اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ میں مصالحت
افغانستان میں دو صدارتی امیدواروں اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کے مابین ہونے والے رن آف انتخابات بھی تنازعہ کا شکار
کابل میں دو روز تک ہیجان انگیز مذاکرات کے بعد دونوں فریقین کو مصالحت پر قائل کرلیا ہے۔ فوٹو فائل
افغانستان میں دو صدارتی امیدواروں اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کے مابین ہونے والے رن آف انتخابات بھی تنازعہ کا شکار ہو گئے جب عبداللہ عبداللہ نے اشرف غنی کی فتح کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے یکطرفہ طور پر اپنی کامیابی کا اعلان کر دیا جس سے افغانستان میں دوبارہ خانہ جنگی کا خطرہ پیدا ہو گیا چنانچہ امریکا نے فوری طور پر اپنے وزیر خارجہ جان کیری کو مصالحتی مشن پر افغانستان بھیج دیا۔ اخباری اطلاعات کے مطابق کابل میں دو روز تک ہیجان انگیز مذاکرات کے بعد دونوں فریقین کو مصالحت پر قائل کرلیا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے دونوں کو یقین دلایا کہ افغانستان میں ڈالے گئے ہر ووٹ کی جانچ پڑتال ہو گی۔ کابل میں افغان صدارتی امیدواروں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ووٹوں کی تصدیق چوبیس گھنٹے میں کرائی جائے گی۔ واضح رہے ووٹوں کی جانچ پڑتال کی ذمے داری ایساف کے ساتھ نیٹو کے بھی سپرد کر دی گئی ہے۔ دونوں امیدوار جانچ پڑتال کے بعد نتائج تسلیم کریں۔ لیکن کیا لاکھوں ووٹوں کی پڑتال صرف چوبیس گھنٹے کی قلیل سی مدت میں ممکن ہو سکے گی یہ ایک سوالیہ نشان ہے۔ جان کیری نے کہا کہ امریکا صدارتی امیدواروں سے متعلق غیر جانبدار ہے۔
دو روز میں صدارتی امیدواروں سے اچھی بات ہوئی۔ دونوں امیدوار انتخابی نتائج کی شفاف تحقیقات کے لیے رضامند ہیں۔ جان کیری کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھوں نے ایک کی جیت اور دوسرے کی ہار کی صورت میں اس کی کسی دوسرے طریقے سے تلافی کرنے کی یقین دہانی کرا دی ہو گی۔ نئے افغان صدر کا فیصلہ ہونے کے بعد سبکدوش ہو جانے والے افغان صدر حامد کرزئی اور دونوں امیدواروں نے کسی سمجھوتے پر پہنچنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ صدارتی انتخابات کے نتائج کی تحقیقات کا اگلے چوبیس گھنٹے میں آغاز ہو گا۔ دریں اثناء انتخابی نتائج کی تحقیقات تک صدارتی حلف برداری کی تقریب ملتوی کر دی گئی ہے۔
صدارتی حلف برداری کی تقریب اگلے ماہ دو اگست کو منعقد ہونا تھی۔ امریکا کی افغانستان میں فوری طور پر مصالحت کرانے کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ افغانستان میں 1992-1996 تک جنگجو سرداروں کے مابین خانہ جنگی جاری رہی ہے جس کی تباہی کے اثرات ابھی تک باقی ہیں اور امریکا نہیں چاہتا کہ افغانستان میں پھر وہی صورت حال پیدا ہو جائے اور امریکا کے فوجی انخلا میں کوئی رخنہ اندازی ہو۔امریکا نے 2016 تک افغانستان سے مکمل انخلا کرنا ہے' اگر وہاں انتقال اقتدار میں کوئی رکاوٹ پیدا ہو گئی اور افغانستان میں خانہ جنگی شروع ہو گئی تو امریکا کا اپنی فوجوں کے انخلا کا پروگرام کھٹائی میں پڑ جائے گا۔
جان کیری نے دونوں فریقوں کو یقین دہانی کرائی ہے صدارتی انتخاب میں کاسٹ ہونے والے آٹھ ملین یعنی اسی لاکھ ووٹوں میں سے ہر ایک ووٹ کی جانچ کی جائے گی بصورت دیگر ملک میں نسلی فسادات شروع ہونے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ دونوں امیدواروں کی صلح کرانے کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جان کیری نے کہا رن آف صدارتی انتخاب میں آٹھ ہزار پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹ ڈالے گئے تھے لہذا کوشش کی جائے گی کہ اقوام متحدہ کے متعلقہ عملے کی مدد سے ووٹوں کا جائزہ مکمل کیا جائے۔
