بات کچھ اِدھر اُدھر کی بیچارے غم کے مارے ’’رن مرید‘‘
جدید دنیا کی نامور شادی شدہ شخصیات سے پوچھاجائےکہ آپکی کامیابی میں کس کا ہاتھ ہےتو فوراََ دل سےآہ نکلتی ہے ’ظالم عورت‘
جدید دنیا کی نامور شادی شدہ شخصیات سے پوچھا جائے کہ آپ کی کامیابی میں کس کا ہاتھ ہے تو فوراََ دلسے آہ نکلتی ہے’’ظالم عورت‘‘۔ فوٹو فائل
کہتے ہیں کہ عورت کو مرد کی پسلی سے پیدا کیا گیا ، یہی وجہ ہے کہ اسکی ساخت میں دباؤ کے خلاف مزاحمت کا عنصر پایا جاتا ہے۔ مطلب یہ کہ عورت کو سیدھا نہیں کیا جا سکتا ، ذیادہ زور لگا تو یہ ٹوٹ جائے گی۔ پسلی سے نکلی یہ مخلوق اگر ویسے ہی سیدھی ہو جائے تو اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ بندے کے روئیں روئیں میں ٹیسیں اٹھتی ہیں۔طوعاً و کرھاًبندہ وہ کرنے لگ جاتا ہے جسکا حکم اسکی نصف الجمیل صادر فرماتی ہے یا ہماری زبان میں کہیے تو بیچارہ، غم کا مارا''لائی لگ ''بن جاتا ہے۔
ویسے مردوں میں لائی لگ ہونے کی بیماری جینیاتی ہے ۔ اکبر اللہ آبادی نے شاید اسی تناظر میں کہا تھا،
میرے ایک کنوارے دوست کی نفسیات نسواں پر اسقدر عمیق نظر ہے کہ عورت کی پرچھائی دیکھ کر بتا دیتے ہیں کہ موصوفہ کا تعلق کس برج سے ہے۔ انکا ماننا ہے کہ عورت کی نفسیات چہرے سے ذیادہ پاؤں کے مطالعہ سے معلوم کی جا سکتی ہے۔گذشتہ نشست میں ان سے جب اس بابت دریافت کیا گیا کہ کیسے معلوم ہو کہ یہ عورت میاں جی کی داسی بن کے رہے گی یا موصوف کو رن مرید بنا کے رکھ دے گی۔ تو صاحب نے سگریٹ ایشٹرے میں رکھی اور ایک فلسفیانہ قسم کی انگڑائی لیتے ہوئے گویا ہوئے کہ بھائی جس عورت کے پاؤں کے تلوے میں خم ہو ،سمجھ لو وہ حسینہ رن مریدوں کی شکاری ہے ،اور جس عورت کے پاؤں چپٹے ہوں وہ پیا جی کی داسی۔ یہ الگ بات ہے کہ دوسری قسم والی خواتین کی نسل دنیا سے ناپید ہوتی جا رہی ہے۔ جب تک مردوں کی گردنیں سلامت،عورتوں کے تلوے خمدار رہیں گے۔ آسان زبان میں کہو تو آجکل فقط خمدار پاؤں والی عورتیں ہی بچی ہیں اور یہ تو ویسے بھی قانون فطرت ہے کہ بھاری تو فقط عورت کا ہی پاؤں ہو سکتا ہے۔
جدید دنیا کی نامور شادی شدہ شخصیات سے پوچھا جائے کہ آپ کی کامیابی میں کس کا ہاتھ ہے تو فوراََ دلسے آہ نکلتی ہے''ظالم عورت''۔ یہ ظالم عورت کا کیا ماجرا ہے؟ تو مظلوموں کا یہ ٹولا بغیر کسی وضاحت کے پھٹ پڑتا ہے کہ بھئی نہ یہ چنگیزیت انکے گھروں پر نازل ہوتی ، نہ یہ گھر سے فرار کا راستہ اختیار کرتے اور نہ ہی رات کو گھر جانے کے خوف سے کام کام اور بس کام کے فلسفے پر عمل پیرا ہوتے، ، اور یقیناًنہ ہی اُنکا شمار کامیاب مردوں میں ہوتا۔
