برکس بینک ورلڈ بینک کے لیے خطرے کی گھنٹی

عالمی سطح پر پہلی بار آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی اقتصادی اجارہ داری سے آزادی حاصل کرنے کے لیے

پاکستان کی حکومت اور معاشی ماہرین کو بھی اب اپنی معاشی پالیسیوں کو انقلابی سطح پر چلانے کے بارے میں سوچنا ہو گا۔

عالمی سطح پر پہلی بار آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی اقتصادی اجارہ داری سے آزادی حاصل کرنے کے لیے 'برکس ترقیاتی بینک' کا قیام کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہ بینک' ورلڈ بینک کے مقابل ہو گا' اس طرح ورلڈ بینک جو ایک طویل عرصے سے دنیا بھر کی معیشت اور اقتصادی معاملات کو اپنے شکنجے میں جکڑا چلا آ رہا ہے اس کی یہ یک محوری معاشی اجارہ داری ختم ہو جائے گی اور اب ایک نہیں دو بینک عالمی سطح پر اقتصادی حکمرانی کریں گے۔

برکس ترقیاتی بینک کے قیام کا اعلان ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک کے لیے بھی خوش کن ہے جو سخت اور کڑی شرائط پر آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے قرضے لینے پر مجبور ہیں۔ آئی ایم ایف ان ممالک کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قرضوں کی منظوری دینے سے قبل اپنی شرائط ہر صورت منواتی ہے۔ اس طرح آئی ایم ایف انھیں آہستہ آہستہ اپنے اقتصادی شکنجے میں جکڑتی چلی جاتی ہے اور یہ ممالک اس شکنجے سے کبھی آزاد نہیں ہو پاتے اور اس طرح ان پر قرضوں کا معمولی بوجھ بڑھتے بڑھتے پہاڑ بن جاتا ہے اور وہ قرضے کی قسط کی ادائیگی کے لیے مزید قرضہ لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

اب اقتصادی اور معاشی طور پر دنیا کی پانچ ابھرتی ہوئی طاقتوں کی تنظیم برکس نے ایک نئے ترقیاتی بینک اور حادثاتی فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ برازیل کے شہر فورٹی لیزا میں برکس ممالک کے رہنمائوں کے اجلاس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیہ کے مطابق ابتدائی طور پر ترقیاتی بینک کے لیے سرمایہ کا حجم 50 ارب ڈالر رکھا جائے گا جسے بعد ازاں سو ارب ڈالر تک بڑھایا جائے گا۔ اس کے علاوہ سو ارب ڈالر کا ایک ایمرجنسی فنڈ بھی قائم کیا گیا ہے جس میں چین 41 ارب ڈالر' بھارت، برازیل اور روس 18,18 ارب ڈالر اور جنوبی افریقہ پانچ ارب ڈالر کا سرمایہ لگائے گا۔

برکس پانچ ممالک برازیل' روس' انڈیا' چین اور ساؤتھ افریقہ پر مشتمل تنظیم ہے۔ برکس ترقیاتی بینک چین میں قائم کیا جائے گا جس کا ہیڈ کوارٹر شنگھائی میں ہو گا اور اس کا ایک علاقائی دفتر جنوبی افریقہ میں بھی ہو گا۔ بینک کا پہلا چیف ایگزیکٹو بھارت کو مقرر کیا جائے گا۔ برکس ترقیاتی بینک رکن ممالک میں انفراسٹرکچر اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے آسان شرائط پر قرض فراہم کرے گا۔ اگلے مرحلے میں برکس گروپ میں ترقی پذیر ممالک کو بھی شامل کیا جائے گا۔