افغانستان میں صدارتی الیکشن میں امریکا کی مداخلت سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ افغان اشرافیہ اپنے بل بوتے پر ابھی تک ملک چلانے کی صلاحیت سے محروم ہے' ان میں دھونس دھاندلی کا کلچر بھی موجود ہے اور لسانی و نسلی عصبیت بھی عروج پر ہے' اگر امریکا بروقت مداخلت نہ کرتا تو افغانستان میں بدامنی کا نیا دور شروع ہو جانا تھا۔
امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے دونوں کو یقین دلایا کہ افغانستان میں ڈالے گئے ہر ووٹ کی جانچ پڑتال ہو گی۔ کابل میں افغان صدارتی امیدواروں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ووٹوں کی تصدیق چوبیس گھنٹے میں کرائی جائے گی۔ واضح رہے ووٹوں کی جانچ پڑتال کی ذمے داری ایساف کے ساتھ نیٹو کے بھی سپرد کر دی گئی ہے۔ دونوں امیدوار جانچ پڑتال کے بعد نتائج تسلیم کریں۔ لیکن کیا لاکھوں ووٹوں کی پڑتال صرف چوبیس گھنٹے کی قلیل سی مدت میں ممکن ہو سکے گی یہ ایک سوالیہ نشان ہے۔ جان کیری نے کہا کہ امریکا صدارتی امیدواروں سے متعلق غیر جانبدار ہے۔
دو روز میں صدارتی امیدواروں سے اچھی بات ہوئی۔ دونوں امیدوار انتخابی نتائج کی شفاف تحقیقات کے لیے رضامند ہیں۔ جان کیری کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھوں نے ایک کی جیت اور دوسرے کی ہار کی صورت میں اس کی کسی دوسرے طریقے سے تلافی کرنے کی یقین دہانی کرا دی ہو گی۔ نئے افغان صدر کا فیصلہ ہونے کے بعد سبکدوش ہو جانے والے افغان صدر حامد کرزئی اور دونوں امیدواروں نے کسی سمجھوتے پر پہنچنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ صدارتی انتخابات کے نتائج کی تحقیقات کا اگلے چوبیس گھنٹے میں آغاز ہو گا۔ دریں اثناء انتخابی نتائج کی تحقیقات تک صدارتی حلف برداری کی تقریب ملتوی کر دی گئی ہے۔
صدارتی حلف برداری کی تقریب اگلے ماہ دو اگست کو منعقد ہونا تھی۔ امریکا کی افغانستان میں فوری طور پر مصالحت کرانے کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ افغانستان میں 1992-1996 تک جنگجو سرداروں کے مابین خانہ جنگی جاری رہی ہے جس کی تباہی کے اثرات ابھی تک باقی ہیں اور امریکا نہیں چاہتا کہ افغانستان میں پھر وہی صورت حال پیدا ہو جائے اور امریکا کے فوجی انخلا میں کوئی رخنہ اندازی ہو۔امریکا نے 2016 تک افغانستان سے مکمل انخلا کرنا ہے' اگر وہاں انتقال اقتدار میں کوئی رکاوٹ پیدا ہو گئی اور افغانستان میں خانہ جنگی شروع ہو گئی تو امریکا کا اپنی فوجوں کے انخلا کا پروگرام کھٹائی میں پڑ جائے گا۔
جان کیری نے دونوں فریقوں کو یقین دہانی کرائی ہے صدارتی انتخاب میں کاسٹ ہونے والے آٹھ ملین یعنی اسی لاکھ ووٹوں میں سے ہر ایک ووٹ کی جانچ کی جائے گی بصورت دیگر ملک میں نسلی فسادات شروع ہونے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ دونوں امیدواروں کی صلح کرانے کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جان کیری نے کہا رن آف صدارتی انتخاب میں آٹھ ہزار پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹ ڈالے گئے تھے لہذا کوشش کی جائے گی کہ اقوام متحدہ کے متعلقہ عملے کی مدد سے ووٹوں کا جائزہ مکمل کیا جائے۔
افغانستان میں صدارتی الیکشن میں امریکا کی مداخلت سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ افغان اشرافیہ اپنے بل بوتے پر ابھی تک ملک چلانے کی صلاحیت سے محروم ہے' ان میں دھونس دھاندلی کا کلچر بھی موجود ہے اور لسانی و نسلی عصبیت بھی عروج پر ہے' اگر امریکا بروقت مداخلت نہ کرتا تو افغانستان میں بدامنی کا نیا دور شروع ہو جانا تھا۔