اب صرف وقت دُعا ہے

معذرت خواہ ہوں کہ کل صبح صبح کالم لکھتے وقت ایسی بدخبریاں ملیں کہ میرا دماغ چل گیا

Abdulqhasan@hotmail.com

معذرت خواہ ہوں کہ کل صبح صبح کالم لکھتے وقت ایسی بدخبریاں ملیں کہ میرا دماغ چل گیا اور اس حالت میں ایک غیر معیاری اور معمول سے گرا ہوا ایک کالم لکھ دیا۔ وہ تو ایڈیٹر کی مہربانی کہ اس نے چھاپ دیا ورنہ وہ ردی کی ٹوکری کو بھی شاید قبول نہ ہوتا۔

بہر کیف جو ہوا سو ہوا لیکن اب جو صورت حال سامنے آئی ہے وہ ہر بات سے بالاتر اور بلند ہے' ہمارے وزیر بجلی نے اپنے ایک ساتھی وزیر کی معیت ہی میں قوم کو نجات کی راہ دکھائی ہے کہ وہ لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کی ہم حکمرانوں سے توقع نہ رکھیں یعنی ہمارے تمام سابقہ وعدوں کو فراموش کر دیں اور اب اپنے اللہ سے دعا کریں کہ وہ بارش ہی برسا دے کیونکہ بجلی تو ہم دے نہیں سکتے کہ روزہ داروں کو گرمی بلکہ بلا کی ہوشربا اور جان لیوا گرمی سے بچا سکیں۔ اب صرف دعا کا راستہ باقی رہ گیا ہے قوم اسی راستے پر نکل جائے۔

جناب وزیر صاحبان جن کا نام لکھنا بھی ایک نازیبا حرکت ہو گی شکر ہے کہ ایک صحیح نتیجے پر پہنچ گئے ہیں اب عوام ان کے مشورے کے مطابق لوڈ شیڈنگ سے نہیں حکمران شیڈنگ کی دعا مانگ رہے ہیں کیونکہ جو اس قومی عذاب کا اصل سبب ہے 'وہ ختم ہو گا تو قوم کو اس عذاب مسلسل سے نجات ملے گی۔ ثواب و عذاب سے ہر مسلمان واقف ہے اور وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ عذاب کیا ہے اور ثواب کیا ہے۔ ثواب کہاں سے اور کیسے ملتا ہے اور عذاب کہاں سے اور کیسے ملتا ہے۔

عذاب و ثواب کا یہ تصور ایک مسلمان کو اس کی پیدائش کے ساتھ ہی مل جاتا ہے سوائے ان کے جو حکمران بن جاتے ہیں اور عذاب و ثواب کو اپنی طاقت اور قدرت میں سمجھ لیتے ہیں۔ مسلمانوں کے یہ وہ حکمران ہوتے ہیں جو اپنے حصے کا ثواب و عذاب اسی دنیا میں حاصل کر لیتے ہیں۔ یہ تو ہو سکتا ہے کہ اس دنیا میں کسی حکمران کو اس کے اقتدار اور دولت کی وجہ سے کوئی دکھ نہ ملے لیکن اس کا یہ دکھ سکھ لوڈ شیڈنگ کی طرح آتا جاتا رہتا ہے جیسے ہر گھنٹے کے بعد بجلی آتی اور جاتی ہے البتہ دوست مل مالکوں کو بجلی کی قلت محسوس نہیں ہوتی ان کے کارخانوں کا پہیہ گھومتا رہتا ہے۔ پہیہ صرف عوام کا جام ہوتا ہے اور ہوتا چلا جاتا ہے۔

بات توبہ و استغفار کی ہو رہی تھی اور ایک وزیر کو میں داد دینا چاہتا تھا جس نے ایک مسلمان حکمران کی طرح قوم کو سیدھی راہ دکھائی کہ ہر بات کا مالک اللہ ہے اور وہ چاہے تو بارش برسا کر بجلی کی ضرورت کو کم کر سکتا ہے اور یوں لوڈ شیڈنگ ختم یا کم ہو سکتی ہے اس پر کوئی خرچ بھی نہیں اٹھتا بارش پر کیا خرچ ہوتا ہے بس دعا کی درخواست ہے اور وزرائے کرام جہاں دعا کی درخواست کر رہے تھے وہاں ان کا فرض تھا کہ وہ دعا کو مثبت رکھیں اسے منفی نہ کریں یعنی بارش کی آمد تک محدود رکھیں ۔ مسلمانوں کی اجتماعی دعا میں بڑی تاثیر ہوتی ہے۔

ہمیں تاریخ میں ایسی اجتماعی دعائوں کی قبولیت کی کئی مثالیں ملتی ہیں ان کی تفصیلات سے بات لمبی ہو جائے گی اور عین ممکن ہے حکمرانوں پر گراں بھی گزرے اس لیے دعا کو بس صرف دعا تک محدود کرتے ہوئے عوام تک وزراء کی یہ درخواست پہنچاتے ہیں اور عوام سے ان کی قدر کرنے کی اپیل بھی کرتے ہیں کہ وزیروں نے پہلی بار سچ بولا ہے کہ ان کے پاس بجلی نہیں ہے اور وہ اس کا کوئی وعدہ بھی نہیں کرتے۔


