اسرائیل اور عالمی برادری
فلسطین کے شہر غزہ میں اسرائیل کی کارروائیاں تاحال جاری ہیں۔
فلسطینی حکام کے مطابق اسرائیل کی حالیہ کارروائیوں میں فلسطین کی ہلاکتیں 2012 کی جنگ سے بھی زیادہ ہیں۔ فوٹو؛ اے ایف پی/فائل
فلسطین کے شہر غزہ میں اسرائیل کی کارروائیاں تاحال جاری ہیں۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اگلے روز بھی اسرائیل نے فضائی حملوں میں غزہ شہر میں واقع حماس کے تین فوجی مراکز اور عمارتوں کو نشانہ بنایا۔ بمباری سے اقوام متحدہ کے ذخائر اور خوراک کے ڈپو بھی تباہ ہوئے ہیں۔ فلسطینی حکام کے مطابق اسرائیل کی حالیہ کارروائیوں میں فلسطین کی ہلاکتیں 2012 کی جنگ سے بھی زیادہ ہیں۔
ادھر میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے زمینی حملے روک دیے ہیں جب کہ فضائی اور راکٹ حملوں میں بھی کمی آئی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے بھی اسرائیلی حکومت سے زمینی حملے بند کرنے کی اپیل کی تھی' ادھر عرب لیگ نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کے غزہ پر حملے بند کرائے اور فلسطینیوں کو تحفظ فراہم کرے۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ فلسطینی اسرائیل کے مقابلے میں کمزور ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کی حکومت جب چاہتی ہے کہ فلسطینیوں کے خلاف کارروائی شروع کر دیتی ہے۔ عالمی برادری جس میں عرب لیگ بھی شامل ہے' اسرائیلی حکومت سے صرف جنگ بند کرنے کی اپیلیں کرتی ہے' اگر عرب لیگ اور او آئی سی ہی متحرک کردار ادا کریں تو صورت حال میں خاصی تبدیلی آسکتی ہے لیکن بدقمستی سے مسلم ممالک سیاسی اور مسلکی اختلافات کا شکار ہیں اور بیشتر خانہ جنگی میں مبتلا ہیں' عراق' یمن' شام اور لیبیا اس کی واضح مثالیں' بعض مسلم ممالک امریکا اور مغرب کے قریب ہیں اور اپنے تعلقات بچانے کے لیے کھل کر فلسطین کی حمایت نہیں کر رہے۔
امریکا اور برطانیہ کا کردار یہ ہے کہ وہ اسرائیل کی کھل کر حمایت کرتے ہیں' اب تک اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان جتنے مذاکرات ہوئے ہیں' انھیں اسرائیل نے سبوتاژ کیا اور جو معاہدے ہوئے ہیں' ان پر بھی اسرائیل نے عمل نہیں کیا۔ اب بھی صورت حال یہ ہے کہ امریکا' برطانیہ اور یورپی یونین اسرائیلی حملوں کی مذمت کر رہے ہیں لیکن فلسطینیوں کے مسائل حل کرنے کی کوشش نہیں کی جا رہی۔ روس اور چین بھی اپنے مفادات سے آگے نہیں بڑھتے' عالمی طاقتوں کی مصلحت اندیشی اور دو عملی کے نتیجے میں فلسطینیوں کا قتل عام ہو رہا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ مسلم دنیا میں بھی تقسیم پیدا ہو رہی ہے۔
اس وقت مسلم ممالک میں دہشت گردی کا جو کلچر پروان چڑھا ہے' اس کے پس منظر میں عالمی طاقتوں کی دو عملی پر مبنی پالیسیاں ہیں' جن کے باعث مسلم ممالک میں احساس محرومی پیدا ہوا۔ عالمی طاقتوں خصوصاً امریکا اور یورپ کو چاہیے کہ وہ اسرائیل کے حوالے سے اپنی پالیسی پر نظرثانی کریں اور فلسطینیوں کو ان کا حق دلائیں اس طریقے سے دنیا میں دہشت گردی کا خاتمہ ہو جائے گا۔
ادھر میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے زمینی حملے روک دیے ہیں جب کہ فضائی اور راکٹ حملوں میں بھی کمی آئی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے بھی اسرائیلی حکومت سے زمینی حملے بند کرنے کی اپیل کی تھی' ادھر عرب لیگ نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کے غزہ پر حملے بند کرائے اور فلسطینیوں کو تحفظ فراہم کرے۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ فلسطینی اسرائیل کے مقابلے میں کمزور ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کی حکومت جب چاہتی ہے کہ فلسطینیوں کے خلاف کارروائی شروع کر دیتی ہے۔ عالمی برادری جس میں عرب لیگ بھی شامل ہے' اسرائیلی حکومت سے صرف جنگ بند کرنے کی اپیلیں کرتی ہے' اگر عرب لیگ اور او آئی سی ہی متحرک کردار ادا کریں تو صورت حال میں خاصی تبدیلی آسکتی ہے لیکن بدقمستی سے مسلم ممالک سیاسی اور مسلکی اختلافات کا شکار ہیں اور بیشتر خانہ جنگی میں مبتلا ہیں' عراق' یمن' شام اور لیبیا اس کی واضح مثالیں' بعض مسلم ممالک امریکا اور مغرب کے قریب ہیں اور اپنے تعلقات بچانے کے لیے کھل کر فلسطین کی حمایت نہیں کر رہے۔
امریکا اور برطانیہ کا کردار یہ ہے کہ وہ اسرائیل کی کھل کر حمایت کرتے ہیں' اب تک اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان جتنے مذاکرات ہوئے ہیں' انھیں اسرائیل نے سبوتاژ کیا اور جو معاہدے ہوئے ہیں' ان پر بھی اسرائیل نے عمل نہیں کیا۔ اب بھی صورت حال یہ ہے کہ امریکا' برطانیہ اور یورپی یونین اسرائیلی حملوں کی مذمت کر رہے ہیں لیکن فلسطینیوں کے مسائل حل کرنے کی کوشش نہیں کی جا رہی۔ روس اور چین بھی اپنے مفادات سے آگے نہیں بڑھتے' عالمی طاقتوں کی مصلحت اندیشی اور دو عملی کے نتیجے میں فلسطینیوں کا قتل عام ہو رہا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ مسلم دنیا میں بھی تقسیم پیدا ہو رہی ہے۔
اس وقت مسلم ممالک میں دہشت گردی کا جو کلچر پروان چڑھا ہے' اس کے پس منظر میں عالمی طاقتوں کی دو عملی پر مبنی پالیسیاں ہیں' جن کے باعث مسلم ممالک میں احساس محرومی پیدا ہوا۔ عالمی طاقتوں خصوصاً امریکا اور یورپ کو چاہیے کہ وہ اسرائیل کے حوالے سے اپنی پالیسی پر نظرثانی کریں اور فلسطینیوں کو ان کا حق دلائیں اس طریقے سے دنیا میں دہشت گردی کا خاتمہ ہو جائے گا۔