رقص شر رہے یا کچھ اور

ملکی سیاست میں چند ہفتوں سے خاصے جارحانہ رجحانات نے جگہ بنائی ہے،

چند ہزار لوگ کروڑوں افراد کا مینڈیٹ تبدیل نہیں کر سکتے، 80 اور90 کی سیاست کا وقت گزر چکا، نواز شریف

ملکی سیاست میں چند ہفتوں سے خاصے جارحانہ رجحانات نے جگہ بنائی ہے، اور جمہوری نظام کے مائل بہ سفر رہنے کو نیک شگون تصور کرنے والے بھی اب کچھ کچھ مضطرب سے دکھائی دینے لگے ہیں کہ کیا خدا نخواستہ کوئی آسمان گرنے والا ہے یا بے نام انقلاب کی ایک تند و تیز آندھی سب کچھ بہا کر لے جائے گی، اگرچہ بعض مبصرین کے نزدیک بادی النظر میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے، بس رقص شررہے، جب کہ ملکی سیاست میں بعد از خرابیٔ بسیار انتقال اقتدار کے ایک جمہوری اور پارلیمانی آداب و روایات کے ساتھ تسلسل پر قوم کوجس یقین محکم نے مطمئن کیے رکھا ہے اس میں ایک ارتعاش کا پیدا ہونا خالی از علت نہیں۔

اور سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ ہنگامہ آرائی آخر کیوں ہے، کیا ن لیگ کی حکومت کو یا وزیر اعظم نواز شریف کو اپوزیشن کی ایک اجتماعی تحریک سے جمہوری عمل کو حقیقی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ اسی نکتہ پر ایک سیر حاصل بحث پارلیمنٹ اور مختلف فکری اور سیاسی فورمز پر ہونی ناگزیر ہے، معاملات سڑکوں اور چوراہوں پر نہ جائیں تو اچھا ہے۔ اس تمہید کا ایک رشتہ پیدا شدہ صورتحال سے ہے جس میں سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنما عمران خان، ڈاکٹر طاہرالقادری، چوہدری شجاعت، پرویز الٰہی، شیخ رشید اور کہیں کہیں ایم کیو ایم بھی حکومت کی کارکردگی اور انتخابی اصلاحات سے حکومتی حلقوں کے گریز پر عدم اطمینان ظاہر کر رہی ہیں جب کہ مطالبات اور نکتہ چینی کے حوالہ سے ایک دوسرے کے ہمراہ یکجا ہوتی نظر آ رہی ہیں اور ان کے لب و لہجے اور تیور سے برہمی اور بدگمانی مترشح ہے۔

ایک جانب وزیر اعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ چند ہزار لوگ کروڑوں افراد کا مینڈیٹ تبدیل نہیں کر سکتے، 80 اور90 کی سیاست کا وقت گزر چکا،21 ویں صدی میں آ گئے ہیں۔ بہترین ٹیکس دہندگان کو اعزازی اور مراعاتی کارڈ دینے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ہماری حکومت بھرپور مینڈیٹ والی ہے، عالمی ادارے اعتماد کا اظہار کر چکے ہیں۔ ادھر پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین، سابق صدر آصف علی زرداری نے طویل خاموشی توڑتے ہوئے تحریک انصاف کے 4 حلقوں میں دوبارہ گنتی کرانے کے مطالبے پر کہا ہے کہ اگر 4 حلقوں میں دوبارہ گنتی کا مطالبہ مان لیا جائے تو آسمان نہیں گر پڑے گا، چاہے وہ حلقے پنجاب میں ہوں یا سندھ میں۔

انھوں نے مزید کہا کہ نواز شریف کو قوم نے ملک کا وزیر اعظم منتخب کیا نہ کہ مطلق العنان بادشاہ کہ وہ ملک کے چاروں صوبوں میں دخل اندازی کریں۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ زرداری کا بیان حوصلہ افزا ہے، 4 حلقوں میں ووٹوں کی تصدیق کا وقت گزر گیا، اب پورے الیکشن کا آڈٹ کرانا پڑے گا، افغانستان میں 80 لاکھ ووٹوں کی چار دن میں جانچ پڑتال ہو سکتی ہے، پاکستان میں کیوں نہیں؟ تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے آصف زرداری کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا اگر وہ ہمارے موقف کو درست مانتے ہیں تو پھر آزادی مارچ میں شرکت کریں ۔


