جان و مال کی حفاظت کسی حکومت کا اصل مقصد
یہ مجھے ان ریڑھی والوں نے خود بتایا ہے جس پر مجھے اب تک یقین نہیں آ رہا آپ بھی تفتیش کیجیے گا۔
Abdulqhasan@hotmail.com
یوں تو ہماری تیز و طرار حکومت اڑتی چڑیا کے پر گنتی ہے لیکن پتہ چلتا ہے کہ اسے یہ تک معلوم نہیں کہ اس کے گرد و پیش زمین پر کیا ہو رہا ہے اور اس کے جاسوس جاگ رہے ہیں یا سو رہے ہیں۔ جاتی عمرہ یعنی ہمارے وائٹ ہاؤس سے چند قدم دور ایک گاؤں میں دہشت گردوں نے اڈا بنا لیا اور کسی ناپاک منصوبے پر عمل کی تیاری میں لگ گئے۔
وہ تو اتفاقاً ایک عورت کے ذریعہ پتہ چل گیا اور سیکیورٹی والے 'ریڈ الرٹ' ہو گئے ورنہ اللہ جانے کیا ہو جاتا کیونکہ ہمارے چاک و چوبند حکمرانوں کو سڑکوں پر پلوں اور روشنیوں کی مناسب تنصیب اور ہواؤں میں بسیں چلانے کے سوا اور کچھ یاد نہیں۔ فارسی کے کسی شاعر نے کہا تھا
تو کار زمیں رانکو ساختی
کہ با آسماں نیز پر داختی
کیا تم نے زمین کے معاملات درست کر لیے ہیں کہ اب آسمان سے اٹھکیلیاں کر رہے ہو۔ ہم پرانی سڑکوں پر اونچے پل اور سڑکیں تعمیر کر رہے ہیں ان پر اربوں روپے اڑا رہے ہیں لیکن راولپنڈی کا نالہ لئی پہلے کی طرح طغیانی لاتا ہے اور لاہور کے قریب و جوار کے برساتی اور گندے نالے غلاظت اور بدبو پھیلا رہے ہیں۔ ذرا سی بارش ہو تو آبادیاں تالاب بن جاتی ہیں اور سڑکوں کے کھلے مین ہولوں میں بچے گر کر مر جاتے ہیں لیکن بازار کی گرانی شہریوں کو زندہ درگور کر رہی ہے اور میری اطلاع کے مطابق سڑکوں پر ریڑھی لگا کر پھل بیچنے والا ڈیڑھ لاکھ روپے جی ہاں ڈیڑھ لاکھ روپے روزانہ کماتا ہے ۔
یہ مجھے ان ریڑھی والوں نے خود بتایا ہے جس پر مجھے اب تک یقین نہیں آ رہا آپ بھی تفتیش کیجیے گا۔ سبزی فروشوں اور شادی گھروں کے نرخ کنٹرول کرنے کے لیے حکومت نے اپنے ایک نوجوان رشتہ دار کو وزیر بنا کر اس کام پر لگا دیا ہے۔ شروع دنوں میں انھوں نے کہا کہ آخر سیاست بھی تو کرنی ہے کچھ رعایت مجبوری ہے ابھی چند دن ہوئے کہ وہ ہاتھ میں ایک چھوٹا سا آم پکڑ کر ایک سبزی منڈی میں پوچھ رہے تھے کہ اب آلو کا کیا نرخ ہے۔ ہاتھ میں آم دیکھ کر ہر کوئی ہنس رہا تھا کہ ہمارا لیڈر آم کو آلو سمجھ رہا ہے۔
ہمارے حکمرانوں کی غیر ضروری مصروفیات کا ایک بھیانک نتیجہ شکر ہے کہ نکلتے نکلتے رہ گیا ہے ورنہ جاتی عمرہ یا رائے ونڈ کے قریب بھی کوئی دو تین کلو میٹر پر آبادی کے اندر دہشت گردوں نے ڈیرہ جما لیا۔ آس پاس پولیس کے جوان دبڑ دبڑ کرتے رہے ادھر ادھر دیکھ بھال کرتے رہے مگر انھیں اپنی ناک کے سامنے دہشت گردوں کا اڈا دکھائی نہ دیا حالانکہ حالت یہ ہے کہ رائے ونڈ اور اس کے قریبی علاقے میں قدم رکھنا بھی پولیس کی مرضی کے بغیر ممکن نہیں جو خبریں ملتی ہیں ان کو درست مانیں اور کیوں نہ مانیں تو اس علاقے میں ہوا بھی پوچھ کر چلتی ہے۔
