پی جی جے ڈی سی بورڈ میں 3 ارکان اسمبلی شامل ایکسپورٹرز قانونی چارہ جوئی کریں گے

جیم اینڈجیولری انڈسٹری کی نمائندہ دونوں ایسوسی ایشنز میں اضطراب، ایسوسی ایشن نے وزارت صنعت کو قانونی نوٹس بھیج دیا

جیم اینڈجیولری انڈسٹری کی نمائندہ دونوں ایسوسی ایشنز میں اضطراب، ایسوسی ایشن نے وزارت صنعت کو قانونی نوٹس بھیج دیا۔ فوٹو: فائل

وزارت صنعت و پیداوار نے انڈسٹری کی نمائندہ ایسوسی ایشنز کو نظر انداز کرتے ہوئے سونے کے زیورات اور قیمتی پتھروں کی صنعت کی ترقی کے لیے کام کرنے والی پاکستان جیمز اینڈ جیولری ڈیولپمنٹ کمپنی (پی جی جے ڈی سی) کے بورڈ میں حکمراں جماعت کی 3 خواتین ارکان قومی اسمبلی کو شامل کردیا ہے۔

وفاقی وزارت صنعت و پیداوار کی جانب سے جولائی کے پہلے ہفتے میں جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والی 3 خواتین ارکان قومی اسمبلی کی بورڈ میں شمولیت وزیر اعظم نواز شریف کی منظوری سے کی گئی ہے جن میں ماروی میمن، شہزادی تیوانہ اور شائستہ ملک شامل ہیں، کمپنی کے بورڈ میں حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والی 3 اراکین قومی اسمبلی کی شمولیت پر جیم اینڈ جیولری انڈسٹری کی نمائندہ دونوں انجمنوں میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے، انڈسٹری کی جانب سے بورڈ کی تشکیل کو غیرقانونی قرار دیا جارہا ہے اور انڈسٹری کی نمائندہ آل پاکستان کمرشل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کی جانب سے وفاقی وزارت صنعت و پیداوار کو قانونی نوٹس بھی ارسال کردیا گیا ہے۔

انڈسٹری ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان جیمز اینڈ جیولری ڈیولپمنٹ کمپنی کے میمورنڈم آف ایسوسی ایشن کی رو سے بورڈ میں کسی سیاسی شخصیت کی شمولیت کی قطاً کوئی گنجائش نہیں ہے، سابقہ حکومت نے بھی انڈسٹری کی حقیقی نمائندگی کو رد کرتے ہوئے بورڈ میں ایک سیاسی جماعت کی خاتون رکن کو نمائندگی دی جنہیں چیئرپرسن تعینات کیا گیا، ان کے دور میں کمپنی کے مالی نظم و ضبط میں بڑے پیمانے پر بے قاعدگیاں سامنے آئیں اور کمپنی کی کارکردگی پست رہی جس کی وقتاً فوقتاً نشاندہی کی جاتی رہی تاہم موجودہ حکومت نے سابقہ حکومت کو بھی مات دیتے ہوئے ایک چھوڑ تین تین خواتین رکن اسمبلی کو بورڈ میں شامل کردیا، بورڈ میں گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا کے تاجروں سمیت ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کو بھی نمائندگی نہیں دی گئی۔


کمپنی کے میمورنڈم آف ایسوسی ایشن کے مطابق کمپنی میں آل پاکستان جیمز مرچنٹس اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن اور آل پاکستان کمرشل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین یا ایسوسی ایشن کے نامزد کردہ فرد کی بورڈ میں نمائندگی لازمی ہے تاہم حیرت انگیز طور پر نئے بورڈ کی تشکیل میں دونوں ایسوسی ایشنز کو یکسر نظر انداز کیا گیا ہے۔ آل پاکستان جیم مرچنٹس اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین حبیب الرحمٰن نے رابطہ کرنے کہا کہ بورڈ کی تشکیل کے بارے میں ایسوسی ایشن سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی ایسوسی ایشن کو بورڈ میں کوئی نمائندگی دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ آل پاکستان جیم اینڈ جیولری ڈیولپمنٹ کمپنی اپنے قیام کے ایک سال بعد سے ہی سیاسی اثرورسوخ اور جینوئن لوگوں کو نظر انداز کیے جانے کی وجہ سے اپنے قیام کے مقاصد پورے کرنے میں بری طرح ناکام ہے، پاکستان سے جیم اینڈ جیولری کی ایکسپورٹ باآسانی 5ارب ڈالر تک بڑھانے کی گنجائش موجود ہے تاہم سیاسی اثرورسوخ اور بے قاعدگیوں کی وجہ سے کمپنی انڈسٹری کی ترقی کے لیے کوئی قابل ذکر کارنامہ انجام نہیں دے سکی۔

آل پاکستان کمرشل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین عاطف رشید نے کہا کہ آل پاکستان کمرشل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کئی سال سے آل پاکستان جیم اینڈ جیولری ڈیولپمنٹ کمپنی میں بے قاعدگیوں کی نشاندہی کررہی ہے، حالیہ بورڈ کی تشکیل میں ایکسپورٹرز کو نظر انداز کرتے ہوئے سیاسی شخصیات کی شمولیت اور انڈسٹری کی نام نہاد نمائندگی پر وفاقی وزارت صنعت و پیداوار کو قانونی نوٹس ارسال کردیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور امن و امان کی مخدوش صورتحال کی وجہ سے خیبر پختوانخوا کی جیم انڈسٹری بدترین بحران کا شکار ہے جسے جدید خطوط پر استوار کرنے اور بیرون ملک مارکیٹنگ کے لیے ہنگامی بنیادوں پراقدامات کی ضرورت ہے لیکن جیم اسٹون اور قیمتی پتھروں کے قیمتی ذخائر سے مالا مال اس خطے کے تاجروں کو کمپنی میں بری طرح نظر انداز کیا گیا جس پر وزارت سے احتجاج کرتے ہوئے قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
Load Next Story