کامن ویلتھ گیمز رکاوٹیں دور ہونے کے بعد پاکستانی دستے کی پیر کو روانگی

صدر پی او اے کو کام کرنے سے روکا گیا، پلیئرز کے بیرون ملک جانے پر کوئی پابندی نہیں، لاہور ہائیکورٹ

اسکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو میں شروع ہونے والے کامن ویلتھ گیمز میں پاکستانی ایتھلیٹس 8 مختلف کھیلوں میں حصہ لیں گے۔ فوٹو: فائل

KARACHI:
تمام رکاوٹیں دور ہونے کے بعد پاکستان دستے کو کامن ویلتھ گیمز میں شرکت کی اجازت مل گئی۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس عابد عزیز شیخ نے قرار دیاکہ صرف اولمپکس ایسوسی ایشن کے صدر عارف حسن کو کام سے روکااور صدارت کا نوٹیفکیشن معطل کیا گیا ہے،کامن ویلتھ گیمز کیلیے کھلاڑیوں کے جانے پرکوئی پابندی عائد نہیں کی گئی، پاکستانی ایتھلیٹس پیر کو گلاسگو روانہ ہوں گے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان دستے کی کامن ویلتھ گیمز میں شرکت کے حوالے سے غیریقینی کا خاتمہ ہوگیا، عدالت عالیہ نے اسے روانگی کیلیے گرین سگنل دے دیا۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس عابد عزیز شیخ نے کیس کی سماعت شروع کی تو اولمپکس ایسوسی ایشن کے وکیل نے بتایا کہ سابقہ حکم میں ابہام ہے، اس سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ پاکستانی دستہ کامن ویلتھ گیمز میں شرکت کیلیے جاسکتا ہے یا نہیں، عدالت نے اپنے وضاحتی حکم میں بتایا کہ صرف اولمپکس ایسوسی ایشن کے صدر عارف حسن کو کام سے روکا اورصدارت کا نوٹیفکیشن معطل کیا گیا ہے،کامن ویلتھ گیمزکیلیے کھلاڑیوں کے جانے پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی،اس کے بعد عدالت نے درخواست نمٹا دی۔

یاد رہے کہ گیمز23 جولائی سے 3اگست تک اسکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو میں ہوں گے، پاکستانی ایتھلیٹس 8 مختلف کھیلوں میں حصہ لیں گے، ان میں بیڈمنٹن، باکسنگ، جمناسٹک، شوٹنگ، سوئمنگ، ٹیبل ٹینس، ویٹ لفٹنگ اور ریسلنگ شامل ہیں، پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن نے ابتدائی مرحلے میں 83رکنی دستے کا انتخاب کیا تھا لیکن بعد ازاں اسے کم کر کے 62تک محدود کر دیا گیا، منتخب ہونے والے بیڈمنٹن کھلاڑیوں میں محمد عرفان، پلوشہ بشیر، محمد امجد (ٹیم آفیشل)، باکسنگ میں عامر خان، محمد وسیم، علی احمد، محب اللہ، حسن آصف اور نادر، محمد طارق اورعلی بخش( ٹیم آفیشلز) ، جمناسٹک میں غلام قادر اور محمد عقیل، پائندہ ارمغان( ٹیم آفیشل)، شوٹنگ میں مہوش فرحان، محمد شہزاد، یاسر یاسین، تعظیم اختر، عثمان چاند، عزیراحمد، ذیشان الشاکر، کرامت الرحیم اور راضی احمد ( ٹیم آفیشلز) کا انتخاب ہوا۔


