عالمی فٹ بال کپ چشم کشا حقائق

جرمنی نے انتہائی سنسنی خیز اور دلچسپ مقابلے کے بعد ارجنٹائن کو ہرا کر فٹبال کا عالمی کپ جیت لیا

خدارا فٹ بال کے کرتا دھرتا اپنی نااہلیت کا اعتراف کریں اور پاکستان فٹبال کے معیار کو بلند کرنے کی ٹھوس کوشش اور فٹبال سے کمٹمنٹ کی تجدید کریں۔ فوٹو: فائل

جرمنی نے انتہائی سنسنی خیز اور دلچسپ مقابلے کے بعد ارجنٹائن کو ہرا کر فٹبال کا عالمی کپ جیت لیا اور دنیائے فٹبال میں اپنی حکمرانی کا اعلان کردیا ۔ یوں 12 جون سے شروع ہوکر 13 جولائی 2014 ء کو فیفا عالمی فٹ بال کپ کی رنگینیوں ،دلچسپیوںاور سنسنی خیز معرکہ آرائیوں کا دی اینڈ ایک دلفریب تقریب میں ہوا جس میں گلوکارہ شکیرا سمیت دیگر عالمی فنکاروں ، برازیلین جمناسٹرز ، رقاصائوں اور اسٹارز نے حصہ لیا۔ یہ دل ناتواں کا مقابلہ نہ تھا بلکہ دنیا کی دو مانی ہوئی معتبر، مشہور اورمضبوط ٹیموں کی ٹکر تھی، اسے ''وار آف دی ٹائٹینز'' بھی کہہ سکتے ہیں۔

ہر موو پر شائقین کا جوش و خروش دیدنی اور عروج پر تھا ۔ کئی مواقع پر تو ایسا لگا کہ گول یقینی ہے لیکن کبھی قسمت کی خرابی اور کبھی دفاعی کھلاڑیوں کی عمدہ حکمت عملی نے دونوں ٹیموں کو گول کرنے سے محروم رکھا ۔مقررہ 90 منٹ میں ارجنٹائن اور جرمنی ایک گول بھی نہیں کرسکیں۔ ایکسٹرا ٹائم میں بھی دونوں ٹیموں میں سنسنی خیز معرکہ آرائی دیکھنے میں آئی ۔ میچ کا اختتام ہوتے ہی پورے جرمنی میں جشن کا سماں نظر آیا، یہ پہلا ورلڈ کپ تھا جو جرمن ٹیم نے مشرقی اور مغربی جرمنی کے یکجا ہونے کے بعد جیتا ۔ارجنٹائن اور جرمنی تین بار فائنل میں آمنے سامنے آئے۔

فائنل میں شکست کے ساتھ ہی ارجنٹائن کے حامیوں پر سکتے کی سی کیفیت دیکھنے میں آئی، فائنل وسل بجتے ہی تمام کھلاڑی اورا سٹیڈیم میں موجود ان کے پرستار شدت غم سے نڈھال ہوگئے۔ کھلاڑی ایک دوسرے کو دلاسہ بھی دیتے نظر آئے ۔ فائنل میں کئی ہوشربا لمحات اور اعصاب شکن موڑ آئے، بچے اور دوشیزائیں اشکبار دیکھی گئیں ۔ ارجنٹائن کے عالمی شہرت یافتہ سٹرائیکر لائنل میسی اپنی ٹیم کو عالمی کپ نہ دلاسکے۔ اس نے فائنل سے قبل فیس بک پر پیغام دیتے ہوئے کہا تھا کہ '' کل ہم اپنی ملک کے لیے زندگی کا اہم ترین میچ کھیلیں گے، میرے خواب اور میری امیدیں رنگ لارہی ہیں کہ یہ ایک ٹیم کی انتھک محنت اور قربانیوں کا نتیجہ ہے، مگر میرے خواب ابھی پورے نہیں ہوئے، کل ہم جیتنے کی تمنا کریں گے۔''

