بھارتی ہدایتکار شنکرپرویش نے پاکستانی ہیروئن کی تلاش شروع کردی
فلم ’’یووا‘‘ کے لیے لاہور کی ایک ماڈل کو تلفظ درست نہ ہونے پر مسترد کیا ،شنگر پرویش
ممبئی کے مقامی اسٹوڈیو میں نوجوان گلوکارہ ہریچا نارائنا اور گلوکاربودھتیا مکھرجی کی آوازوں میں فلم کا پہلا گیت بھی ریکارڈ کرلیا۔ فوٹو : جاوید یوسف
بالی ووڈ ڈائریکٹر شنکر پرویش نے اپنی نئی فلم ''یووا '' کے لیے ابھے دیول کوسائن کرنے کے بعد ہیروئن کے لیے پاکستان سے ایک نئے چہرے کی تلاش شروع کردی ہے۔
اس سلسلے میں شنکرپرویش نے لاہور اور کراچی کے پروڈکشن ہاؤسزمیں اپنے قریبی دوستوں سے بھی رابطہ کیا ہے جب کہ دوسری جانب انھوں نے گزشتہ روزممبئی کے مقامی اسٹوڈیو میں فلم کا پہلا گیت بھی ریکارڈ کرلیا۔ اس گیت کو نوجوان گلوکارہ ہریچا نارائنا اور گلوکاربودھتیا مکھرجی کی آوازوں میں ریکارڈ کیا گیا ہے۔ گیت کے شاعرشائم راج ہیں جب کہ اس کی دھن راجب مونا نے ترتیب دی ہے۔
شنکرپرویش نے '' ایکسپریس '' سے فون پربات کرتے ہوئے بتایا کہ فلم کی کاسٹ میں ابھے دیول سمیت دیگرفنکارشامل ہیں جن کوسائن کرلیا گیا ہے لیکن فلم کے مرکزی کردار کے لیے ہمیں پاکستان سے ایک نئے چہرے کی تلاش ہے۔ اس کے لیے میرے قریبی دوستوں کی بھرپورسپورٹ حاصل ہے اب تک دس نئے چہروںکی تصاویر سمیت دیگرتفصیلات موصول ہوچکی ہیں لیکن تاحال ہم کسی نتیجے تک نہیں پہنچ پائے۔ ہم نے لاہورسے تعلق رکھنے والی ایک ماڈل کومنتخب کیا تھا لیکن ان کا تلفظ درست نہیں تھا ۔
جس کی وجہ سے ہم نے انھیں منتخب نہیں کیا۔آئندہ دو ہفتوں تک مزیدتلاش جاری رکھیں گے اوراگراس دوران کامیابی نہ ملی توپھرہم بھارت سے ہی کسی خوبصورت چہرے کاانتخاب کرینگے۔ انھوں نے بتایاکہ فلم کی شوٹنگ کا شیڈول ترتیب دیا جاچکا ہے اورہم نے اپنے وقت کے مطابق فلم کا پہلا گیت ریکارڈ کرلیا ہے۔
اس سلسلے میں شنکرپرویش نے لاہور اور کراچی کے پروڈکشن ہاؤسزمیں اپنے قریبی دوستوں سے بھی رابطہ کیا ہے جب کہ دوسری جانب انھوں نے گزشتہ روزممبئی کے مقامی اسٹوڈیو میں فلم کا پہلا گیت بھی ریکارڈ کرلیا۔ اس گیت کو نوجوان گلوکارہ ہریچا نارائنا اور گلوکاربودھتیا مکھرجی کی آوازوں میں ریکارڈ کیا گیا ہے۔ گیت کے شاعرشائم راج ہیں جب کہ اس کی دھن راجب مونا نے ترتیب دی ہے۔
شنکرپرویش نے '' ایکسپریس '' سے فون پربات کرتے ہوئے بتایا کہ فلم کی کاسٹ میں ابھے دیول سمیت دیگرفنکارشامل ہیں جن کوسائن کرلیا گیا ہے لیکن فلم کے مرکزی کردار کے لیے ہمیں پاکستان سے ایک نئے چہرے کی تلاش ہے۔ اس کے لیے میرے قریبی دوستوں کی بھرپورسپورٹ حاصل ہے اب تک دس نئے چہروںکی تصاویر سمیت دیگرتفصیلات موصول ہوچکی ہیں لیکن تاحال ہم کسی نتیجے تک نہیں پہنچ پائے۔ ہم نے لاہورسے تعلق رکھنے والی ایک ماڈل کومنتخب کیا تھا لیکن ان کا تلفظ درست نہیں تھا ۔
جس کی وجہ سے ہم نے انھیں منتخب نہیں کیا۔آئندہ دو ہفتوں تک مزیدتلاش جاری رکھیں گے اوراگراس دوران کامیابی نہ ملی توپھرہم بھارت سے ہی کسی خوبصورت چہرے کاانتخاب کرینگے۔ انھوں نے بتایاکہ فلم کی شوٹنگ کا شیڈول ترتیب دیا جاچکا ہے اورہم نے اپنے وقت کے مطابق فلم کا پہلا گیت ریکارڈ کرلیا ہے۔