اللہ کرے حکومت چلتی رہے

نواز حکومت کی آمد پر مجھے بے حد خوشی تھی اور اس خوشی کے کئی اسباب تھے

Abdulqhasan@hotmail.com

نواز حکومت کی آمد پر مجھے بے حد خوشی تھی اور اس خوشی کے کئی اسباب تھے جن میں سرفہرست ان کی پاکستانیت تھی دوسری تمام خوبیاں اور خرابیاں حب وطنی کے پردے میں چھپ جاتی ہیں خرابیاں خواہ موجود رہیں لیکن باہر نکلنے کی راہ نہیں پاتیں چنانچہ میں ذہنی طور پر بہت مطمئن تھا کہ مدتوں بعد اندر باہر سے ایک سنہری اور صاف پاکستانی حکومت قائم ہوئی ہے۔ ملک کے مسائل بہت ہیں لیکن ملک کے وسائل ان سے زیادہ ہیں اور جب کوئی محب وطن حکمران ان وسائل کو استعمال کرے گا تو ہر مسئلہ خود بخود ہی حل ہوتا چلا جائے گا۔

چند دن ہوئے کہ ایک بہت ہی تجربہ کار درد مند ریٹائرڈ اعلیٰ پاکستانی افسر جناب عبداللہ کہہ رہے تھے کہ ملک کے وسائل کو دیکھیں تو اس کے مسائل بالکل بے وقعت دکھائی دیتے ہیں۔ ہم مشرق میں جاپان کے بعد بڑا ملک بن سکتے ہیں اور اس میں کوئی مبالغہ یا محض خواہش نہیں ہے۔ بالکل سچ ہے لیکن ان وسائل کے شایان شان ایک حکمران درکار ہے۔

اس عالم و فاضل شخص سے میں نے جمہوریت آمریت وغیرہ کا ذکر کیا اور ساتھ ہی پوچھا کہ مسلمانوں کا کیا معمول رہا تو انھوں نے بتایا کہ مسلمانوں کے ہاں جب کوئی حکمران آتا ہے تو اس پر قرآن و سنت کے مطابق حکمرانی کرنے کا فرض عائد ہوتا ہے اور جب تک اس کی صحت برقرار رہے وہ شرعی قوانین کے مطابق حکومت کر سکتا ہے اور اس کے خلاف قیادت نہیں ہوتی۔ جناب عبداللہ کی ایک بات یہ ہے کہ مجھے خلفائے راشدین کا حلف یاد آیا جس کا اقتدار کے فوراً بعد کی نماز کی امامت کرتے ہوئے وہ خود اعلان کرتے تھے کہ جب تک میں کتاب و سنت پر عمل کروں میری اطاعت تم پر واجب ہے لیکن جب میں اس مقصد سے ہٹ جائوں تو آپ آزاد ہیں۔

حتیٰ کہ خلفائے راشدین کے بعد خلیفہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے بھی بالکل یہی اعلان کیا تھا اور وہ اپنے اسی عمل کی وجہ سے پانچویں خلفائے راشد شمار کیے گئے۔ لیکن خود مسلمانوں نے اپنا حکومت کا یہ طریقہ مغرب کی سیکولر جمہوریت سے بدل دیا اور الیکشن میں کوئی کسی عقیدے اور نظریات والا منتخب ہو کر حکمران بن سکتا ہے۔ خواہ وہ قرآن و سنت کا منکر یا ان سے لاتعلق ہی کیوں نہ ہو۔ ہم اپنی 67 سالہ آزاد زندگی میں یہ سب نمونے اور مثالیں دیکھ سکتے ہیں۔ ایوب خان سے بھٹو تک۔

بات میاں صاحب کی عنان حکومت سنبھالنے سے شروع ہوئی تھی جس پر مجھے بہت خوشی ہوئی کہ یہ اپنی خاندانی روایت کے مطابق شاید بڑی حد تک صحیح حکمران بن سکیں لیکن جب انھوں نے بھارت جیسے ازلی اور ابدی دشمن سے خصوصی رغبت بلکہ بعض مسائل پر پالیسی اتحاد کا عندیہ بھی دیا تو میرے جیسے پرانے پاکستانی نے ان پر سے ہاتھ اٹھا لیا۔ میں کیا، وہی پدی کے شوربے والی بات ہے لیکن اپنے قارئین کی خدمت میں پاکستان کے مفاد کے مطابق معروضات پیش کرتا رہوں گا۔ مجھے اب حکمرانوں کی کسی بھی نوعیت کی قربت درکار نہیں نہ مشاورت نہ معاونت نہ کوئی برائے نام وزارت بس ایک خواہش ہے کہ میاں صاحبان ایک نارمل حکومت قائم کر دیں جو وہ افسوس کہ نہیں کر پا رہے۔


قرآن و سنت کو تو بھول جائیں کہ اس میں ذاتی قربانی بھی درکار ہوتی ہے۔ اب تو اس ملک سے جو کچھ مل سکتا ہے وہ حاصل کر لیتا ہے۔ میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ بھاگتے چور کی لنگوٹی ،خدا نہ کرے کہ ہمارے تن پر صرف لنگوٹی ہی رہ جائے۔ پلوں سڑکوں اور ٹرانسپورٹ وغیرہ کے تمام منصوبوں کے ذریعے قومی لوٹ کھسوٹ کے باوجود ہم اپنی لنگوٹی کو ضرور بچا لیں گے اور بھارتی لنگوٹی کو بھی قبول نہیں کریں گے۔

