دہشت گردی کے خطرات اور حکومتی ذمے داریاں

شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ضرب عضب کے دوران فوج کو مزید کامیابیاں مل رہی ہیں

جب تک دہشت گردی کا خطرہ موجود ہے ملک میں ترقی کا عمل آگے نہیں بڑھ سکتا۔ فوٹو: آن لائن/فائل

LONDON:
شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ضرب عضب کے دوران فوج کو مزید کامیابیاں مل رہی ہیں۔ بدھ کو شمالی وزیرستان کی وادی شوال میں پاک فضائیہ کے طیاروں کی بمباری سے 35 دہشت گرد جب کہ تحصیل دتا خیل میں امریکی ڈرون حملے میں 20 افراد ہلاک ہوگئے۔ تحصیل دتا خیل میں اس سے قبل بھی متعدد ڈرون حملے ہو چکے ہیں۔ جن میں ملکی اور غیر ملکی دہشت گردوں کی ہلاکتوں کی اطلاعات بھی آتی رہی ہیں۔ شمالی وزیرستان میں غیر ملکی جنگجوؤں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جو اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ جنگجوئوں کے پاکستان' افغانستان اور اس سے آگے وسط ایشیا کی ریاست تک باہمی رابطے موجود ہیں۔

پاکستان ڈرون حملوں پر احتجاج کرتا چلا آ رہا ہے مگر اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ ان حملوں میں القاعدہ اور طالبان کے اہم رہنما ہلاک ہوئے ۔پاک فوج آپریشن ضرب عضب میں جس تیزی سے کامیابیاں حاصل کر رہی ہے اس سے یہ امید کی جاتی ہے کہ یہ آپریشن جلد ہی کامیابی سے مکمل ہو جائے گا اور یہ علاقہ جو دہشت گردوں کی آخری محفوظ پناہ گاہ ہے ،ان سے پاک ہو جائے گا۔

پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکاروں کے رائے ونڈ میں وزیراعظم کی رہائش کے قریب ایک مکان میں موجود دہشت گردوں کے خلاف دس گھنٹے کے آپریشن کے بعد دو دہشت ہلاک جب کہ ایک سیکیورٹی اہلکار شہید اور چار زخمی ہوئے۔ ان دہشت گردوں کا تعلق القاعدہ سے بتایا جاتا ہے جو کہ وزیراعظم کی رہائش گاہ، سرکاری دفاتر اور پولیس افسران کو نشانہ بنانا چاہتے تھے۔ ملک بھر میں دہشت گردی کی وارداتیں ایک عرصے سے جاری ہیں ان وارداتوں میں اب تک سیکڑوں بے گناہ افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

وزیراعظم کی رہائش گاہ کے قریب دہشت گردوں کی موجودگی اس امر کی عکاس ہے کہ دہشت گرد اعلیٰ شخصیات کو نشانہ بنا کر ملک میں خوف و ہراس کی فضا پھیلانا چاہتے ہیں۔ سیاسی ماہرین اور تجزیہ نگار ایک عرصے سے اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن شروع ہونے کے بعد ملک بھر میں ممکنہ دہشت گردی کے خطرات بڑھ سکتے ہیں جس کا مقصد حکومت پر دبائو ڈال کر آپریشن رکوانا بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے حکومت کو اس سلسلے میں ٹھوس منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔

اطلاعات کے مطابق دہشت گردی کے خدشے کے پیش نظر سیکیورٹی فورسز نے اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن کے دوران 5 سو سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا ہے جن کے بارے میں شبہ ہے کہ ان کا تعلق کالعدم تنظیموں سے ہے۔ وزارت داخلہ کے ایک اہلکار کے مطابق حراست میں لیے جانے والے ان افراد کے خلاف تحفظ پاکستان ایکٹ کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد کے خلاف یہ کارروائی شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف جاری آپریشن کے ممکنہ ردعمل کے نتیجے میں عمل میں لائی گئی ہے۔


دہشت گردوں کا نیٹ ورک پورے ملک میں پھیلا ہوا ہے' سیاسی اور مذہبی سطح پر ان کے ہمدردوں کی بھی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ یہ اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں کہ دہشت گردوں کے ملک کے مختلف علاقوں میں موجود مسلح تنظیموں کے ساتھ بھی رابطے ہیں اور وہ کسی بھی کارروائی کے لیے ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہیں۔ شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن کے تناظر میں یہ زیادہ ضروری ہو گیا ہے کہ ملک میں ممکنہ دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے تمام سیکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں کے مابین رابطے کا نظام منظم کیا جائے۔

جب تک تمام سیکیورٹی ادارے دہشت گردی کے خلاف مل کر کارروائی نہیں کریں گے اس عفریت سے نجات پانا مشکل ہے کیونکہ دہشت گرد ایک بڑی قوت کے حامل ہیں اور ان سے نمٹنے کے لیے بھی ردعمل میں اس سے زیادہ بڑی قوت کی ضرورت ہے، روایتی کارروائیوں یا چند ایک دہشت گردوں کی گرفتاری سے یہ مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے گراس روٹ لیول پر عوام کو متحرک کرنا ہوگا۔

اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت کو خفیہ اداروں کی طرف سے بھیجی جانے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شمالی اور جنوبی وزیرستان کے علاوہ طالبان اور ان کے حمایتیوں کی سب سے بڑی تعداد کراچی میں موجود ہے۔ اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف شہروں میں غیر قانونی طور پر افغان بستیاں بھی موجود ہیں، ابھی تک ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ عوامی حلقوں کے مطابق ملک میں ہونے والے مختلف جرائم میں ان بستیوں کا بھی ہاتھ ہے۔ لہٰذا امن و امان کی صورت حال بہتر بنانے اور دہشت گردی کے ممکنہ ردعمل سے بچنے کے لیے ان کے خلاف فوری کارروائی کی جانی چاہیے۔

پاکستان اس وقت مشکل حالات سے گزر رہا ہے۔ اندرون ملک دہشت گردی کی کارروائیاں اسے سب سے زیادہ نقصان پہنچا رہی ہیں۔ حکومت نے دہشت گردی کے عفریت سے نمٹنے کے لیے تحفظ پاکستان ایکٹ بنایا ہے تاکہ سیکیورٹی اداروں کو دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں کسی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ حکومت کو دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے سول انٹیلی جنس اداروں کی کارکردگی زیادہ بہتر بنانی ہو گی۔ تمام مذہبی اور سیاسی جماعتوں پر بھی یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ملک میں امن و امان کی صورت حال بہتر بنانے کے لیے حکومت سے تعاون کریں جب تک حکومت کو عوامی سطح پر تعاون حاصل نہیں ہو گا دہشت گردی کے عفریت پر قابو پانا مشکل امر ہے۔

جب تک دہشت گردی کا خطرہ موجود ہے ملک میں ترقی کا عمل آگے نہیں بڑھ سکتا۔ ملک کا مستقبل محفوظ بنانے کے لیے امن و امان پہلی شرط ہے۔ شمالی وزیرستان آپریشن بھی اس صورت کامیاب ہو گا جب وفاقی اور صوبائی حکومتیں شہروں اور دیہات میں اپنا انٹیلی جنس سسٹم بہتر بنائیں' عوام میں بیداری مہم چلائی جائے تاکہ کوئی شخص کسی اجنبی کو رہائش کی سہولت فراہم نہ کرے' اگر وفاقی و صوبائی حکومتیں اور اس کے ماتحت ادارے الرٹ ہوں تو دہشت گردوںکو کارروائی سے پہلے ہی کیفر کردار تک پہنچایا جا سکتا ہے۔
Load Next Story