمر میں بے پناہ مقبولیت کے حامل ڈاکٹر عامرلیاقت حسین کے دلنشین اندازِ میزبانی اور خوبصورت طرزگفتگوکی بدولت ایکسپریس کی ''پاکستان رمضان''نشریات کی ناظرین میں غیرمعمولی مقبولیت اور والہانہ پذیرائی کاسلسلہ بدستور جاری ہے اور غیرجانبدار ذرئع کے مطابق حالیہ رمضان کے پہلے عشرے میں ایکسپریس نے اپنے تمام مد مقابل ٹی وی چینلز کومات دیتے ہوئے غیرمعمولی ریٹنگ پوائنٹس حاصل کرلیے ہیں جوایک منفرد سنگ میل ہے ۔
واضح رہے کہ تاریخ سازنشریات کے پہلے ہی روز ریٹنگ کی دوڑ میں ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی غیرمعمولی پسندیدگی کی بدولت ایکسپریس سب سے آگے نکلنے میں کامیاب ہوچکا تھا اورمسابقت کی اس دوڑ میںکوئی دوسرا چینل ایکسپریس کے مدمقابل نظر نہیں آتا،غیر جانبدارذرائع کے مطابق آئندہ دنوں میں نشریات کی مقبولیت میں مزید اضافے کا امکان ہے ۔زندگی کے مختلف رنگوں سے سجی ایکسپریس کی ''پاکستان رمضان'' نشریات میں جہاں دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد عالمگیر شہرت یافتہ براڈ کاسٹر ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کے مہمان بن رہے ہیں وہیں ایسے افراد کو بھی نشریات کا حصہ بننے کے لیے موقع فراہم کیا جارہا ہے جو کسی بھی محاز پر دکھی انسانیت کی فلاح کے لیے جدوجہد میں مصروف ہیں۔
اس سلسلے میں عظیم الشان نشریات کے تیرھویں روزکراچی بار ایسوسی ایشن سے تعلق رکھنے والی خواتین وکلا نے شرکت کی جو انصاف سے محروم اُس طبقے کے حقوق کے لیے جدوجہد کررہی ہیں جو اس استحصالی نظام کے مظالم کاشکار ہیں ۔شرکا میں خواتین کے حقوق کے لیے کئی برس سے سرگرم فریدہ متین اور انیسا چوہان، مستحق خاندانوں کی وکالت کے لیے 24سال سے مصروف عمل شازیہ فرحان ، گھریلو تشدد کی روک تھام کے لیے جدوجہد کرنے والی شازیہ توقیرکے علاوہ نسرین کوکی اور عشرت صدیقی جیسی سینئروکلا شامل تھیں ۔ڈاکٹر عامرلیاقت حسین سے گفتگو میں انھوں نے معاشرے میں عام لو گوںکودرپیش قانونی مشکلات بالخصوص سفاک معاشرے کے ہاتھوں خواتین کو پہنچنے والی تکالیف سے ناظرین کوآگاہ کیا۔میزبان سے گفتگو کے دوران سینئر وکلا نیسزائے موت کو برقرار رکھنے کے حوالے سے ڈاکٹر عامرلیاقت حسین کے نقطہ نظر کی تائید کرتے ہوئے کہاکہ سزائے موت کو مکمل طور پرختم نہیں ہونا چاہیے ۔
کیونکہ یہ دنیا جزاوسزا کے تصور پر قائم ہے تاہم قانون میں بہتری کی ضرورت ہمیشہ موجود رہتی ہے۔وکلا تحریک پر تبصرہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وکلا برادری نے اس تحریک میں جانوں کے نذرانے پیش کیے تاہم تحریک سے جو نتائج برآمد ہونا چاہیے تھے وہ نہیں ہوسکے۔پاکستان رمضان کے مقبول سلسلے ''روزہ کشائی'' میں ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی جانب سے زندگی کا پہلا روزہ رکھنے والے ننھے روزے داروں کے علاوہ ضعیف العمر روزے داروں کی عزت افزائی کا سلسلہ بھی بدستور جاری ہے ،گزشتہ روز 80برس سے زائدالعمر کے معمر جوڑے نے میزبان کے ساتھ روزہ افطار کیا اور اپنی زندگی کے دلچسپ واقعات سنا کر ناظرین کومحظوظ کیا۔ پاکستان گھر میں میزبان کے دلچسپ سوال وجواب کے ساتھ ٹنگ ٹویسٹر اور دیگر گیمز نے نشریات میں جان ڈال دی ۔
اس موقع پر ایک شخص نے ٹنگ ٹویسٹر کے مقابلے میں الفاظ کی تیزی سے ادائیگی اور دلچسپ انداز سے میزبان اور حاضرین کو ہنسا ہنسا کر بے حال کردیااور حاضردماغی کی بدولت موٹر سائیکل سمیت دیگر انعامات جیت لیے ۔ نشریات کے اختتامی لمحات میں پاکستان میں کوکنگ انڈسٹری کو نئی جہت عطاکرنے والی زبیدہ طارق نے شرکت کی اور حاضرین کی فرمائش پر انھیں مختلف ٹوٹکے بھی بتائے جبکہ عامر لیاقت حسین کے ہم شکل ہونے کے دعویدار نوجوان نے بھی نشریات میں شرکت کی جس پر ناظرین نے خوشی کا اظہار کیا۔