اوپر سے گزرنے والے جہاز بھی اذن لیتے ہوں گے' پرندے غالباً آزاد ہیں ورنہ زمین اور اس کے اوپر کی دنیا ساری کی ساری پابند ہے۔ سمجھ لیں' کرفیو کی حالت میں مگر اس کے باوجود یہ دہشت گرد کسی دور کی اطلاع پر پکڑے گئے اور ان دو تین دہشت گردوں کو پکڑنے میں کوئی دس گھنٹے تک گولیوں سے مقابلہ جاری رہا۔ یعنی ان دہشت گردوں نے اسلحہ کا اتنا بڑا ذخیرہ پولیس کے ناکوں سے گزر کر جمع کیا تھا کہ پورے دس گھنٹے تک وہ گولیوں سے مقابلہ کرتے رہے۔
اگر میں حکمران ہوتا اور کیوں ہوتا تو سب سے پہلے تو آئی جی صاحب کی خبر لیتا'اس کے بعد افسران بالا اور ساری پولیس کی جو حفاظت کی ذمے دار ہے۔ ہمارے ہاں سزا کا تصور ختم ہو گیا ہے اور صرف عدالت سے ضمانت کا تصور موجود ہے کہ قتل بھی کر دیں تو کسی نہ کسی طرح ضمانت ہو جائے گی اور آپ آزاد ہوں گے اور اس آزادی میں آپ اپنے خلاف کسی بھی مقدمے کو قابو کر لیں گے۔ ایک پاکستانی بیٹی آگ میں جل جائے گی لیکن اس کی عزت لوٹنے والا آزاد پھرے گا اور اس کا بدلہ اسی مظلوم لڑکی کو خود ہی لینا پڑے گا۔
سوال یہ ہے کہ وزیر اعظم اور ان کے خاندان کی رہائش گاہ کے قریب ترین یہ مورچہ کس طرح قائم ہوا۔ یہ متعلقہ ادارے کی سراسر نالائقی ہے یا کرپشن ہے۔ پورا ملک اور اس کی انتظامیہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ماتحت ہے اب تو ایک نئے قانون کے تحت عام آدمی بھی سزا پا سکتا ہے۔ حکومت کے پاس اپنے کسی ملازم کو سزا دینے کے لاتعداد ذریعے ہیں بعض اوقات تو تبادلہ بھی سزا بن جاتا ہے لیکن رائے ونڈ کی پولیس کو اس غفلت کی جرات اس لیے ہوئی کہ اسے سزا کا خوف نہیں تھا لیکن کسی طرف سے اجر کی امید ضرور تھی۔
رائے ونڈ کے قریب پنڈ ارائیاں میں اس مورچے کے قیام کے پیچھے کسی معقول وجہ کا ہونا ضروری ہے اور لازماً ہو گی لیکن جو پولیس دن دہاڑے اپنے سامنے کی کسی واردات کا پتہ نہیں چلا سکتی وہ کسی بڑی واردات کے پس منظر کا پتہ کہاں سے چلائے گی۔ حکمرانوں کو کسی بائی پاس یا انڈر پاس کی تعمیر سے فرصت ہوئی تو وہ کسی دوسری طرف توجہ کرے گی لیکن ایک بات ذہن میں رہے کہ یہ خاص واقعہ تو ان کی ذات سے متعلقہ تھا۔ کسی گلو بٹ سے نہیں۔
