پاکستان کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں استحکام خوش آئند

موڈیز انویسٹرز سروس کے پاکستان کے ذرمبادلہ کو مستحکم قرار دینے سے ملک کے اقتصادی گراف میں مزید بہتری بھی آئیگی

موڈیز انویسٹرز سروس کے پاکستان کے ذرمبادلہ کو مستحکم قرار دینے سے ملک کے اقتصادی گراف میں مزید بہتری بھی آئیگی۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے عنان اقتدار سنبھالنے کے تقریباً تیرہ ماہ بعد بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی(موڈیز انویسٹرز سروس) نے پاکستان کی فارن کرنسی گورنمنٹ بانڈ ریٹنگ پر نظرثانی کرتے ہوئے اسے منفی سے مستحکم قرار دیا ہے جو یقیناً نہ صرف خوش آئند ہے بلکہ اس سے ملک کے اقتصادی گراف میں مزید بہتری بھی آئیگی.

سرمایہ کاروں کے اعتماد میں مزید اضافہ ہوگا، حکومت کیلئے او جی ڈی سی ایل کے جی ڈی آرز کے اجراء اور پی آئی اے کی نجکاری سمیت دیگر اداروں کی نجکاری میں آسانی ہوگی۔ موڈیز کا پاکستان کی فارن کرنسی بانڈ ریٹنگ سے متعلق آوٹ لک پر نظرثانی کا فیصلہ دراصل پاکستان کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کے مستحکم ہونے کی بنیاد پر کیا گیا ہے جسے حکومت کی اصلاحات سے متعلق مضبوط عزم کی حمایت حاصل ہے۔

پاکستان کی اصلاحات کے اہداف کے حصول کی جانب پیشرفت اس فہرست میں بہتری کی ایک وجہ ہے۔ حکومت نے سترہ میں سے دس اسٹرکچرل اہداف حاصل کئے ہیں جو اس راستے کو ظاہر کرتے ہیں جس پر چلتے ہوئے باقی اہداف بھی حاصل ہو جائیں گے، ان اہداف میں ٹیکس اور توانائی کے شعبہ کی اصلاحات اور سرکاری شعبہ کے کاروباری اداروں کی نجکاری شامل ہے۔ پاکستان کی درجہ بندی میں بہتری، آئی ایم ایف پروگرام کی کامیابی کے ساتھ تکمیل، غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ، مستحکم ہوتی مالی صورتحال، ڈھانچہ جاتی اصلاحات پر پیشرفت کا نتیجہ ہے جو نمو میں اضافے، اندرونی سیاسی استحکام اور بین الاقوامی ڈونرز کے ساتھ بہتر ہوتے ہوئے تعلقات اس درجہ بندی کو مزید بہتر بنائیں گے۔ موڈیز کی نئی ریٹنگ آنے کے بعد وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار پھولے نہیں سماتے۔

اگرچہ حکومت کے ناقدین حکومت کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اور مختلف حلقوں کی طرف سے حکومت کے خلاف نہ صرف آوازیں اُٹھ رہی ہیں بلکہ معاملات اس سے بڑھ کر لانگ مارچ تک پہنچے ہوئے ہیں مگران تمام تر اعتراضات اور تنقید کے باوجود یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ موجودہ حکومت کی جانب سے سخت محنت، بھرپور عزم اور مالیاتی نظم و نسق کے نتیجہ میں دنیا نے پاکستان کے متعلق اپنا نکتہ نظر تبدیل کرلیا ہے۔

عالمی مالیاتی مارکیٹ میں یورو بانڈ کی بھرپور پذیرائی، تھری جی اور فور جی سپیکٹرم کی کامیاب نیلامی، حکومتی حصص کی نجکاری، ٹیکس و توانائی کے شعبہ کی اصلاحات اور اقتصادی اشاریوں میں بہتری کے نتیجہ میں بین الاقوامی سطح پر پاکستان پر اعتماد اس حد تک بڑھا ہے کہ ملکی و غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان پر اعتماد کر رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اب موجودہ حکومت یہ دعوٰی کر رہی ہے کہ موجودہ حکومت ہی ملک کی مضبوط اقتصادی بنیاد تعمیر کر سکتی ہے اوریہ بھی دعویٰ کر رہی ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے ویژن کے پاکستان کو ایک متحرک اور ترقی یافتہ ملک بنایا جائے گا۔

اسی پُختہ عزم کے تحت وفاقی حکومت نے ملک کو پائیدار اقتصادی ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے اس راہ میں حائل سب بڑی رکاوٹ امن و امان اور دہشتگری کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکنے کا فیصلہ کیا ہے جس کیلئے شمالی وزیرستان میں ضرب عضب آپریشن کامیابی کے ساتھ اپنے منطقی انجام کی طرف بڑھ رہا ہے اور دہشت گردوں کو اب بھاگنے کیلئے بھی ٹھکانہ میسر نہیں آرہا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت نے اس آپریشن کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے خاندانوں و متاثرین کو سنبھالنے پر بھی بھرپور توجہ دی ہے اوراس بارے میں وزیراعظم محمد نوازشریف کو پیش کی جانیوالی حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنیوالے 28 ہزار 846 خاندانوں میں35 کروڑ روپے کی رقم تقسیم کر دی گئی ہیں جبکہ بے گھر افراد کو27 ہزار سات سو 67 موبائل فون کنکشن فراہم کر دیئے گئے ہیں۔