واضح رہے کہ تاریخ سازنشریات کے پہلے ہی روز ریٹنگ کی دوڑ میں ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی غیرمعمولی پسندیدگی کی بدولت ایکسپریس سب سے آگے نکلنے میں کامیاب ہوچکا تھا اورمسابقت کی اس دوڑ میںکوئی دوسرا چینل ایکسپریس کے مدمقابل نظر نہیں آتا،غیر جانبدارذرائع کے مطابق آئندہ دنوں میں نشریات کی مقبولیت میں مزید اضافے کا امکان ہے ۔زندگی کے مختلف رنگوں سے سجی ایکسپریس کی ''پاکستان رمضان'' نشریات میں جہاں دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد عالمگیر شہرت یافتہ براڈ کاسٹر ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کے مہمان بن رہے ہیں وہیں ایسے افراد کو بھی نشریات کا حصہ بننے کے لیے موقع فراہم کیا جارہا ہے جو کسی بھی محاز پر دکھی انسانیت کی فلاح کے لیے جدوجہد میں مصروف ہیں۔
اس سلسلے میں عظیم الشان نشریات کے تیرھویں روزکراچی بار ایسوسی ایشن سے تعلق رکھنے والی خواتین وکلا نے شرکت کی جو انصاف سے محروم اُس طبقے کے حقوق کے لیے جدوجہد کررہی ہیں جو اس استحصالی نظام کے مظالم کاشکار ہیں ۔شرکا میں خواتین کے حقوق کے لیے کئی برس سے سرگرم فریدہ متین اور انیسا چوہان، مستحق خاندانوں کی وکالت کے لیے 24سال سے مصروف عمل شازیہ فرحان ، گھریلو تشدد کی روک تھام کے لیے جدوجہد کرنے والی شازیہ توقیرکے علاوہ نسرین کوکی اور عشرت صدیقی جیسی سینئروکلا شامل تھیں ۔ڈاکٹر عامرلیاقت حسین سے گفتگو میں انھوں نے معاشرے میں عام لو گوںکودرپیش قانونی مشکلات بالخصوص سفاک معاشرے کے ہاتھوں خواتین کو پہنچنے والی تکالیف سے ناظرین کوآگاہ کیا۔میزبان سے گفتگو کے دوران سینئر وکلا نیسزائے موت کو برقرار رکھنے کے حوالے سے ڈاکٹر عامرلیاقت حسین کے نقطہ نظر کی تائید کرتے ہوئے کہاکہ سزائے موت کو مکمل طور پرختم نہیں ہونا چاہیے ۔
کیونکہ یہ دنیا جزاوسزا کے تصور پر قائم ہے تاہم قانون میں بہتری کی ضرورت ہمیشہ موجود رہتی ہے۔وکلا تحریک پر تبصرہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وکلا برادری نے اس تحریک میں جانوں کے نذرانے پیش کیے تاہم تحریک سے جو نتائج برآمد ہونا چاہیے تھے وہ نہیں ہوسکے۔پاکستان رمضان کے مقبول سلسلے ''روزہ کشائی'' میں ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی جانب سے زندگی کا پہلا روزہ رکھنے والے ننھے روزے داروں کے علاوہ ضعیف العمر روزے داروں کی عزت افزائی کا سلسلہ بھی بدستور جاری ہے ،گزشتہ روز 80برس سے زائدالعمر کے معمر جوڑے نے میزبان کے ساتھ روزہ افطار کیا اور اپنی زندگی کے دلچسپ واقعات سنا کر ناظرین کومحظوظ کیا۔ پاکستان گھر میں میزبان کے دلچسپ سوال وجواب کے ساتھ ٹنگ ٹویسٹر اور دیگر گیمز نے نشریات میں جان ڈال دی ۔
اس موقع پر ایک شخص نے ٹنگ ٹویسٹر کے مقابلے میں الفاظ کی تیزی سے ادائیگی اور دلچسپ انداز سے میزبان اور حاضرین کو ہنسا ہنسا کر بے حال کردیااور حاضردماغی کی بدولت موٹر سائیکل سمیت دیگر انعامات جیت لیے ۔ نشریات کے اختتامی لمحات میں پاکستان میں کوکنگ انڈسٹری کو نئی جہت عطاکرنے والی زبیدہ طارق نے شرکت کی اور حاضرین کی فرمائش پر انھیں مختلف ٹوٹکے بھی بتائے جبکہ عامر لیاقت حسین کے ہم شکل ہونے کے دعویدار نوجوان نے بھی نشریات میں شرکت کی جس پر ناظرین نے خوشی کا اظہار کیا۔