سلیمان لاشاری قتل کیس منتقل کرنے پر فیصلہ محفوظ سلمان ابڑو کی فٹنس رپورٹ طلب

بچوں کے تنازع کودہشت گردی قرار نہیں دیا جاسکتا، وکیل صفائی، قتل سے خوف ہراس پھیلا، درخواست مسترد کی جائے، وکیل سرکار

گھر میں گھس کر قتل عام کرنا دہشت گردی نہیں تو اور کیا ہ ے،وکیل مدعی، توہین عدالت کی درخواست پر اے آئی جی پولیس طلب ۔ فوٹو: فائل

انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے سلیمان لاشاری قتل کیس ماتحت عدالت منتقل کرنے سے متعلق درخواست پر محفوظ کرلیا۔

عدالت نے حکم عدولی پر اے ڈی آئی جی کو نوٹس جاری کردیے،عدالت کے جج سلیم رضا بلوچ نے ملزم سلمان ابڑو کی صحت یابی (فٹنس) سے متعلق رپورٹ طلب کرلی ہے، تفصیلات کے مطابق جمعرات کو وکیل صفائی عبدالرزاق ایڈووکیٹ نے مقدمہ ماتحت عدالت میں منتقل کرنے سے متعلق دائر درخواست میں موقف اختیار کیا کہ واقعہ معمولی تنازع کے باعث رونما ہوا ہے اس کا موکل کم عمر ہے بچوں کے تنازع کو دہشت گردی قرار نہیں دیا جاسکتا، لہٰذا مقدمہ دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتا اور مقدمہ سیشن عدالت منتقل کرنے کی استدعا کی۔


اس موقع پر وکیل سرکار عبدالمعروف نے عدالت کو بتایا کہ قتل کی اس سنگین واردات سے علاقے کے مکینوں میں شدید خوف ہراس پھیلا، قتل کے لرزہ خیز واقعے نے پورے شہر میں دہشت اور خوف کی فضا قائم کی، مقدمہ دہشت گردی ایکٹ کے زمرے میں آتا ہے اور درخواست مسترد کرنے کی استدعا کی، وکیل مدعی خان محمد برڑو اور مبشر مرزا نے عدالت کو بتایا کہ رات کے اندھیرے میں کسی بھی گھر کی چار دیواری میںزبردستی مسلح داخل ہوکر فائرنگ کرکے قتل عام کرنا دہشت گردی نہیں ہے تو اور کیا ہے ، ملزمان کے اس اقدام سے شہر میں خوف و ہراس پھیلا ہے لہٰذا مقدمہ دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے۔

مدعی کے وکلا نے عدالت کو بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں ملزم خود چلتا ہوا دکھائی دیا ہے اور کوئی تکلیف محسوس نہیں کررہا، عدالت میں پیش ہونے سے قبل وہ ویل چیئر پر خود بیٹھتا ہے ملزم زخمی نہیں ہے، مکمل فٹ ہے،عدالت نے چیف میڈیکل افسر سینٹرل جیل سے ملزم کی فٹنس رپورٹ طلب کرلی ، وکلا کی جانب سے دائر توہین عدالت کی درخواست پرعدالت نے اے آئی جی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے5 اگست کو طلب کرلیا۔

قبل ازیں توہین عدالت کی درخواست میں وکلا نے موقف اختیار کیا کہ فاضل عدالت نے اے آئی جی آپریشن کو مدعی اور اسکے اہل خانہ کو تحفظ فراہم کرنے کا حکم دیا تھا لیکن تاحال مدعی اور دیگر کو تحفظ فراہم نہیں کیا گیا جوکہ توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔
Load Next Story