کراچی میں تباہی

گزشتہ دنوں اخبارات میں شایع ہونے والی رپورٹ میں ان شہروں کی نشاندہی کی گئی جہاں سے اسلحہ کراچی پہنچتا ہے۔

tauceeph@gmail.com

کراچی کی سڑکوں پر خون پھر بہنے لگا۔ کراچی کی قدیم بوہری کمیونٹی دہشت گردی کا نشانہ بن گئی۔

نارتھ ناظم آباد میں بوہری کمیونٹی کے مرکز کے باہر دو بم دھماکوں میں 6 افراد جاں بحق ہو گئے۔

اس ہفتے کے آغاز پر جماعت اسلامی کے رہنما ڈاکٹر پرویز محمود نارتھ ناظم آباد کی روشنیوں سے بھری سڑک پر قتل ہو گئے۔

منگل کو پشتو کے شاعر اور عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اور بلدیہ کراچی کے تعلیمی شعبے کے افسر معین غم پہ سر قتل ہو گئے۔ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے 6 سے زائد کارکن اس ہفتے ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے۔

امریکا میں بنائی گئی نفرت آمیز فلم کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں پولیس اہلکاروں سمیت 25 افراد جاں بحق، جب کہ 80 سے زائد زخمی ہوئے۔ چار سینما گھروں سمیت متعدد بینک، عمارتیں اور قیمتی املاک کو نذر آتش کر دیا گیا۔

بوہری کمیونٹی کراچی کی قدیم کمیونٹی ہے، جس کے بیشتر ارکان تجارت اور صنعت سے منسلک ہیں۔ یہ لوگ اپنی پر امن روایات اور صلح جوئی کے لیے مشہور ہیں۔ ان کے معاملات اپنے پیشوں میں دلچسپی اور اپنی کمیونٹی کی بہبود کی حد تک محدود ہیں۔ عام طور پر بوہری کمیونٹی کے اراکین سیاسی معاملات سے دور رہتے ہیں، مگر شہر میں بہت سے فلاحی منصوبوں کی تکمیل میں اس کمیونٹی کا خاصا بڑا حصہ رہا ہے۔

اب اس برادری کو ٹارگٹ کرنے کا مقصد فرقہ وارانہ دہشت گردی کو توسیع دینا ہے۔ کراچی کے پرویز محمود ایک کرشماتی شخصیت تھے۔ وہ جماعت اسلامی کے رہنما نعمت اﷲ خان کے دور میں نارتھ ناظم آباد کے ٹائون ناظم منتخب ہوئے اور پھر اپنے ایم کیو ایم مخالف رویے کی بناء پر مشہور ہوئے۔

انھوں نے جماعت اسلامی کی پالیسی سے ہٹ کر سندھ کے قوم پرستوں سے تعلقات قائم کیے، خاص طور پر معروف قوم پرست رہنما رسول بخش پلیجو اور لیاری امن کمیٹی سے تعلقات مستحکم کیے مگر وہ اپنی بات چیت کے حوالے سے بائیں بازو کے رہنما لگتے تھے۔ ڈاکٹر پرویز محمود کو جنرل ضیاء الحق کے دور میں اسلامی جمعیت طلباء کی ایک تحریک کے نتیجے میں جیل جانا پڑا۔

کراچی میں جیل حکام نے ڈاکٹر پرویز محمود کو سینٹرل جیل کی اس بیرک میں بھیج دیا جہاں جام صادق کیس کے ملزمان سابق کمیونسٹ رہنما پروفیسر جمال نقوی، ڈاکٹر جبار خٹک، سہیل سانگھی، شبیر شر، احمد کمال وارثی، بدر ابڑو وغیرہ نظر بند تھے۔

یوں ڈاکٹر پرویز محمود کو ان لوگوں سے بحث و مباحثے کا موقع ملا۔ شاید جیل حکام نے ڈاکٹر پرویز کو سزا دینے کے لیے کمیونسٹوں کی بیرک میں بھیج دیا تھا مگر ڈاکٹر پرویز کے لیے یہ ایک دوستانہ اور خوشگوار ماحول بن گیا۔ ڈاکٹر پرویز بھگت سنگھ کو اپنا آئیڈیل قرار دیتے تھے۔ ان کے پسندیدہ شاعروں میں فیض احمد فیض اور ساحر لدھیانوی نمایاں تھے۔

