مختلف علاقوں میں ملزمان 18 دکانیں لوٹ کر فرار پولیس غائب

نارتھ کراچی میں دودھ، بیکری ، درزی اور پرچون کی دکانیں لوٹی گئیں

کراچی پولیس سربراہ کانااہل و بااثر افسران کیخلاف کارروائی سے گریز۔ فوٹو: ایکسپریس/فائل

KARACHI:
رمضان المبارک کے 15 روز گزرتے ہی کاروباری سرگرمیوں میں تیزی آجاتی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ لوٹ مار کرنے والے ملزمان بھی سرگرم ہوگئے ہیں۔

پیر کو علی الصباح مختلف علاقوں میں ملزمان نے ڈیڑھ درجن سے زائد دکانیں لوٹ لیں جبکہ دکانداروں کو بھی نقدی سے محروم کردیا ، اس موقع پر پولیس و رینجرز کا کہیں نام و نشان نہ تھا ، تفصیلات کے مطابق رمضان المبارک کا دوسرا عشرہ شروع ہوتے ہی کاروباری سرگرمیوں میں تیزی آگئی لیکن اس کے ساتھ ساتھ اسٹریٹ کریمنلز بھی سرگرم ہوگئے ، نارتھ کراچی کے علاقے سیکٹر11/C میں پیر کوعلی الصباح کھلنے والی مختلف دکانیں مسلح افراد نے لوٹ لیں۔


علاقے سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق دودھ فروش ، بیکری ، درزی اور پرچون کی دکانیں کھلی ہوئی تھیں کہ موٹر سائیکلوں پر سوار ایک درجن سے زائد ملزمان آئے اور دکانوں میں نہ صرف لوٹ مار کی بلکہ دکانداروں اور سیلزمین کو نقدی اور موبائل فون سے محروم کردیا ، مسلح افراد باآسانی فرار ہوگئے، اس موقع پر پولیس و رینجرزکا نام و نشان تک دکھائی نہ دیا ، اس سے قبل اتوار کو بھی سرسید ٹائون میں ایک درجن ملزمان نے میڈیکل اسٹور پر لاکھوں روپے کی ڈکیتی کی تھی،فائرنگ کے تبادلے میں سیکیورٹی گارڈ بھی جاں بحق ہوگیا تھا ، اس کے علاوہ سیکٹر 11/B اور دیگر میں گھروں میں ڈکیتی کی وارداتوں میں بھی خطرناک حد تک اضافہ ہوگیا۔

حیرت انگیز طور پرکراچی پولیس کے سربراہ اور دیگر افسران کی جانب سے علاقے کے ایس ایچ او کے خلاف کسی قسم کی کوئی محکمانہ کارروائی نہیں کی جارہی جس کے باعث علاقہ مکینوں میں اشتعال بڑھ رہا ہے،علاوہ ازیں آرام باغ کے علاقے میں برنس روڈ پر قائم باب الاسلام مسجد ، آرام باغ مسجد ، سنہری مسجد اور جناح مسجد میں قائم دکانوں میں بھی پیرکوعلی الصبح ایک درجن سے زائد ملزمان گھس گئے، لوٹ مارکی، درزی کی دکانوں سے مختلف کپڑے ، الیکٹرونکس آلات اور دیگر قیمتی اشیا لوٹ کر فرارہوگئے، انھی ملزمان نے محمد بن قاسم روڈ پر واقع دکانوں میں بھی لوٹ مار کی اور موٹر سائیکلوں پر ہوائی فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہوگئے، واقعے سے علاقے میں سخت خوف و ہراس پھیل گیا اور دکاندار شدید مشتعل ہوگئے۔

دکانداروں کا کہنا ہے کہ انھوں نے فوری طور پر پولیس کو آگاہ کیا لیکن پولیس نے ملزمان کے خلاف کسی قسم کی کارروائی سے گریز کیا ، آرام باغ پولیس کا کہنا ہے کہ کسی بھی دکاندار نے واقعے کے خلاف پولیس میں تحریری طور پر درخواست جمع کرائی اور نہ ہی مقدمہ درج کرایا ، تاجر وںکا کہنا ہے کہ رمضان المبارک کے 15 روز بعد کاروباری سرگرمیاں بڑھتی ہیں اس لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی اپنا فعال کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ جرائم پیشہ عناصر کا قلع قمع کیا جاسکے ، اس قسم کے واقعات سے تاجروں میں بددلی پھیل رہی ہے ،تاجروں نے آئی جی سندھ سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر دکانوں میں لوٹ مار کا نوٹس لیں۔
Load Next Story