اب یہ کون بتائے کہ کیا ان وزیروں کی وزارت کے لیے کسی احمق نے کوئی دعا مانگی تھی یا یہ خود بخود ہی وزیر بن گئے ہیں۔ مرحوم و مغفور خواجہ محمد صفدر کی دیانت و امانت کا میں عینی شاہد ہوں ایک مدت تک مجھے ان کی کھلی اور صاف ستھری زندگی کو دیکھنے کا موقع ملا ہے ہو سکتا ہے خواجہ صاحب مرحوم کی کسی دعا کے نتیجے میں ہی ان کے صاحبزادے کو وزارت ملی ہو اور وہ اسی دعا کے بدلے میں قوم سے بھی دعا طلب کر رہے ہوں۔

جس دن کے اخبار میں یہ دعائیہ بیان چھپا ہے اسی دن ایک اشتہار بھی چھپا ہے جو میرے لیے حیران کن ہے یہ اشتہار صوبائی وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی طرف سے وزیر اعظم پاکستان کے نام ہے جس میں صوبے کے مسائل اور صوبے کی حق تلفیوں کا ذکر ہے۔ یہ بات کسی ملاقات میں ہو سکتی تھی کسی میٹنگ میں اس کا ذکر کیا جا سکتا تھا لیکن برسر عام ایک اشتہار میں یہ واویلا مجھے عجیب سا لگا ہے جو کم از کم ایک صوبے اور وفاق کے مابین واضح اختلاف ہے جو اس قدر بڑھ چکا ہے کہ اسے اخبار میں بیان کرنا پڑ گیا ہے اور وہ بھی اشتہار کی صورت میں یعنی اسے پورا ملک دیکھ لے۔

یہ کوئی اچھی بات نہیں لیکن نوبت یہاں تک کیوں پہنچی اس کا جواب کون دے گا۔ عوام تو صرف حیرت کا اظہار ہی کر سکتے ہیں۔ افسوس کہ بات اخباروں اور اشتہاروں تک پہنچ گئی ہے ایک ملک کے چار بھائی ہیں۔ ان میں اختلاف اور تنازعے ہوتے ہیں لیکن کیا یہ سب کوئی تماشا ہوتا ہے چلیے اسے چھوڑئیے اور ایک خوش خبری ملاحظہ فرمائیے۔

خوش خبری یہ ہے کہ لاہور کی پولیس کو گاڑیوں کے شیشے توڑنے والے جناب گلو بٹ کا وہ مشہور و معروف ڈنڈا مل گیا ہے جس نے اس حیران کن حادثے میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ گلو بٹ کو دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا اور عدالت نے اس کے جسمانی ریمانڈ میں پانچ روز کی توسیع کر دی ہے۔ پولیس نے عدالت کو بتایا کہ ملزم نے گاڑیوں کو توڑ پھوڑ کر لیے جو ڈنڈا استعمال کیا تھا وہ مل گیا ہے لیکن پستول کی برآمدگی ابھی باقی ہے گلو بٹ کو انتہائی سخت حفاظتی انتظام میں عدالت میں لایا گیا۔ مقصد اسے عوام سے بچانا تھا چنانچہ عدالت میں کسی غیر متعلقہ شخص کو داخلے کی اجازت نہیں تھی۔

گلو بٹ میرا تو ہیرو ہے ہی اب یہ کئی پاکستانیوں کا ہیرو بھی ہے کیونکہ جو سیاستدان اور ہمارے مبینہ ہیرو چھپ کر کیا کرتے ہیں وہ سب اس نے برسرعام سب کے سامنے کر دیا ہے۔ یہ ایک قطعاً غیر منافق پاکستانی ہے اس کی جس قدر بھی تعریف کی جائے کم ہے وہ اپنے اس جرم پر اگر یہ جرم ہے تو نادم نہیں ہے اور ایک غیر منافق اور صاف دل پاکستانی کی یہ ایک علامت ہے کاش ایسے کئی گلو بٹ پیدا ہو جائیں جو چاروں طرف موقع ملنے پر تباہی پھیلا دیں اور صاحب حیثیت لوگوں کو ہر ممکن نقصان پہنچا دیں۔ پولیس اگر گلو بٹ کی سلامتی اور حفاظت کا غیر معمولی انتظام کرتی ہے تو یہ پولیس کی شاید پہلی قومی خدمت ہے۔

آخر میں عرض ہے کہ بارش کے لیے دعا پوری قوم کو مل کر مانگنی ہے اس کے لیے کسی میدان میں روزہ داروں کو جمع کیا جائے لیکن یہ خاص خیال رہے کہ ان دعا مانگنے والوں میں کوئی وزیر یا سرکاری نمایندہ شامل نہ ہو ورنہ دعا مشکوک ہو جائے گی۔
Load Next Story