کسی حکومت کا بنیادی فرض عوام کی جان و مال کی حفاظت قرار دیا گیا ہے اور اس مقصد کے لیے قبائلی حکومت کو ختم کر کے اس کی جگہ ایک منظم حکومت قائم کی گئی ہے۔ بادشاہ تھے یا آج کے منتخب حکمران سب نے تسلیم کیا ہے کہ ان کی حکومت کا مقصد عوام کی حفاظت ہے اور اسی لیے وہ حکمران ہیں۔ اگر کوئی حکمران عوام کی حفاظت سے غافل ہوتا ہے تو یہ غفلت ایک دن خود اس کو بھی نشانہ بنا سکتی ہے۔ جاتی عمرہ کی سیکیورٹی کا اب خیال آیا ہے اور وزیر اعلی ہیلی کاپٹر پر گھر گئے ہیں مگر کب تک۔
وہ تو اتفاقاً ایک عورت کے ذریعہ پتہ چل گیا اور سیکیورٹی والے 'ریڈ الرٹ' ہو گئے ورنہ اللہ جانے کیا ہو جاتا کیونکہ ہمارے چاک و چوبند حکمرانوں کو سڑکوں پر پلوں اور روشنیوں کی مناسب تنصیب اور ہواؤں میں بسیں چلانے کے سوا اور کچھ یاد نہیں۔ فارسی کے کسی شاعر نے کہا تھا
تو کار زمیں رانکو ساختی
کہ با آسماں نیز پر داختی
کیا تم نے زمین کے معاملات درست کر لیے ہیں کہ اب آسمان سے اٹھکیلیاں کر رہے ہو۔ ہم پرانی سڑکوں پر اونچے پل اور سڑکیں تعمیر کر رہے ہیں ان پر اربوں روپے اڑا رہے ہیں لیکن راولپنڈی کا نالہ لئی پہلے کی طرح طغیانی لاتا ہے اور لاہور کے قریب و جوار کے برساتی اور گندے نالے غلاظت اور بدبو پھیلا رہے ہیں۔ ذرا سی بارش ہو تو آبادیاں تالاب بن جاتی ہیں اور سڑکوں کے کھلے مین ہولوں میں بچے گر کر مر جاتے ہیں لیکن بازار کی گرانی شہریوں کو زندہ درگور کر رہی ہے اور میری اطلاع کے مطابق سڑکوں پر ریڑھی لگا کر پھل بیچنے والا ڈیڑھ لاکھ روپے جی ہاں ڈیڑھ لاکھ روپے روزانہ کماتا ہے ۔
یہ مجھے ان ریڑھی والوں نے خود بتایا ہے جس پر مجھے اب تک یقین نہیں آ رہا آپ بھی تفتیش کیجیے گا۔ سبزی فروشوں اور شادی گھروں کے نرخ کنٹرول کرنے کے لیے حکومت نے اپنے ایک نوجوان رشتہ دار کو وزیر بنا کر اس کام پر لگا دیا ہے۔ شروع دنوں میں انھوں نے کہا کہ آخر سیاست بھی تو کرنی ہے کچھ رعایت مجبوری ہے ابھی چند دن ہوئے کہ وہ ہاتھ میں ایک چھوٹا سا آم پکڑ کر ایک سبزی منڈی میں پوچھ رہے تھے کہ اب آلو کا کیا نرخ ہے۔ ہاتھ میں آم دیکھ کر ہر کوئی ہنس رہا تھا کہ ہمارا لیڈر آم کو آلو سمجھ رہا ہے۔
ہمارے حکمرانوں کی غیر ضروری مصروفیات کا ایک بھیانک نتیجہ شکر ہے کہ نکلتے نکلتے رہ گیا ہے ورنہ جاتی عمرہ یا رائے ونڈ کے قریب بھی کوئی دو تین کلو میٹر پر آبادی کے اندر دہشت گردوں نے ڈیرہ جما لیا۔ آس پاس پولیس کے جوان دبڑ دبڑ کرتے رہے ادھر ادھر دیکھ بھال کرتے رہے مگر انھیں اپنی ناک کے سامنے دہشت گردوں کا اڈا دکھائی نہ دیا حالانکہ حالت یہ ہے کہ رائے ونڈ اور اس کے قریبی علاقے میں قدم رکھنا بھی پولیس کی مرضی کے بغیر ممکن نہیں جو خبریں ملتی ہیں ان کو درست مانیں اور کیوں نہ مانیں تو اس علاقے میں ہوا بھی پوچھ کر چلتی ہے۔
