دہشت گردوں کے نیٹ ورک کا سراغ لگانے میں ناکام ہوگئے حکومت سندھ کا عدالت میں موقف
وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایت کی ہے کہ آپریشن میں انسانی حقوق کاخیال رکھا جائے،مصطفیٰ مہیسر
ہم آپریشن کیخلاف نہیں لیکن معصوم شہریوں کو ماورائے عدالت قتل کیاجا رہاہے،حسنین بخاری،حکومت کراچی آپریشن میکنزم سے آگاہ کرے،عدالت۔ فوٹو: فائل
دہشت گردوں کے خلاف خیبرپختونخوامیں جاری آپریشن کے باعث لوگ کراچی آرہے ہیں، قانون نافذکرنے والے اداروںکو کراچی میںدہشت گردوں کے نیٹ ورک کا سراغ لگانے میںمشکلات کا سامنا ہے تاہم ادارے اس کے لیے ہرممکن اقدام کررہے ہیں۔
اس مہم میں رینجرز اورپولیس کے اہلکارشہید بھی ہوئے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے رینجرزاور پولیس کوہدایت کی ہے کہ آپریشن کے دوران انسانی حقوق کاخیال رکھا جائے۔ اس ضمن میںجلد ہی جوڈیشل کمیشن بھی قائم کیا جائے گا۔ یہ بات صوبائی حکومت کی جانب سے سندھ ہائیکورٹ میںپیش کی گئی رپورٹ میںبتائی گئی۔ جسٹس محمدعلی مظہرکی سربراہی میں 2رکنی بینچ نے متحدہ قومی موومنٹ کے کارکنوںکے ماورائے عدالت قتل کیخلاف دائردرخواستوں کی سماعت کی۔ اس موقع پراسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل سندھ مصطفیٰ مہیسرنے کراچی آپریشن سے متعلق رپورٹ پیش کی۔
رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ تمام فریقوں کی مشاورت سے وزیراعلیٰ سندھ کی سربراہی میںآپریشن جاری ہے اورجلد ہی کراچی آپریشن سے متعلق جوڈیشل کمیشن تشکیل دیے جانے کا امکان ہے۔ عدالت کوبتایا گیاکہ وزیراعلیٰ سندھ کی سربراہی میں 10جون اور 16جولائی کواہم اجلاس منعقدہوا جس میں ڈی جی رینجرزاور آئی جی سندھ نے بھی شرکت کی ہے۔ سماعت کے دوران ایم کیوایم کے وکیل حسنین بخاری نے کہاکہ ہم کراچی آپریشن کے خلاف نہیں لیکن معصوم شہریوں کو آپریشن کی آڑمیں ماورائے عدالت قتل کیاجا رہاہے۔
اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہاکہ جب ایم کیوایم حکومت میںنہیں تھی توآپریشن کے خلاف تھی اوراب حکومت میںشامل ہوگئی ہے تو کراچی آپریشن سے متعلق منفی پروپیگنڈا کررہی ہے۔ ایم کیو ایم کے کارکنان کے قتل کی تحقیقات کے لیے بنائی جانے والی کمیٹیوں میں ان کے نمائندے شرکت نہیںکرتے۔ اس موقع پرجسٹس محمدعلی مظہر نے ریمارکس دیے کہ شہریوںکے قتل کی وجوہ کچھ بھی ہوں، حکومت عدالتی احکام پر عمل کرتے ہوئے کراچی آپریشن کے میکنزم کے حوالے سے عدالت کوآگاہ کرے۔ ایم کیوایم کے وکیل نے بتایاکہ حکومت نے دہشت گردی کے دوران قتل ہونے والے شہریوںکو معاوضہ اداکرنے کااعلان کیاتھا۔ اس حوالے سے عدالتی احکام بھی موجودہیں۔ عدالت نے ہدایت کی کہ اس بارے میںاحکام کی نقول پیش کی جائیں۔ عدالت نے 7اگست تک سماعت ملتوی کردی۔
اس مہم میں رینجرز اورپولیس کے اہلکارشہید بھی ہوئے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے رینجرزاور پولیس کوہدایت کی ہے کہ آپریشن کے دوران انسانی حقوق کاخیال رکھا جائے۔ اس ضمن میںجلد ہی جوڈیشل کمیشن بھی قائم کیا جائے گا۔ یہ بات صوبائی حکومت کی جانب سے سندھ ہائیکورٹ میںپیش کی گئی رپورٹ میںبتائی گئی۔ جسٹس محمدعلی مظہرکی سربراہی میں 2رکنی بینچ نے متحدہ قومی موومنٹ کے کارکنوںکے ماورائے عدالت قتل کیخلاف دائردرخواستوں کی سماعت کی۔ اس موقع پراسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل سندھ مصطفیٰ مہیسرنے کراچی آپریشن سے متعلق رپورٹ پیش کی۔
رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ تمام فریقوں کی مشاورت سے وزیراعلیٰ سندھ کی سربراہی میںآپریشن جاری ہے اورجلد ہی کراچی آپریشن سے متعلق جوڈیشل کمیشن تشکیل دیے جانے کا امکان ہے۔ عدالت کوبتایا گیاکہ وزیراعلیٰ سندھ کی سربراہی میں 10جون اور 16جولائی کواہم اجلاس منعقدہوا جس میں ڈی جی رینجرزاور آئی جی سندھ نے بھی شرکت کی ہے۔ سماعت کے دوران ایم کیوایم کے وکیل حسنین بخاری نے کہاکہ ہم کراچی آپریشن کے خلاف نہیں لیکن معصوم شہریوں کو آپریشن کی آڑمیں ماورائے عدالت قتل کیاجا رہاہے۔
اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہاکہ جب ایم کیوایم حکومت میںنہیں تھی توآپریشن کے خلاف تھی اوراب حکومت میںشامل ہوگئی ہے تو کراچی آپریشن سے متعلق منفی پروپیگنڈا کررہی ہے۔ ایم کیو ایم کے کارکنان کے قتل کی تحقیقات کے لیے بنائی جانے والی کمیٹیوں میں ان کے نمائندے شرکت نہیںکرتے۔ اس موقع پرجسٹس محمدعلی مظہر نے ریمارکس دیے کہ شہریوںکے قتل کی وجوہ کچھ بھی ہوں، حکومت عدالتی احکام پر عمل کرتے ہوئے کراچی آپریشن کے میکنزم کے حوالے سے عدالت کوآگاہ کرے۔ ایم کیوایم کے وکیل نے بتایاکہ حکومت نے دہشت گردی کے دوران قتل ہونے والے شہریوںکو معاوضہ اداکرنے کااعلان کیاتھا۔ اس حوالے سے عدالتی احکام بھی موجودہیں۔ عدالت نے ہدایت کی کہ اس بارے میںاحکام کی نقول پیش کی جائیں۔ عدالت نے 7اگست تک سماعت ملتوی کردی۔