ڈاکٹر پرویز نے مجھے بتایا تھا کہ طالب علمی کے زمانے میں وہ بائیں بازو کی طلباء تنظیم نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن (NSF) کے قریب آ گئے تھے مگر این ایس ایف کے کسی کارکن کے مذہب کے بارے میں خیالات سے مایوس ہو کر وہ اسلامی جمعیت طلبہ میں شامل ہو گئے۔ ان کا خیال تھا کہ کارل مارکس کے نظریے سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔

اگرچہ ڈاکٹر پرویز محمود کے خیالات سے اختلافات کیا جا سکتا ہے مگر ان کے قتل کا کسی مہذب معاشرے میں کوئی جواز نہیں ہے۔ معین غم پہ سر نے سابقہ اردو کالج سے تعلیم میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی تھی۔ ان کا تعلق نچلے متوسط طبقے سے تھا۔ معین نے ساری زندگی جدوجہد کی۔ وہ اپنے روشن اور ترقی پسند خیالات کی بناء پر جانے جاتے تھے۔


معین نے طلباء تحریک میں نمایاں حصہ لیا۔ انھوں نے پختون اسٹوڈنٹس فیڈریشن کو ہمیشہ باچا خان کی روایات کے مطابق منظم کیا۔ معین ایک صلح جو اور رواداری کے امین کارکن تھے۔ معین غم پہ سر کراچی میں تشدد اور لسانی ٹارگٹ کلنگ کے بارے میں منفرد خیالات رکھتے تھے۔ ان کے پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم، جماعت اسلامی اور دوسری جماعتوں کے رہنمائوں سے ہمیشہ خوشگوار تعلقات رہے۔

معین کا خاندان پختون خوا میں طالبان کی دہشت گردی سے براہِ راست متاثر ہوا تھا۔ گزشتہ ماہ پشاور میں ایک موٹر گیراج میں بم دھماکے میں ان کے بھتیجے شہید ہو گئے تھے۔ اب خود انھیں شہید کر دیا گیا۔ معین غم پہ سر کو کس گروہ نے اور کیوں قتل کیا یہ بات شاید کبھی پتہ نہ چل سکے۔ کراچی میں یوں تو گزشتہ 30 برسوں سے صورتحال خراب ہے مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ حالات مزید خراب ہوتے جا رہے ہیں۔

2008ء میں جب پیپلز پارٹی نے اقتدار سنبھالا تو صدر زرداری نے سندھ اسمبلی میں نمایندگی رکھنے والی تمام سیاسی جماعتوں کو حکومت میں شامل کیا۔ پیپلز پارٹی کے علاوہ ایم کیو ایم، اے این پی اور مسلم لیگ فنکشنل حکومت میں شامل ہو گئیں، بعد ازاں نیشنل پیپلز پارٹی کے اراکین نے بھی وزارتیں سنبھال لیں۔ مختلف نظریات رکھنے والی سیاسی جماعتوں کو سندھ میں امن اور ترقی کے مقصد کے لیے متحد کرنے کا ایک منفرد تجربہ کیا گیا۔

دنیا کی دوسری بڑی جمہوریتوں مثلاً بھارت اور برطانیہ وغیرہ میں ایسے بہت سے تجربات ہوئے اور ان تجربوں کے مفید نتائج برآمد ہوئے، مگر سندھ کی حد تک اس تجربے کے خاطر خواہ اور مطلوبہ نتائج برآمد نہ ہو سکے۔

اس صورتحال کے بنیادی اسباب کیا ہیں اب اس معاملے پر بحث کی اشد ضرورت ہے۔ رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کا کہنا ہے کہ کراچی کی بد امنی کی وجوہات میں صدر آصف علی زرداری کی طرزِ حکومت کا بھی دخل ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ سندھ کے سب سے معمر رہنما قائم علی شاہ کو صوبہ سندھ کا چیف ایگزیکٹو بنایا گیا جو 1970ء سے پیپلز پارٹی کی ہر حکومت میں وزیر رہے مگر عمر کے اس حصے میں ان کا متحرک ہونا خاصا اہم مسئلہ رہا۔ پھر انھیں کبھی بھی وزیر اعلیٰ کے مکمل اختیارات حاصل نہیں ہوئے۔