اوپر سے گزرنے والے جہاز بھی اذن لیتے ہوں گے' پرندے غالباً آزاد ہیں ورنہ زمین اور اس کے اوپر کی دنیا ساری کی ساری پابند ہے۔ سمجھ لیں' کرفیو کی حالت میں مگر اس کے باوجود یہ دہشت گرد کسی دور کی اطلاع پر پکڑے گئے اور ان دو تین دہشت گردوں کو پکڑنے میں کوئی دس گھنٹے تک گولیوں سے مقابلہ جاری رہا۔ یعنی ان دہشت گردوں نے اسلحہ کا اتنا بڑا ذخیرہ پولیس کے ناکوں سے گزر کر جمع کیا تھا کہ پورے دس گھنٹے تک وہ گولیوں سے مقابلہ کرتے رہے۔
اگر میں حکمران ہوتا اور کیوں ہوتا تو سب سے پہلے تو آئی جی صاحب کی خبر لیتا'اس کے بعد افسران بالا اور ساری پولیس کی جو حفاظت کی ذمے دار ہے۔ ہمارے ہاں سزا کا تصور ختم ہو گیا ہے اور صرف عدالت سے ضمانت کا تصور موجود ہے کہ قتل بھی کر دیں تو کسی نہ کسی طرح ضمانت ہو جائے گی اور آپ آزاد ہوں گے اور اس آزادی میں آپ اپنے خلاف کسی بھی مقدمے کو قابو کر لیں گے۔ ایک پاکستانی بیٹی آگ میں جل جائے گی لیکن اس کی عزت لوٹنے والا آزاد پھرے گا اور اس کا بدلہ اسی مظلوم لڑکی کو خود ہی لینا پڑے گا۔
سوال یہ ہے کہ وزیر اعظم اور ان کے خاندان کی رہائش گاہ کے قریب ترین یہ مورچہ کس طرح قائم ہوا۔ یہ متعلقہ ادارے کی سراسر نالائقی ہے یا کرپشن ہے۔ پورا ملک اور اس کی انتظامیہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ماتحت ہے اب تو ایک نئے قانون کے تحت عام آدمی بھی سزا پا سکتا ہے۔ حکومت کے پاس اپنے کسی ملازم کو سزا دینے کے لاتعداد ذریعے ہیں بعض اوقات تو تبادلہ بھی سزا بن جاتا ہے لیکن رائے ونڈ کی پولیس کو اس غفلت کی جرات اس لیے ہوئی کہ اسے سزا کا خوف نہیں تھا لیکن کسی طرف سے اجر کی امید ضرور تھی۔
رائے ونڈ کے قریب پنڈ ارائیاں میں اس مورچے کے قیام کے پیچھے کسی معقول وجہ کا ہونا ضروری ہے اور لازماً ہو گی لیکن جو پولیس دن دہاڑے اپنے سامنے کی کسی واردات کا پتہ نہیں چلا سکتی وہ کسی بڑی واردات کے پس منظر کا پتہ کہاں سے چلائے گی۔ حکمرانوں کو کسی بائی پاس یا انڈر پاس کی تعمیر سے فرصت ہوئی تو وہ کسی دوسری طرف توجہ کرے گی لیکن ایک بات ذہن میں رہے کہ یہ خاص واقعہ تو ان کی ذات سے متعلقہ تھا۔ کسی گلو بٹ سے نہیں۔
کسی حکومت کا بنیادی فرض عوام کی جان و مال کی حفاظت قرار دیا گیا ہے اور اس مقصد کے لیے قبائلی حکومت کو ختم کر کے اس کی جگہ ایک منظم حکومت قائم کی گئی ہے۔ بادشاہ تھے یا آج کے منتخب حکمران سب نے تسلیم کیا ہے کہ ان کی حکومت کا مقصد عوام کی حفاظت ہے اور اسی لیے وہ حکمران ہیں۔ اگر کوئی حکمران عوام کی حفاظت سے غافل ہوتا ہے تو یہ غفلت ایک دن خود اس کو بھی نشانہ بنا سکتی ہے۔ جاتی عمرہ کی سیکیورٹی کا اب خیال آیا ہے اور وزیر اعلی ہیلی کاپٹر پر گھر گئے ہیں مگر کب تک۔