لوڈشیڈنگ اور احتجاج

ملک بھر میں بدترین لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ اس وقت بجلی کا شارٹ فال ساڑھے چار ہزار سے پانچ ہزار

ہماری ٹرانسمیشن لائنز اور سسٹم 13 ہزار میگاواٹ سے زیادہ کا لوڈ برداشت نہیں کر سکتا، پرویز رشید فوٹو: فائل

لاہور:
ملک بھر میں بدترین لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ اس وقت بجلی کا شارٹ فال ساڑھے چار ہزار سے پانچ ہزار تک جا پہنچا ہے۔ شدید گرمی اور حبس کے اس موسم میں شہروں میں دس سے بارہ جب کہ دیہات میں 18 سے 20 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ نے لوگوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ متعدد شہروں میں لوڈشیڈنگ سے ستائے ہوئے عوام سڑکوں پر آ گئے ہیں ۔ اخباری خبروں کے مطابق اوکاڑہ میں سیکڑوں شہریوں نے واپڈا گرڈ اسٹیشن کا گھیرائو کیا اور سامان توڑ پھوڑ ڈالا۔ معاملات اس حد تک بگڑ گئے ہیں کہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو بھی اس کا نوٹس لینا پڑا۔

انھوں نے رمضان المبارک میں بجلی کی غیر علانیہ اور طویل لوڈشیڈنگ پر اظہار برہمی کرتے ہوئے وزارت پانی و بجلی کو ہدایت کی ہے کہ وہ لوڈشیڈنگ کے مسئلے پر فوری رپورٹ پیش کرے اور لوڈشیڈنگ کا دورانیہ کم کیا جائے۔ اس جھلسا دینے والی گرمی کے موسم میں بجلی کی غیر علانیہ طویل بندش سے روزہ دار بلبلا اٹھے ہیں۔ صورت حال یہ ہے کہ واربرٹن' رینالہ خورد سمیت بعض علاقوں میں گرمی برداشت نہ کرتے ہوئے متعدد افراد زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ سحر اور افطار کے اوقات میں لوڈشیڈنگ نہیں کی جائے گی مگر ان اوقات میں بھی لوڈشیڈنگ کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ لوڈشیڈنگ کے باعث کاروباری سرگرمیاں ماند پڑتی جا رہی ہیں۔

پاکستان میں بجلی کا بحران ایک طویل عرصے سے جاری ہے ہر سال گرمیوں کے موسم میں بجلی کی طلب بڑھنے سے لوڈشیڈنگ میں شدید اضافہ ہو جاتا ہے۔ بجلی کا نظام اس قدر بگڑ چکا ہے کہ اس پر قابو پانے کے لیے ایک طویل عرصہ درکار ہے۔ ملک میں اس وقت بجلی کی رسد 13 ہزار میگاواٹ جب کہ طلب 19ہزار میگاواٹ ہے۔ حکومت اور اس کے وزراء دعویٰ کر رہے ہیں کہ وہ اگلے تین سے چار برس کے دوران چھ سے سات ہزار میگاواٹ اضافی بجلی سسٹم میں شامل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے اور اس طرح بجلی کا بحران حل ہو جائے گا۔

دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ بجلی کا ٹرانسمیشن سسٹم بہت بوسیدہ اور پرانا ہو چکا ہے جب تک اسے تبدیل نہیں کیا جائے گا لوڈشیڈنگ پر قابو نہیں پایا جا سکتا۔ بعض ذرایع کے مطابق پیک آور میں بجلی کی ڈیمانڈ 22 ہزار میگاواٹ تک جا پہنچتی ہے جب کہ اس دوران سپلائی 14 سے 15 ہزار میگاواٹ ہو رہی ہوتی ہے جب کہ ٹرانسمیشن لائن کمزور ہونے کے باعث 13 ہزار میگاواٹ سے زیادہ سپلائی نہیں ہو پاتی، اس کی تصدیق متعدد بار پانی اور بجلی کے وزراء بھی کر چکے ہیں۔


وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید کا کہنا ہے کہ ہماری ٹرانسمیشن لائنز اور سسٹم 13 ہزار میگاواٹ سے زیادہ کا لوڈ برداشت نہیں کر سکتا اور اگر ہم زیادہ بجلی بنا بھی لیں تو اسے آگے سپلائی نہیں کیا جا سکتا، حکومت اس سلسلے میں ٹرانسمیشن لائنز کمپنی بنا رہی ہے۔ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے بھی اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجلی کی پیداوار میں اضافے کے بعد بھی ناقص ٹرانسمیشن سسٹم کی وجہ سے مطلوبہ بجلی صارفین تک نہیں پہنچائی جا سکتی، معیاری ٹرانسمیشن لائنز بچھانے کے لیے اربوں ڈالر درکار ہیں۔

ماہرین کے مطابق جتنا خرچ ایک یونٹ بجلی پیدا کرنے پر ہوتا ہے اتنا ہی خرچ وہ یونٹ صارف تک پہنچانے پر بھی ہوتا ہے۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ توانائی کے پیداواری منصوبے چند ہفتوں یا چند مہینوں میں مکمل نہیں ہو سکتے بلکہ اس کے لیے ایک طویل عرصہ درکار ہوتا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ بھاشا ڈیم کی تکمیل میں کم از کم دس سال کا عرصہ درکار ہے۔ حکومت بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لیے متعدد منصوبوں پر تیزی سے کام کر رہی ہے' نندی پور پراجیکٹ کا افتتاح ہو چکا ہے' سولر سسٹم سے بھی بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر کام ہو رہا ہے مگر انھیں پایہ تکمیل تک پہنچنے میں ایک مدت لگے گی، لوڈشیڈنگ پر فوری طور پر قابو پانا ممکن نہیں۔

ایک طرف بجلی کے منصوبوں کے ذریعے بجلی کی پیداوار میں اضافے کا مسئلہ درپیش ہے تو دوسری جانب ٹرانسمیشن لائنز اور سسٹم کی تبدیلی کے لیے بھی حکومت کو اربوں ڈالر درکار ہیں۔ بجلی کی چوری اور لائن لاسز کا مسئلہ بھی اپنی جگہ بدرجہ اتم موجود ہے۔ حکومت کو بجلی چوری کے انسداد کے لیے سخت اقدامات کرنا ہوں گے اور بجلی چوروں کو سخت سزائیں دینا ہوں گی جب تک اس مسئلہ پر قابو نہیں پایا جاتا لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری رہے گا، دوسری جانب بعض علاقوں میں بجلی کے بل ادا نہ کرنے کی روایت بھی چلی آ رہی ہے۔ اب حکومت اس جانب بھی توجہ دے رہی ہے۔ اگر کچھ لوگ بجلی چوری کریں گے یا بل ادا نہیں کریں گے تو بجلی کے نظام میں بہتری کیسے آئے گی۔

ہر مسئلہ کا حکومت کو ذمے دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا شہریوں کو بھی اپنے رویے پر نظرثانی کرنا ہو گی۔ موجودہ حکومت کو آئے ابھی ایک سال کا عرصہ ہوا ہے اتنی کم مدت میں بجلی کے بحران پر قابو پانا ممکن نہیں اس لیے شہریوں کو صبر وتحمل سے تین سے چار سال تک انتظار کرنا ہو گا اگر حکومت اس عرصہ میں بھی بجلی کے بحران پر قابو پانے میں کامیاب نہیں ہوتی تو پھر اسے اس کا ذمے دار ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ احتجاج کرنا شہریوں کا حق ہے مگر انھیں اس دوران توڑ پھوڑ اور بجلی کی تنصیبات کو نقصان پہنچانے سے گریز کرنا چاہیے۔
Load Next Story