گزشتہ چار برسوں کے دوران دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے ہر واقعے کے بعد پولیس کی نااہلی ثابت ہوئی، یوں محسوس ہوتا ہے کہ پولیس کا نظام مفلوج ہو چکا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے نیٹ ورک کی ناکامی کا بھی پتہ چلتا ہے۔ سندھ کے سابق آئی جی پولیس واجد درانی نے سپریم کورٹ کے کراچی بدامنی از خود سماعت مقدمے میں اس بات کا اقرار کیا تھا کہ پولیس میں 30 سے 40 فیصد سیاسی بھرتیاں ہیں۔

انھوں نے اپنی بے بسی کا اقرار کرتے ہوئے کہا تھا کہ انھیں گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے افسروں کے تبادلوں اور تقرریوں کا اختیار نہیں ہے۔ واجد درانی کے اس بیان سے ان کے محکمے کے مفلوج ہونے کی ایک وجہ سامنے آ گئی، مگر المیہ یہ ہے کہ آئی جی کے بیان کردہ ان حقائق پر توجہ نہیں دی گئی اور یہ سوال اب بھی موجود ہے کہ سندھ میں پولیس افسروں کے تبادلے کون کر رہا ہے اور وہ کس کے سامنے جوابدہ ہیں؟

یہی وجہ ہے کہ پولیس ہر ہفتے ٹارگٹ کلرز کی گرفتاری کا اعلان کرتی ہے، کچھ ملزمان کو چہرہ چھپا کر صحافیوں اور میڈیا کے سامنے پیش کیا جاتا ہے مگر حالات بدستور خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ شہر میں اسلحے کی بھر مار ہے۔

گزشتہ دنوں اخبارات میں شایع ہونے والی رپورٹ میں ان شہروں کی نشاندہی کی گئی جہاں سے اسلحہ کراچی پہنچتا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق خیبر پختون خوا اور بلوچستان کی پختون بیلٹ سے اسمگل شدہ اسلحہ پنجاب اور صوبہ سندھ کے مختلف شہروں سے ہوتا ہوا کراچی میں تقسیم ہوتا ہے۔

یہ اربوں روپے کی تجارت ہے، اس میں چاروں صوبوں کی بااثر شخصیات ملوث ہیں۔ پھر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مختلف سرکاری ایجنسیاں کراچی میں پریشر گروپوں کی سرپرستی کرتی ہیں اور ان گروپوں کے کارندے ٹارگٹ کلنگ کرتے ہیں۔ گو کہ وزیر داخلہ اس الزام کی تردید کرتے ہیں اور وہ کراچی کی صورتحال کی ذمے داری طالبان اور غیر ممالک کی ایجنسیوں پر عائد کرتے ہیں۔

مگر ان غیر ملکی قوتوں کا توڑ کرنے کا فریضہ تو ملکی ایجنسیوں کو ہی انجام دینا ہے۔ یہ بھی الزام لگایا جاتا ہے کہ صدر زرداری سیاسی بحران کو پیدا ہونے سے روکنے کے لیے بعض اہم معاملات کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ یہ الزام ایم کیو ایم، اے این پی اور دوسری جماعتیں بھی عائد کرتی ہیں مگر اب سوال یہ ہے کہ کراچی کو تباہی سے بچانے کے لیے حقیقی اقدامات کب ہونگے؟ کیا شہر میں یوں ہی قتل و غارت گری کا سلسلہ جاری رہے گا؟

کیا شہر کے باسی زندگیاں بچانے کے لیے پھر ہجرت کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہونگے؟ کیا پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور دوسری جماعتیں کراچی میں مستقل امن کا حل تلاش کر سکیں گی؟ وقت گزر رہا ہے، اگر یہ جماعتیں حل تلاش نہ کر سکیں تو پھر شاید کوئی اور قوت اپنے مقاصد کے لیے امن قائم کرنے کا ٹھیکہ سنبھال لے گی۔
Load Next Story