یہ بینک معاشی مشکلات کے شکار ترقی پذیر ممالک کے لیے باعث رحمت ثابت ہو گا اور ان ممالک کو قرضوں کے حصول کے لیے ورلڈ بینک کی کڑی شرائط اور اقتصادی غلامی سے بھی نجات مل جائے گی۔ برکس ممالک کا تعلق دنیا کی 40 فیصد آبادی اور پانچویں مستحکم معیشت سے ہے۔ برکس ترقیاتی بینک کا قیام امریکا اور اس کے اتحادی ممالک کے لیے ایک چیلنج سے کم نہیں۔ اگر یہ بینک ترقی پذیر ممالک کو آسان شرائط پر قرضے دیتا اور ان کی ترقی میں معاون ثابت ہوتا ہے تو اس کی مقبولیت میں بے پناہ اضافہ ہو گا اور یہ بینک ورلڈ بینک سے بھی زیادہ طاقتور بن کر ابھرے گا۔ یہ بینک' ورلڈ بینک کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے جس سے دنیا میں معاشی طاقت کا روایتی مرکز تبدیل ہو جائے گا۔

دنیا میں اپنی معاشی اور اقتصادی بالادستی کو برقرار رکھنے کے لیے ورلڈ بینک کو بھی اب اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لانا ہو گا۔ اگر اس نے اپنی پالیسیوں میں لچک اور نرمی پیدا نہ کی اور سابقہ رویے برقرار رکھے تو وہ برکس ترقیاتی بینک کا مقابلہ نہیں کر پائے گا۔ اس صورت حال کا ورلڈ بینک کے ماہرین کو بھی بخوبی ادراک ہوگا اور وہ کبھی یہ برداشت نہیں کریں گے کہ عالمی سطح پر ان کی اجارہ داری اور بالا دستی ختم ہو جائے۔ لہٰذا وہ عالمی اقتصادی میدان میں اپنی بالادستی قائم رکھنے کے لیے ہر حربہ استعمال کرے گا۔

اگر ورلڈ بینک اور برکس ترقیاتی بینک کے درمیان معاشی مسابقت کی دوڑ شروع ہوتی ہے تو اس کا لا محالہ فائدہ ترقی پذیر ممالک کو پہنچے گا اور ان ممالک میں بھی ترقی کا عمل تیز ہو گا۔ برکس ترقیاتی بینک اپنی اجارہ داری قائم کرنے کے لیے ترقی پذیر ممالک کو آسان شرائط پر قرضے فراہم کریں گے جس سے اس کی مقبولیت میں تیزی سے اضافہ ہو گا۔ یہ صورت حال پاکستان کے لیے بھی خوش کن ہے جسے اپنے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے قرضوں کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کو بادل نخواستہ تسلیم کرنا پڑتا ہے۔

پاکستان کی حکومت اور معاشی ماہرین کو بھی اب اپنی معاشی پالیسیوں کو انقلابی سطح پر چلانے کے بارے میں سوچنا ہو گا۔ اگر وہ اسی روایتی انداز میں معاشی پالیسیوں کو چلاتے رہے تو وہ خطے میں رونما ہونے والی اقتصادی اور معاشی ترقی سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے اور ترقی کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ جائیں گے۔ بھارت اور چین نے جس تیزی سے اقتصادی ترقی کی وہ پوری دنیا کے لیے حیران کن ہے۔

مستقبل میں یہ دونوں نہ صرف ایشیا بلکہ دنیا کی بڑی اقتصادی قوت ہوں گی۔دونوں برکس ترقیاتی بینک کی اہم قوتیں ہیں۔ پاکستان کو برکس ممالک میں ہونے والی اقتصادی ترقی سے فائدہ اٹھانے کے لیے ابھی سے منصوبہ بندی کرنا ہو گی اگر اس نے بدلتے ہوئے معاشی حالات کو نہ سمجھا اور ان کا ساتھ نہ دیا تو مستقبل میں عالمی معاشی میدان میں اس کا مقام بہت نیچے ہو گا۔ پاکستان کے اندر ترقی کے بھرپور مواقع موجود ہیں۔ ضرورت ان کے مخلصانہ طور پر بہتر اور درست استعمال کی ہے۔
Load Next Story