طارق روڈ تاجر رہنما کے اغوا کیخلاف دکانداروں کی ہنگامہ آرائی اغوا میں سادہ لباس اہلکار ملوث نکلے

مشتعل افراد نے مارکیٹیں بند کرکے پتھراؤ کیا، پولیس بھی موقع پر پہنچ گئی، احتجاج کے بعد اسلم بھٹی کو رہا کردیا گیا

ایسوسی ایشن کے صدراسلم رہائی کے بعددکانداروں سے خطاب کررہے ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس

ISLAMABAD:
طارق روڈ ٹریڈرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر کے اغوا کی اطلاع پر مشتعل دکانداروں نے احتجاجاً مارکیٹیں بند کر دیں ، مشتعل افراد نے پتھراؤ کر کے کئی گاڑیوں کی شیشے توڑ دیے اور سڑک پر ٹائر جلائے۔

احتجاج کا سلسلہ جاری تھا کہ مغوی صدر گھر پہنچ گیا جس پر مظاہرین منتشر ہو گئے، آئی جی سندھ کو کمانڈ اینڈ کنٹرول روم میں بننے والی سی سی فوٹیج فراہم کردی گئیں جس میں دکھایا گیا ہے کہ مارکیٹ کے صدر کو پولیس موبائل میں بٹھایا جا رہا ہے، تفصیلات کے مطابق فیروز آباد کے علاقے طارق روڈ کمرشل ایریا میں طارق روڈ ٹریڈرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر محمد اسلم بھٹی کو بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب گھر جاتے ہوئے نامعلوم افراد نے جیل چورنگی سے پراسرار طور پر اغوا کر لیا تھا، محمد اسلم کے اہلخانہ اور تاجر برادری کو جمعرات کو اطلاع ملی کہ انھیں نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا ہے، جس پر طارق روڈ مارکیٹ کے عہدیداروں نے پولیس سے رابطہ کیا

پولیس نے اسلم بھٹی کے اغوا کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا اور ان سے کہا کہ آپ کی اطلاع پر اب ہم بھی محمد اسلم کو تلاش کریں گے ، تاہم جمعرات کو جب طارق روڈ پر واقع مختلف شاپنگ سینٹرز کے تاجر اوردکاندار آئے تو انھیں اطلاع ملی کہ ایسوسی ایشن کے صدر اسلم بھٹی کو اغوا کرلیا گیا تاجر برادری ،دکانداروں اور پتھاروںوالوں نے ہنگامہ آرائی شروع کردی ، مشتعل افراد نے احتجاجاً مارکیٹیں بند کر کے سڑک پر پتھراؤ کر کے متعدد گاڑیوں کے شیشے توڑ دیے،مظاہرین کے پتھراؤ کے باعث درجنوں گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔

مظاہرین نے سڑک پر ٹائر بھی نذر آتش کیے ، اطلاع ملنے پر پولیس کی بھاری نفری اور اعلیٰ افسران موقع پر پہنچ گئے، ایسوسی ایشن کے عہدیداروں سے پولیس کے اعلیٰ افسران سے بات چیت کی اور مارکیٹ کے مشتعل افراد کو سمجھانے کی کوشش کی کہ احتجاج ختم کردیں پولیس صدر محمد اسلم بھٹی کو تلاش کر رہی ہے لیکن مشتعل تاجروں اور دکانداروں نے پولیس افسران کو کہا کہ جب تک اسلم بھٹی کی بازیابی تک تک وہ اپنا احتجاج جاری رکھیں گے اور مارکیٹ بند رہے گی۔




طارق روڈ پر موجود پولیس افسران نے اپنے اعلیٰ افسران سے موبائل فون پر رابطہ کر کے مظاہرین کے مطالبے کے بارے میں آگاہ کر دیا جس کے کچھ ہی دیر کے بعد تاجر برادری کو اطلاع ملی کہ اسلم بھٹی واپس اپنے گھر پہنچ گئے، اس ضمن میں جب فیروز آباد تھانے کے انٹیلی جنس افسر سب انسپکٹر عطااﷲ نے بتایا کہ کمانڈ اینڈ کنٹرول روم سے رابطہ کیا گیا اور سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھی گئی تو معلوم ہوا کہ ایک پولیس موبائل اور دو موٹرسائیکل پر چند افراد تھے جو سادہ لباس میں ملبوس تھے جنھوں نے انھیں حراست میں لیا تھا جب ہنگامہ آرائی شروع ہوئی تو رہا کردیا،پولیس ذرائع کے مطابق اسلم بھٹی کے ساتھ مارکیٹ کا ایک لڑکا تھا جس کو پولیس نے جمشید روڈ یادگار مچھلی والے کی دکان پر چھوڑ دیا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مارکیٹ کے دکانداروں کو شبہ ہے کہ اسلم بھٹی کو اسپیشل انویسٹی گیشن جمشید ٹائون نے حراست میں لیا تھا، ذرائع نے بتایا کہ اس اطلاع پر ڈی آئی جی منیر شیخ ، ایس ایس پی ایسٹ اور ایس پی رانا شعیب بھی رات سے اس واقعے پر پریشان تھے اور انہیں تلاش کررہے تھے، آئی جی سند ھ نے ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام قادر تھیبو سے رپورٹ طلب کی کہ فوری طور پر تفتیش کرکے پتہ لگایا جائے کہ واقعے میں کون ملوث ہے،ذرائع نے بتایا کہ کمانڈ اینڈ کنٹرول سے جب سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھی تو پولیس ملوث نکلی ، پولیس نے اعلیٰ افسران کی مداخلت پر فوری طور پر اسلم بھٹی کو رہا کردیا ، اس ضمن میں ایس پی رانا شعیب سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ اسلم بھٹی کچھ بتا نہیں رہے جب وہ بیان دیں گے تو معلوم ہوگا کہ اصل معاملہ کیا ہے۔

پولیس ملوث ہوسکتی ہے اس حوالے سے تفتیش کی جارہی ہے،مارکیٹ ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے اسلم بھٹی کے گھر پہنچ جانے مارکیٹ دوبارہ کھول دی گئی ،ذرائع نے بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے ایک ادارے نے اسلم بھٹی کو حراست میں لے کر 4 گھنٹے تک ان سے بھتہ دینے کے حوالے سے تفتیش کی گئی ، قانون نافذ کرنے والے ادارے نے تفتیش کے دوران پوچھا کہ مارکیٹ سے بھتے کی مد میں کتنی رقم جمع کی جاتی ہے اور کس کس کو کتنی کتنی رقم دی جاتی ہے ،معلومات حاصل کرنے کے بعد اسلم بھٹی کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر انہیں ڈیفنس کے علاقے میں چھوڑ دیا گیا جہاں سے وہ اپنے گھر پہنچ گئے۔
Load Next Story