سوئمنگ میں بسمہٰ خان، اسرار حسین، کرن خان، نثار احمد، سکندر خان، انعم بانڈے، حارث بانڈے، لیانا کیتھرین، اریبہ شیخ، ٹیم آفیشلز میں وینا سلمان اور محمد آصف شامل ہیں۔ ٹیبل ٹینس میں عبیرہ علی، فروا بابر، محمد رمیز، عمیر طارق، زمان انور، اظہر حسین، قمر عباس، ٹیم آفیشلز میں محمد اصغر اور محمد انور موجود ہیں۔ ویٹ لفٹنگ میں ابوسفیان، حیدر علی، ہارون شوکت، محمد حبیب، محمد شہزاد اورعثمان امجد، عرفان بٹ جبکہ امجد امین اور محمد الیاس ٹیم آفیشلز میں شامل ہیں، وفد میں پاکستان اسپورٹس بورڈ اور آئی پی سی منسٹری کے 6 عہدیدار محمد شفیق، (جنرل ٹیم منیجر)، محمد جہانگیر (ایڈمنسٹریٹو پرسنل)، اعظم ڈار (ایڈمنسٹریٹو پرسنل، وقار احمد (میڈیکل آفیشل) اور چوہدری فیصل نور(آبزرور) موجود ہیں۔

اب تک پاکستان نے کامن ویلتھ گیمزمیں مجموعی طور پر 24 طلائی تمغے حاصل کیے، ان میں سے 20 ریسلنگ میں ملے ہیں، پاکستان اب تک 19 میں سے 11 ایڈیشنز میں شریک رہا ہے، پرتھ میں منعقدہ 1962 کے گیمز ملکی تاریخ کے کامیاب ترین مقابلے تصور کیے جاتے ہیں، جس میں8گولڈ میڈلز جیت کر مجموعی طور پر چوتھی پوزیشن پائی تھی، پاکستان اسپورٹس بورڈ کے ڈائریکٹر جنرل اخترنواز گنجیرا کے مطابق اولمپک ایسوسی ایشن کے معاملات عدالت میں زیرِسماعت ہیں لیکن عدالت نے پاکستانی دستے کو گیمز میں حصہ لینے کی اجازت دے دی ہے۔

لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے اجازت ملنے کے بعد پاکستانی کھلاڑیوں اور آفیشلز نے سکون کا سانس لیا جو اس دوران بے یقینی کی کیفیت سے دوچار تھے کہ وہ ان کھیلوں میں حصہ لے سکیں گے یا نہیں، پاکستان کی ان مقابلوں میں شرکت اس وقت خطرے سے دوچار ہوگئی تھی جب متوازی اولمپک ایسوسی ایشن نے لاہور ہائی کورٹ سے حکم امتناعی حاصل کر لیا تھا۔ اس کے نتیجے میں انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کی تسلیم شدہ پی او اے کو کام کرنے سے روک دیا گیا تھا۔

اس موقع پر بین الصوبائی رابطے کی وزارت نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ پاکستانی دستے کو کامن ویلتھ گیمز میں شرکت کی اجازت دی جائے، اس تنازع نے پچھلے کئی برسوں سے پاکستانی کھیلوں کو بُری طرح متاثر کیا ہے۔ یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب پاکستان اسپورٹس بورڈ نے ایک فریق بنتے ہوئے جنرل (ریٹائرڈ) عارف حسن کو پی او اے کا صدر تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد سرکاری سرپرستی میں میجر جنرل (ر) اکرم ساہی کی سربراہی میں ایک متوازی پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن قائم کر دی گئی۔

انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی نے ایک سے زائد بار یہ واضح کیاکہ وہ لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) عارف حسن کی پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کو پاکستان کی نمائندہ تسلیم کرتی ہے،اگر اسے کام کرنے سے روکا گیا تو وہ پاکستان کی رکنیت معطل کر دے گی۔حکومت پاکستان نے بھی حال ہی میں اپنے موقف میں تبدیلی لاتے ہوئے جنرل عارف حسن کی پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کو تسلیم کر لیا ہے، متوازی ایسوسی ایشن جسے ماضی میں حکومت کی سرپرستی حاصل رہی ہے، اس نے عدالت سے حکم امتناع حاصل کر لیا تھا،اس باہمی چپقلش کے نتیجے میں پاکستان کھیلوں کے کئی بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت سے محروم ہو چکا ہے، اسکاٹ لینڈ میں شیڈول کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان کی ہاکی میں عدم شرکت کی وجہ بھی یہی ہے کیونکہ فیڈریشن نے آئی او سی کی تسلیم کردہ پی او اے کو انٹری بھیجنے سے انکار کر دیا تھا۔
Load Next Story