وزیراعظم کو متاثرین آپریشن کے بارے میں سرگرمیو ں کے حوالے سے پیش کی جانیوالی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ موبائل فون سم کنکشنز کے ذریعے متاثر ہ خاندانوں کو مزید گائیڈ لائن فراہم جائے گی۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کا قومی ادارے اورفاٹا کے قدرتی آفات سے نمٹنے کا ادارہ اور وزارت سیفران متاثرہ خاندانوں کی امداد کیلئے مل کر کام کر رہے ہیں، اس کے علاوہ نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی(نادرا) اور واپڈا بھی متاثرہ افراد کوریلیف کی فراہمی کیلئے دیگر تنظیموں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔



اس کے ساتھ ساتھ موجودہ حکومت ملک میں امن و امان کے قیام سمیت ترقیاتی اخراجات اور عوام کا معیار زندگی بہتر بنانے کیلئے درکار وسائل کے حصول پر بھی فوکس کر رہی ہے اور وسائل میں حکومت بیرونی امداد اور قرضوں سے انحصار کم کرکے مقامی وسائل پر انحصار کو بڑھانے کیلئے کوشاں ہے جس میں سب سے اہم کردار ٹیکس اکھٹا کرنے والے ادارے ایف بی آر کا ہے جس کیلئے گزشتہ روز اسلام آباد میں سب سے زیادہ ٹیکس دینے والوں کو اعزازی کارڈ فراہم کئے گئے ہیں تاکہ ملک میں ٹیکس کلچر کو فروغ مل سکے اور اس حوالے سے وزیراعظم ہاؤس میں پُروقار تقریب منعقد ہوئی۔

اس کے ساتھ ہی گزشتہ روز ٹیکس ادا نہ کرنے والے اراکین پارلیمنٹ کے معاملات کی چھان بین کیلئے قائم کردہ پارلیمانی کمیٹی کا بھی پہلا اجلاس ہوا ہے۔ اگرچہ یہ خوش آئند ہے مگر اس کمیٹی کے غیرجانبدار ہونے پرانگلیاں اٹھائی جارہی ہیں ، ملک میں قانون سب کیلئے ایک جیسا ہونا چاہیے کسی کو یہ اختیار نہیں ہونا چاہیے کہ وہ اپنے پیٹی بند بھائیوں کے معاملات کی چھان بین خود کرے مگر دوسرے ٹیکس دہندگان کی تحقیقات انٹیلی جنس و تحقیقاتی ادارے کریں۔ وزیراعظم کو چاہیے کہ اس کا بھی نوٹس لیں ۔ جبکہ مذکورہ پروقار تقریب میں وزیراعظم نے کہا کہ تیس چالیس ہزارلوگ کروڑوں افراد کا مینڈیٹ تبدیل نہیں کرسکتے۔ معیشت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا وزیراعظم محمد نوازشریف نے گزشتہ ایک سال کے دوران اقتصادی ترقی کی شرح کو حوصلہ افزاقراردیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ حکومتی پالیسیوں اوراصلاحات کاموڈیز،آئی ایم ایف اورعالمی بینک جیسے بڑے عالمی ادارے اعتراف کر رہے ہیں ۔ وزیراعظم نے کہاکہ حکومت بجلی کے بحران کے خاتمے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے، اپنے دورحکومت میں اس مسئلے پر قابو پا لیں گے۔ تقریب میں وزیراعظم نے چارمختلف شعبوں میں سب سے زیادہ ٹیکس دینے والے چار سو افراد کو اعزازی کارڈ دیئے۔ اعزازی کارڈ حاصل کرنے والوں میں بڑی کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو آفیسرز، ایسوسی ایشن آف پرسنز کیشیئر ہولڈرز ،تنخوا ہ دار اور غیر تنخواہ دارافراد شامل ہیں۔

مذکورہ بالا صورتحال اگرچہ تسلی بخش ہے مگر اس کے باوجود ابھی حکومت کو بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ خصوصاً توانائی کے بحران پر قابو پانے کی ضرورت ہے موجودہ حکومت نے برسراقتدار آنے سے پہلے توانائی کے اس بحران کو چھ ماہ میں حل کرنے کا دعویٰ کیا اور پھر ایک سال تو پھردو سال میں حل کرنے کا دعویٰ کیا لیکن برسراقتدارآنے کے بعد اپنے ان دعوں کو جوش خطابت کی نذر کردیا اور چار سال میں بحران حل کرنے کی نوید سُنائی مگر وقت گزرنے کے ساتھ اس ٹائم فریم میں کمی آنے کی بجائے مزید ایک سال کا اضافہ کردیا گیا اور اب یہ کہا جا رہا ہے کہ موجودہ حکومت اپنے پانچ سالہ دور میں اس بحران کو ختم کردے گی۔ اس سے عوام کے ذہنوں میں بہت سے سوالات جنم لے رہے ہیں جنہیں بروقت اور جلدازجلد دور کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اپوزیشن سی این جی قطاروں میں لگے لوگوں اور لوڈ شیڈنگ کے مارے عوام حکومت کے خلاف موثر ہتھیار کے طور پر استعمال نہ ہوسکیں۔
Load Next Story