ادھر جرمن فارورڈ ماریو گوٹزے نے ایکسٹرا ٹائم کے دوسرے ہاف میں گول کرکے تاریخ رقم کردی ۔انکے گول کو ماہرین نے برتر اور ارفع sublimeگول سے تعبیر کیا۔ گولڈن بوٹ کولمبیا کے اسٹار جیمز راڈریگز نے جیتا۔فٹبال کی دنیا میں حکمرانی کا تاج سر پر سجانے کے لیے اعصاب شکن اور دلچسپ مقابلہ ریوڈی جنیرو کے مارا کانا اسٹیڈیم میں ہوا جس میں موجود 80 ہزار سے زائد افراد کے علاوہ دنیا بھر میں موجود کروڑوں شائقین فٹبال نے انٹرنیٹ اور ٹی وی اسکرینوں کے ذریعے ملاحظہ کیا۔


تاہم جو بات قابل غور ہے وہ برازیل کی معیشت کو ورلڈ کپ سے حیران کن مالیاتی سہارا ملنے کی ہے کیونکہ برازیل کی شکست کے باوجود ورلڈ کپ کے جملہ شاندار انتظامات کی مد میں حکومت کو64 ارب ڈالر کی آمدنی ہوئی، اور داخلی اضطراب ، بے چینی، بدامنی اور معاشی مسائل کے شکار برازیلی آبادی کو 28 ارب ڈالر کے بلاواسطہ ثمرات بھی ملیں گے، سیاحوں کی تعداد 80 لاکھ ہوگئی۔ کروڑوں کی شرطیں لگیں۔ افسوس ایک طرف یہ عالمی تناظر ہے کہ کیمرون، کواسٹاریکا، گھانا، آئیوری کوسٹ جیسے قحط زدہ و غریب ملک ورلڈ کپ کوالی فائی کرگئے مگر پاکستان میں ہم وطن فٹبالر محرومیوں کی آگ میں جلتے رہے، کیا لیاری سمیت پورے ملک میں ٹیلنٹ کی کمی ہے؟

پاکستانی فٹبالرز تقسیم ہند سے قبل کلکتہ محمڈن ،اور 1971 ء تک ڈھاکہ وانڈررز اور دیگر محکمہ جاتی کلبوں کی طرف سے لیگ میچز میں شرکت کرتے تھے، خلیجی اور عرب ملکوں کی ٹیمیں پاکستان پر رشک کرتی تھیں ،مگر ان ملکوں نے جدید فٹبال کی ضروریات کے لیے کروڑوں ڈالر اور پونڈ خرچ کیے ، ورلڈ کلاس کوچز اور ٹیموں کو دعوت دی اور ہم کنویں کے مینڈک بنے رہے۔ یہ پاکستان فٹ بال فیڈریشن اور ارباب اختیار کے لیے چشم کشا ہے۔

خدارا فٹ بال کے کرتا دھرتا اپنی نااہلیت کا اعتراف کریں اور پاکستان فٹبال کے معیار کو بلند کرنے کی ٹھوس کوشش اور فٹبال سے کمٹمنٹ کی تجدید کریں اور دیکھیں ، سبق لیں کہ جہاں دنیا بھر میں اس فیصلہ کن معرکے کو دیکھنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے تھے وہاں پاکستان کے طول و عرض میں جرمنی اور ارجنٹائن کے حامیوں نے مختلف شہروں میں مختلف مقامات پر بڑی بڑی اسکرینیں لگاکر بھی اس میچ کو پر جوش انداز میں دیکھا اور اپنی پسندیدہ ٹیموں کی بھرپور حوصلہ افزائی کی۔

وقت آ گیا ہے کہ قومی فٹبال کی تشکیل نو اور ملک کے ہر بڑے شہر میں عالمی معیار کے سٹیڈیمز کی تعمیر اسی جوش وجذبہ سے کی جائے جس کا مظاہرہ برازیل نے ایک چیلنجنگ ٹاسک سمجھ کرکیا ۔پاکستان فٹبال کو یہ چیلنج قبول کرنا چاہئے۔صرف ورلڈ کپ کا تماشائی بننے سے کام نہیں چلے گا ۔ نشاۃ ثانیہ کے لیے ٹیلنٹ ہنٹ اسکیم کا بلا تاخیر آغاز کیا جائے ۔
Load Next Story