انہی مردوں میں ایک کلاس وہ بھی ہے جو بظاہر طاقتور دکھائی دیتی ہے اور جسے لگتا ہے کہ پیسے سے سب کچھ خریدا جا سکتا ہے ۔ یہ حضرات ہفتے میں 40 سے 60 گھنٹے کام کرتے ہیں ،لیکن گھریلو معاملات کے کون، کب اور کیسے جیسے اہم سوالات کا تعین انکی بیگمات ہی کرتی ہیں۔ان مردوں کی کثیر تعداد ماہانہ 10 سے 15 لاکھ روپے کماتی ہے، جبکہ انکی بیگمات این جی اوز چلانے اور بیرون ملک دوروں کے سوا کچھ نہیں کرتیں ۔پھر بھی طاقت کی گھریلو غلام گردشوں میں انہیں کا سکہ رائج رہتا ہے۔ حتی کہ اس بات کا فیصلہ بھی یہی بیگمات کرتی ہیں کہ شوہر نامدار ہفتہ کے روز گالف کھیلنے جا سکتے ہیں یا نہیں اور اگر جا سکتے ہیں تو رات گیارہ سے پہلے گھر میں موجود ہوں۔
متوسط طبقے کے مرد کی تو بات ہی نہ کیجئے ، اسکی زندگی میں تبدیلی ایک سراب کے سوا کچھ نہیں ہوتی ۔ بیچارہ تمام عمر گھر میں موجود دادی، ماں، پھوپھی اور چاچی کی چیخ وپکار اور صوم صلوٰۃ سے تنگ آ کر تبدیلی کا نعرہ لگاتا ہے، اور ایک ایسی عورت کا انتخاب کرتا ہے جو اس پر چیخنے سے پہلے اسکے دکھ سمجھ سکے، اسکے دکھوں کا مداوا کر سکے، ناکامی پر حوصلہ دے اور کامیابی پر شادماں ہو ۔ لیکن بیچارہ لاتا تو ایک عورت ہی ہے، اسکی یہ خواہش دائمی حسرت میں اسوقت بدلتی ہے جب گھر میں موجود چار گھاگھ قسم کی عورتیں نئی آنے والی کو بھی اپنے رنگ میں بدل لیتی ہیں۔ اور یوں تبدیلی گھریلو پنکچروں کی نذر ہو جاتی ہے۔
آہ ! فریادِ غالب
ویسے مردوں میں لائی لگ ہونے کی بیماری جینیاتی ہے ۔ اکبر اللہ آبادی نے شاید اسی تناظر میں کہا تھا،
پوچھا جو ان سے آپ کا پردہ ، وہ کیا ہوا
کہنے لگیں کہ عقل پہ مردوں کی پڑ گیا
میرے ایک کنوارے دوست کی نفسیات نسواں پر اسقدر عمیق نظر ہے کہ عورت کی پرچھائی دیکھ کر بتا دیتے ہیں کہ موصوفہ کا تعلق کس برج سے ہے۔ انکا ماننا ہے کہ عورت کی نفسیات چہرے سے ذیادہ پاؤں کے مطالعہ سے معلوم کی جا سکتی ہے۔گذشتہ نشست میں ان سے جب اس بابت دریافت کیا گیا کہ کیسے معلوم ہو کہ یہ عورت میاں جی کی داسی بن کے رہے گی یا موصوف کو رن مرید بنا کے رکھ دے گی۔ تو صاحب نے سگریٹ ایشٹرے میں رکھی اور ایک فلسفیانہ قسم کی انگڑائی لیتے ہوئے گویا ہوئے کہ بھائی جس عورت کے پاؤں کے تلوے میں خم ہو ،سمجھ لو وہ حسینہ رن مریدوں کی شکاری ہے ،اور جس عورت کے پاؤں چپٹے ہوں وہ پیا جی کی داسی۔ یہ الگ بات ہے کہ دوسری قسم والی خواتین کی نسل دنیا سے ناپید ہوتی جا رہی ہے۔ جب تک مردوں کی گردنیں سلامت،عورتوں کے تلوے خمدار رہیں گے۔ آسان زبان میں کہو تو آجکل فقط خمدار پاؤں والی عورتیں ہی بچی ہیں اور یہ تو ویسے بھی قانون فطرت ہے کہ بھاری تو فقط عورت کا ہی پاؤں ہو سکتا ہے۔
