حصص مارکیٹ میں نئی تاریخ رقم انڈیکس پہلی بار 30000 پوائنٹس کی حد عبور کرگیا
ریٹنگ کے آؤٹ لک میں بہتری اورغیرملکیوں کی سیمنٹ وبینکنگ سیکٹر میں وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری
کراچی اسٹاک ایکسچینج میں ٹریڈنگ کے دوران بروکر فون پر بات چیت کر رہا ہے، جمعرات کو حصص مارکیٹ میں نئی تاریخ رقم ہوگئی اور بنچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس پہلی بار 30000 پوائنٹس کی نفسیاتی حد عبور کرگیا۔ فوٹو: آن لائن
پاکستانی کریڈٹ ریٹنگ کے آؤٹ لک میں بہتری اور غیرملکیوں کی سیمنٹ اور بینکنگ سیکٹر میں وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری رحجان کراچی اسٹاک ایکس چینج میں جمعرات کو ریکارڈنوعیت کی تیزی کا باعث بنی اور ملکی تاریخ میں پہلی بارانڈیکس30000 پوائنٹس کی حد بھی عبور کرگیا۔
تیزی کے باعث63.32 فیصد حصص کی قیمتیں بڑھ گئیں جبکہ حصص کی مالیت میں مزید77 ارب14 کروڑ43 لاکھ91 ہزار420 روپے کا اضافہ ہوا اور مارکیٹ سرمایہ 70 کھرب 72ارب43کروڑ 32لاکھ 13ہزار 810 روپے ہوگیا۔ ماہرین اسٹاک کا کہنا تھا کہ انڈیکس کی30000 پوائنٹس کی حد مارچ2014 میں عبور ہونے کی پیشگوئی کی گئی تھی لیکن ملک کے سیاسی افق پر غیریقینی صورتحال اور دیگر داخلی عوامل کے سبب مذکورہ حد اگرچہ مارچ میں عبور نہ ہوسکی لیکن جولائی کے وسط میں بالآخر یہ حد عبور ہوگئی۔
ماہرین کا کہنا تھا کہ عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز کی جانب پاکستانی معیشت اور پانچ سرفہرست بینکوں کی ریٹنگ بڑھائے جانے کی خبر نے بھی مارکیٹ میں اعتماد بحال کرنے میں اہم کردار ادا کیا جس کی وجہ سے مارکیٹ میں سرمایہ کاری دلچسپی بھی بڑھی، ٹریڈنگ کے دوران مقامی کمپنیوں، بینکوں و مالیاتی اداروں اور انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے مجموعی طور پر 1 کروڑ3 لاکھ395 ڈالر مالیت کے سرمائے کا انخلا بھی کیا گیا لیکن اس انخلا کے باوجود کاروبار کے تمام دورانیے میں مارکیٹ مثبت زون میں رہی کیونکہ اس دوران غیرملکیوں کی جانب سے64 لاکھ39 ہزار729 ڈالر، میوچل فنڈز کی جانب سے25 لاکھ35 ہزار 989 ڈالر، این بی ایف سیز کی جانب سے8 لاکھ 64 ہزار127 ڈالراور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے5 لاکھ3 ہزار524 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کی گئی جس سے مارکیٹ کا مورال تیزی کی جانب گامزن ہوا۔
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس400.94 پوائنٹس اضافے سے ریکارڈ30177.11 پوائنٹس پر پہنچ گیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس 315.86 پوائنٹس بڑھ کر 20970.26 اور کے ایم آئی 30 انڈیکس743.12 پوائنٹس اضافے سے 48960.21 ہوگیا، کاروباری حجم82.85 فیصد زائد رہا،20 کروڑ 62 لاکھ62 ہزار110 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ349 کمپنیوں تک وسیع ہوا جن میں221 کے بھاؤ میں اضافہ، 96 کے دام میں کمی اور32 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔
جن کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ان میں آئسلینڈ ٹیکسٹائل کے بھاؤ 40.75 روپے بڑھ کر 898.75 روپے اور نیشنل فوڈز کے بھاؤ35.12 روپے بڑھ کر 778.43 روپے ہوگئے جبکہ نیسلے پاکستان کے بھاؤ150 روپے کم ہو کر 8000 روپے اور وائتھ پاکستان کے بھاؤ149.53 روپے کم ہوکر3870.51 روپے ہوگئے۔
تیزی کے باعث63.32 فیصد حصص کی قیمتیں بڑھ گئیں جبکہ حصص کی مالیت میں مزید77 ارب14 کروڑ43 لاکھ91 ہزار420 روپے کا اضافہ ہوا اور مارکیٹ سرمایہ 70 کھرب 72ارب43کروڑ 32لاکھ 13ہزار 810 روپے ہوگیا۔ ماہرین اسٹاک کا کہنا تھا کہ انڈیکس کی30000 پوائنٹس کی حد مارچ2014 میں عبور ہونے کی پیشگوئی کی گئی تھی لیکن ملک کے سیاسی افق پر غیریقینی صورتحال اور دیگر داخلی عوامل کے سبب مذکورہ حد اگرچہ مارچ میں عبور نہ ہوسکی لیکن جولائی کے وسط میں بالآخر یہ حد عبور ہوگئی۔
ماہرین کا کہنا تھا کہ عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز کی جانب پاکستانی معیشت اور پانچ سرفہرست بینکوں کی ریٹنگ بڑھائے جانے کی خبر نے بھی مارکیٹ میں اعتماد بحال کرنے میں اہم کردار ادا کیا جس کی وجہ سے مارکیٹ میں سرمایہ کاری دلچسپی بھی بڑھی، ٹریڈنگ کے دوران مقامی کمپنیوں، بینکوں و مالیاتی اداروں اور انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے مجموعی طور پر 1 کروڑ3 لاکھ395 ڈالر مالیت کے سرمائے کا انخلا بھی کیا گیا لیکن اس انخلا کے باوجود کاروبار کے تمام دورانیے میں مارکیٹ مثبت زون میں رہی کیونکہ اس دوران غیرملکیوں کی جانب سے64 لاکھ39 ہزار729 ڈالر، میوچل فنڈز کی جانب سے25 لاکھ35 ہزار 989 ڈالر، این بی ایف سیز کی جانب سے8 لاکھ 64 ہزار127 ڈالراور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے5 لاکھ3 ہزار524 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کی گئی جس سے مارکیٹ کا مورال تیزی کی جانب گامزن ہوا۔
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس400.94 پوائنٹس اضافے سے ریکارڈ30177.11 پوائنٹس پر پہنچ گیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس 315.86 پوائنٹس بڑھ کر 20970.26 اور کے ایم آئی 30 انڈیکس743.12 پوائنٹس اضافے سے 48960.21 ہوگیا، کاروباری حجم82.85 فیصد زائد رہا،20 کروڑ 62 لاکھ62 ہزار110 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ349 کمپنیوں تک وسیع ہوا جن میں221 کے بھاؤ میں اضافہ، 96 کے دام میں کمی اور32 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔
جن کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ان میں آئسلینڈ ٹیکسٹائل کے بھاؤ 40.75 روپے بڑھ کر 898.75 روپے اور نیشنل فوڈز کے بھاؤ35.12 روپے بڑھ کر 778.43 روپے ہوگئے جبکہ نیسلے پاکستان کے بھاؤ150 روپے کم ہو کر 8000 روپے اور وائتھ پاکستان کے بھاؤ149.53 روپے کم ہوکر3870.51 روپے ہوگئے۔