خیبر ایجنسی میں سیکیورٹی ٹیم پر حملہ

اس وقت پاک فوج شمالی وزیرستان میں مصروف کار ہے اور یہ دہشت گردوں کا آخری گڑھ ہے

حکومت کو شہروں اور دیہات کی سطح پر عوام کو بھی اس معاملے میں شریک کرنا چاہیے،فوٹو:فائل

خیبر ایجنسی کی تحصیل جمرود میں سیکیورٹی فورسز کی ٹیم پر دہشت گردوں کے حملے میں آٹھ اہلکار شہید ہو گئے اور ان کی دو گاڑیاں تباہ ہو گئیں جب کہ جوابی کارروائی میں پانچ دہشت گردوں کو ہلاک اور تین کو گرفتار کر لیا گیا۔ کسی تنظیم نے اس حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی۔ اخباری اطلاعات کے مطابق سیکیوٹی ٹیم پر راکٹوں اور خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا۔

حملے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر گھر گھر سرچ آپریشن شروع کر دیا اور درجنوں مشکوک افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ صدر مملکت ممنون حسین اور وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے سیکیورٹی ٹیم پر حملے کی سخت مذمت کی ہے۔

اس وقت شمالی وزیرستان میں پاک فوج آپریشن کر رہی ہے جب کہ گزشتہ روز ایف سی اہلکاروں پر خیبر ایجنسی کی تحصیل جمرود میں حملہ کیا گیا ہے' اس کا مطلب یہ ہے کہ اس ایجنسی میں بھی دہشت گردوں کا نیٹ ورک موجود ہے اور وہ اس قدر فعال بھی ہے کہ اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس ایجنسی میں پہلے بھی محدود پیمانے پر آپریشن ہوتا رہا ہے۔

اب اس علاقے میں ایک بار پھر کارروائی ناگزیر نظر آتی ہے' خیبر ایجنسی کا کوکی خیل علاقہ خاصا حساس ہے' یہ افغانستان سے ملحق ہے اور اس کے ساتھ ہی تورا بورا کا مشہور مقام ہے' جہاں اتحادی فوجوں نے طالبان اور القاعدہ کے خلاف ایک بڑی کارروائی کی تھی' یہاں سے افغانستان سے پاکستان میں آنا اور پاکستان سے افغانستان جانا خاصا آسان کام ہے۔ یقینی طور پر دہشت گرد اس علاقے کو بھی استعمال کر رہے ہیں۔ شمالی وزیرستان میں آپریشن کے ساتھ ساتھ خیبر ایجنسی کے کوکی خیل ایریا میں بھی فوجی کارروائی ہونی چاہیے تاکہ یہاں سے بھی دہشت گردوں کا صفایا کیا جا سکے۔

بہر حال یہ تو طے ہے کہ شمالی وزیرستان کے آپریشن کا ردعمل ضرور آنا تھا' اب گزشتہ کئی دنوں سے ملک میں دہشت گردوں کی اکا دکا سرگرمیاں نوٹ کی گئی ہیں' کراچی میں تو سیکیورٹی اداروں نے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی شروع کر رکھی ہیں اور یہاں کئی دہشت گرد پولیس کے ساتھ مقابلے میں مارے بھی گئے ہیں۔ ادھر لاہور میں بھی رائیونڈ کے حساس علاقے میں دہشت گردوں کا ایک اڈا پکڑا گیا ہے اور اس نیٹ ورک کے دیگر مقامات کا پتہ چلانے کے لیے سیکیورٹی ادارے کارروائی کر رہے ہیں' اس سلسلے میں کئی افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔گزشتہ روز پنجاب کے علاقے حویلی لکھا سے بھی کچھ گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں۔


اس وقت پاک فوج شمالی وزیرستان میں مصروف کار ہے اور یہ دہشت گردوں کا آخری گڑھ ہے' جسے اکھاڑ پھینکا جا رہا ہے۔ اس صورت حال میں دہشت گرد یقینا مایوس اور بددل ہیں کیونکہ ان سے ایسی جگہ چھین لی گئی ہے' جہاں وہ آزادانہ نقل و حرکت کرتے تھے' یہیں سے پورے ملک میں دہشت گردی کی وارداتوں کی منصوبہ بندی کی جاتی تھی ۔یہ قرین قیاس بات ہے کہ دہشت گرد خیبر پختونخوا میں دیگر قبائلی علاقوں اور صوبائی حکومتوں کے زیر انتظام قبائلیوں علاقوں میں پناہ حاصل کر سکتے ہیں کیونکہ یہ علاقے ان کے لیے انتہائی ساز گار ہیں۔ خیبر ایجنسی کی تحصیل جمرود کا واقعہ اس امر کی دلیل ہے کہ خیبر ایجنسی میں دہشت گردوں کا نیٹ ورک موجود ہے۔