جدید دنیا کی نامور شادی شدہ شخصیات سے پوچھا جائے کہ آپ کی کامیابی میں کس کا ہاتھ ہے تو فوراََ دلسے آہ نکلتی ہے''ظالم عورت''۔ یہ ظالم عورت کا کیا ماجرا ہے؟ تو مظلوموں کا یہ ٹولا بغیر کسی وضاحت کے پھٹ پڑتا ہے کہ بھئی نہ یہ چنگیزیت انکے گھروں پر نازل ہوتی ، نہ یہ گھر سے فرار کا راستہ اختیار کرتے اور نہ ہی رات کو گھر جانے کے خوف سے کام کام اور بس کام کے فلسفے پر عمل پیرا ہوتے، ، اور یقیناًنہ ہی اُنکا شمار کامیاب مردوں میں ہوتا۔
انہی مردوں میں ایک کلاس وہ بھی ہے جو بظاہر طاقتور دکھائی دیتی ہے اور جسے لگتا ہے کہ پیسے سے سب کچھ خریدا جا سکتا ہے ۔ یہ حضرات ہفتے میں 40 سے 60 گھنٹے کام کرتے ہیں ،لیکن گھریلو معاملات کے کون، کب اور کیسے جیسے اہم سوالات کا تعین انکی بیگمات ہی کرتی ہیں۔ان مردوں کی کثیر تعداد ماہانہ 10 سے 15 لاکھ روپے کماتی ہے، جبکہ انکی بیگمات این جی اوز چلانے اور بیرون ملک دوروں کے سوا کچھ نہیں کرتیں ۔پھر بھی طاقت کی گھریلو غلام گردشوں میں انہیں کا سکہ رائج رہتا ہے۔ حتی کہ اس بات کا فیصلہ بھی یہی بیگمات کرتی ہیں کہ شوہر نامدار ہفتہ کے روز گالف کھیلنے جا سکتے ہیں یا نہیں اور اگر جا سکتے ہیں تو رات گیارہ سے پہلے گھر میں موجود ہوں۔
متوسط طبقے کے مرد کی تو بات ہی نہ کیجئے ، اسکی زندگی میں تبدیلی ایک سراب کے سوا کچھ نہیں ہوتی ۔ بیچارہ تمام عمر گھر میں موجود دادی، ماں، پھوپھی اور چاچی کی چیخ وپکار اور صوم صلوٰۃ سے تنگ آ کر تبدیلی کا نعرہ لگاتا ہے، اور ایک ایسی عورت کا انتخاب کرتا ہے جو اس پر چیخنے سے پہلے اسکے دکھ سمجھ سکے، اسکے دکھوں کا مداوا کر سکے، ناکامی پر حوصلہ دے اور کامیابی پر شادماں ہو ۔ لیکن بیچارہ لاتا تو ایک عورت ہی ہے، اسکی یہ خواہش دائمی حسرت میں اسوقت بدلتی ہے جب گھر میں موجود چار گھاگھ قسم کی عورتیں نئی آنے والی کو بھی اپنے رنگ میں بدل لیتی ہیں۔ اور یوں تبدیلی گھریلو پنکچروں کی نذر ہو جاتی ہے۔
آہ ! فریادِ غالب
ابن مریم ہو ا کرے کوئی
میرے دکھ کی دوا کرے کوئی
َبک رہا ہوں جنون میں کیا کچھ
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی
نوٹ: روزنامہ ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 800 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر ، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس بھی بھیجے جا سکتے ہیں۔