ڈاکٹر قدیر خان بالکل سچ کہا کرتے تھے کہ اگر مجھے بم نہ بنانے دیا گیا تو پھر راولپنڈی کے راجہ بازار میں لنگوٹیوں والے پھرا کریں گے اور اس بات کی صداقت ہمیں عملاً معلوم ہو چکی ہے اور ایک بار بھارت کی فوجیں ہماری سرحدوں سے واپس جاچکی ہیں وہی مشہور کرکٹ ڈپلومیسی جس میں صدر ضیاء نے نوجوان بھارتی وزیراعظم کے کان میں سرگوشی کی تھی کہ برخوردار ہزایکسی لینسی ہمارے پاس بھی ایک کھلونا موجود ہے۔ یہ پاکستانی ایٹم بم کا پہلا اعلان اور اعتراف تھا جس کے بعد بھارت کی جارحانہ پالیسی بدل گئی اور اب تک بدلی ہوئی ہے چنانچہ دنیا بھر سے اسلحہ خریدا جا رہا ہے اور خود بھارت کے اندر اسلحہ کے کارخانے لگانے کی صلائے عام دی جا چکی ہے۔

اسلحہ کے سوداگر اپنے منصوبے تیار کر رہے ہیں لیکن بیس کروڑ پاکستانی بموں کا جواب کون لائے گا۔ کوئی بھی نہیں۔ پاکستان کی سلامی ایک انمٹ حقیقت ہے۔ جناب نورانی کے بقول اگر کسی مسجد میں سفیدی بھی کرا دی جائے تو اس آبادی کے ہندو سہم جاتے ہیں۔ محترم میاں صاحبان کی خدمت میں عرض ہے کہ بھارت کے ساتھ معمول کا کاروبار بھی ممکن نہیں۔ یہ گلی سڑی سبزیاں اب نہیں چل سکیں گی۔ حیرت ہے کہ بھارت کشمیر میں کچھ نئے اقدامات کرنے کی سوچ رہا ہے جن کے تحت یہ ریاست بھارت کی ایک باقاعدہ ریاست بنا دی جائے گی مگر ہماری حکومت چپ ہے بالکل چپ۔ میاں صاحب غور کریں کہ ان کی موثر اپوزیشن نہ ہونے کی وجہ سے وہ ہر اتوار کو کرکٹ کھیل رہے ہیں۔

قادری صاحب کے انقلاب کی تو کسی کو ان سمیت الف بے بھی معلوم نہیں تو وہ کیا ہے باقی رہے عمران خان تو وہ بھی بالکل واضح ہو کر بات نہیں کر رہے۔ اپوزیشن کا یہی وہ سیاسی ابہام ہے جو حکومت کو بچائے ہوئے ہے ورنہ حکمرانوں کی عقلمندی کا یہ حال ہے کہ وہ بجلی وغیرہ کے بارے میں جو کچھ کر رہے ہیں وہ رمضان کے بعد بھی ہو سکتا تھا لیکن پھر عوام اور روزہ داروں کو تکلیف کیسے ہوتی جو اصل مقصد معلوم ہوتا ہے۔

مہنگائی کی حوصلہ افزائی جاری ہے اور متعلقہ وزیر ایک سبزی منڈی میں ہاتھ میں آم اٹھا کر پوچھتا ہے کہ آلو کا اب کیا بھائو ہے۔ اس کے ہاتھ میں آم دیکھ کر ہر کوئی ہنسا ہے کہ آم آلو بن گیا ہے۔ بجلی کے جو منصوبے ہیں اورجن کی وجہ سے لوگ لوڈشیڈنگ کے عذاب میں مبتلا ہیں کیا رمضان کے بعد نہیں ہو سکتے تھے۔ کسی ملک کی ترقی کی اصل ضرورت انرجی کی ہوتی ہے جس پر کارخانے چلتے ہیں نہ کہ سڑکوں پلوں اور بجلی کے کھمبوں کی۔ کارخانے بند ہیں لیکن یک طرفہ ٹریفک کا بندوبست ہو رہا ہے تاکہ گاڑیوں کو رکاوٹ نہ ہو اور امن و امان کا جو حال ہے وہ اس قدر ہولناک اور عبرت ناک کہ اس کا نظارہ پوری قوم میڈیا زندہ باد کے طفیل حرف بحرف اور لفظ بلفظ اور لمحہ بہ لمحہ دیکھ چکی ہے اور اب تک حیرت زدہ چلی آ رہی ہے۔

اسلام آباد میں مسجد کا سانحہ پرویز مشرف کے زوال اور جاری عذاب کی اصل وجہ تھی اب لاہور میں ماڈل ٹائون کا سانحہ خدا کرے ایسا نہ ہو اور قدرت معاف کر دے اگر کوئی معافی مانگنے والا ہو ورنہ قدرت کے ہاں انسانوں پر ظلم اور بربریت معاف نہیں ہوا کرتی۔ میاں نواز شریف ایک شریف اور نیک نیت اور شرم و حیا والیا انسان ہیں، خدا ان کو اس بلا سے محفوظ رکھے اور غلط اور بددیانت حواریوں سے بچائے۔
Load Next Story