دوسری جانب قبائلی علاقوں سے ملحقہ افغانستان کے صوبے بھی دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں کیونکہ افغانستان کی حکومت ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر رہی۔ تحریک طالبان کے سربراہ ملا فضل اللہ اور دیگر قیادت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ افغانستان کے صوبے نورستان' کنڑ اور پکتیکا میں موجود ہیں۔ افغانستان میں تعینات اتحادی افواج بھی اس حوالے سے کوئی کردار ادا نہیں کر رہیں۔ وہ صرف معمول کی ڈیوٹی ادا کر رہی ہیں۔ ادھر خیبر پختونخوا کے شہروں میں شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کر کے آنے والوں کا تانتا بندھا ہوا ہے۔ بنوں میں مہاجرین کی بہت بڑی تعداد موجود ہے۔ یہاں سے لوگ پشاور اور ملک کے دیگر شہروں میں جا رہے ہیں۔ ان مہاجرین کے روپ میں بھی عسکریت پسندملک کے شہروں میں پھیل سکتے ہیں' ان حالات میں خیبر پختونخوا حکومت کی ذمے داریوں میں بے پناہ اضافہ ہو جاتا ہے۔ خیبر پختونخوا میں پولیس کو بھی غیر معمولی کردار ادا کرنا ہے اور ایف سی کو بھی۔ خاصا داروں کا کردار بھی بڑا اہم ہے۔

بلوچستان' سندھ اور پنجاب کی حکومتوں کی ذمے داریاں بھی بہت بڑھ گئی ہیں۔ اس وقت جو صورت حال ہے' اس کا تقاضا یہ ہے کہ وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتیں فوج کے ساتھ انفارمیشن کا تبادلہ کریں۔ پاک فوج شمالی وزیرستان سے دہشت گردوں کا صفایا کر رہی ہے' ان کے اڈے ختم ہو گئے ہیں اور وہ مایوسی کے عالم میں ادھر ادھر فرار ہونے کی کوشش کر رہے ہیں' ان کے ساتھی ملک میںکوئی بڑی واردات کر کے شمالی وزیرستان آپریشن کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کر سکتے ہیں کیونکہ ملک میں ایک ایسا طبقہ موجود ہے جو شمالی وزیرستان میں آپریشن نہیں چاہتا تھا' وہ عوام کے سامنے یہی موقف پیش کرتا تھا کہ شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی کامیاب نہیں ہو سکتی' اگر وہاں آپریشن کیا گیا تو پورے ملک میں تباہی پھیل جائے گی' یہ سوچ درحقیقت دہشت گردوں کو بچانے کا کام کررہی تھی' شمالی وزیرستان سے فرار ہونے والے گروپ دہشت گردی کی کوئی بڑی واردات کر سکتے ہیں۔

اس لیے ملک کی سول انٹیلی جنس ایجنسیوں کو غیر معمولی حالات کا سامنا ہے لہٰذا ان حالات میں سول اداروں کو غیر معمولی کارکردگی کی ضرورت ہے۔ حکومت کو شہروں اور دیہات کی سطح پر عوام کو بھی اس معاملے میں شریک کرنا چاہیے۔ گاؤں میں پنچایت سسٹم کو بحال کرنا چاہیے جب کہ شہروں میں محلہ کمیٹیاں قائم کی جائیں۔ گاؤں کی پنچایت اور محلہ کمیٹی اپنے اپنے علاقے میں مشکوک افراد پر نظر رکھیں۔ خاص طور پر کرائے کا مکان حاصل کرنے والوں کے حوالے سے سخت جانچ پڑتال کی جانی چاہیے۔

ملک کی مذہبی جماعتوں کی بھی یہ بھاری ذمے داری عائد ہوتی کہ وہ عوام کو فروعی اختلافات میں الجھانے کے بجائے اور ملک میں جذباتی کیفیت پیدا کرنے کے بجائے ہوش مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عوام کی رہنمائی کریں۔ دہشت گرد کسی کے دوست یا ہمدرد نہیں ہیں اور نہ ہی ان کے کاموں کا مذہب سے تعلق ہے۔ بڑے شہروں میں ہوٹلوں' گیسٹ ہاؤسوں اور سرائے مالکان کو بھی پابند کیا جائے کہ وہ جسے بھی کمرہ دیں اس کی مکمل چھان بین کریں۔ ملک اس وقت انتہائی نازک صورت حال سے دوچار ہے اور اس صورت حال میں غیر معمولی اقدامات کی ضرورت ہے۔ فوج' جمہوریت حکومتیں' دینی سیاسی جماعتیں اور عوام متحد ہوں تو دہشت گردوں کو شکست دینا کوئی مشکل کام نہیں۔
Load Next Story