حقیقت یہ ہے کہ دنیا بھر میں حکومت و اپوزیشن میں تکرار، کشمکش، سیاسی مطالبات و بیانات اور نوک جھونک کا سلسلہ چلتا رہتا ہے لیکن یہ ساری مشق تعمیری اور ریاستی و حکومتی اداروں کی کارکردگی سے متعلق ٹھوس آئینی پیرا میٹرز میں ہوتی ہے اس کا مقصد طوفان اٹھانا اور جمہوریت کی بساط پلٹنے سے نہیں ہوتا مگر ہمارے ہاں جب بھی ایسی گرما گرمی ہوئی ہے اﷲ معاف کرے، اس کے مضمرات کبھی اچھے نہیں نکلے، ملک میں جمہوریت و آمریت کے نشیب و فراز کی ساری دکھ بھری کہانی تاریخ کا حصہ ہے۔ آمریت کے کوچے سے سیاست دان بہت بے آبرو ہو کر جمہوریت کی چاندنی میں آئے ہیں۔

اس لازوال جدوجہد کا ادراک کرنا ہر سیاسی رہنما کا فرض ہے۔ دل اب کدورت سے صاف ہونے چاہئیں۔ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کہتے ہیں کہ ہم اقتدار میں تھے تو اسٹیبلشمنٹ نے چلنے نہیں دیا، نواز شریف کالا کوٹ پہن کر عدالت چلے گئے۔ بہرکیف جو ہوا سو ہوا اب نیا سفر ہے پرانے چراغ گل کر دو۔ افہام و تفہیم سے کام لیتے ہوئے سیاسی مسائل اور تنازعات کے حل کی طرف رجوع کریں، پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ اگر 4 حلقوں سے ووٹوں کی از سر نو گنتی پر اصرار کرتے ہیں تو گنتی کرانے میں حرج کیا ہے، اس سے حکومت کے جانے یا جمہوریت کو دھچکا لگنے کا کوئی خطرہ بھی نہیں، یہ مطالبہ آئینی اور سیاسی روایت سے متصادم بھی نہیں، دھاندلی ثابت ہو جاتی ہے تو ضمنی الیکشن کرائے جا سکتے ہیں، یہی جمہوری طرز حکومت کا روایتی اور دائمی حسن ہے۔

گزشتہ مہینوں میں کئی ضمنی الیکشن ہوئے ہیں، کچھ مزید نشستوں پر الیکشن کمیشن ضمنی انتخابات کا اعلان کر چکا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کو ٹھنڈے دل و دماغ اور پیار و محبت سے کاروبار سیاست چلانا چاہیے، ملک اچھی طرز حکمرانی کو ترس رہا ہے، بہت ہوش سے کام لینے کی ضرورت ہے، مسائل حل کریں۔ سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے پانی و بجلی کے اجلاس میں وزرا اور سیکریٹری کی عدم شرکت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وزراء اور سیکریٹری کا رویہ انتہائی غیر ذمے دارانہ ہے، حکومت بجلی کی پیداوار، تقسیم سے متعلق قوم کو پورا سچ بتائے۔

ارکان نے کہا کہ پارلیمنٹ کو اہمیت نہ دی گئی تو مسائل میں اضافہ ہی ہو گا، یہ انتباہ قابل غور ہے۔ مسلم لیگ (ق) کے سینئرمرکزی رہنما چوہدری پرویز الٰہی نے کہا ہے کہ نواز اور شہباز شریف این ایف سی ایوارڈ میں آبادی کی بنیاد پر وسائل کی تقسیم کا آئینی فارمولا تبدیل نہ کرتے تو آج پنجاب کا یہ حال نہ ہوتا۔ ایک اطلاع کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت نے فیصلہ کیا ہے کہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی جانب سے الیکشن 2013ء میں قومی اسمبلی کے جن حلقوں میں دھاندلی کی تحقیقات کے لیے مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

اس معاملے کو قانونی طریقے سے حل کرنے کے لیے سپریم کورٹ کے حاضر سروس ججز پر مشتمل کمیشن کے قیام یا ایک خود مختار (ر) جج پر مشتمل کمیشن کی تشکیل کے لیے فوری طور پر وزارت قانون سے رائے طلب کی جائے گی۔ یہ حکومتی رسپانس خوش آیند ہے۔ اسی مفاہمانہ جذبہ سے سیاسی معاملات اور ایشوز کا تصفیہ ہونے کی روایت مستحکم ہوئی تو جمہوریت کو کوئی طاقت نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ نیلسن منڈیلا نے کہا ہے کہ وقت اچھے کام کے لیے ہمیشہ صحیح ہوتا ہے۔
Load Next Story