نجی شعبے کی جانب سے قرضوں کے حصول کے رجحان میں اضافہ

جولائی تا مئی بینکوں سے 275 ارب، 192 ارب ورکنگ کپیٹل، 83 ارب فکسڈ انویسٹمنٹ کیلیے تھے

جولائی تا مئی بینکوں سے 275 ارب، 192 ارب ورکنگ کپیٹل، 83 ارب فکسڈ انویسٹمنٹ کیلیے تھے۔ فوٹو: فائل

گزشتہ مالی سال نجی شعبے کی جانب سے بینکاری نظام سے قرضوں کے رجحان میں نمایاں بہتری واقع ہوئی ہے۔

جولائی سے مئی کے دوران نجی شعبے نے 275.4 ارب روپے کے کاروباری قرضے حاصل کیے جن میں سے 192.2 ارب روپے کے قرضے ورکنگ کپیٹل کیلیے جبکہ 83.2 ارب روپے کے قرضے فکسڈ انویسٹمنٹ کے طور پر لیے گئے۔ مالی سال 2012-13 کے دوران نجی شعبے نے مجموعی طور پر 83.4 ارب روپے کے قرضے کاروباری قرضے لیے تھے جس میں سے 95.9ارب روپے کے قرضے ورکنگ کیپیٹل کیلیے حاصل کیے گئے۔


گزشتہ مالی سال کے دوران سب سے زیادہ 168 ارب روپے کے قرضے مینوفیکچرنگ سیکٹر نے حاصل کیے جس میں ٹیکسٹائل نے 40.5 ارب روپے، کیمکلز نے 3.7ارب روپے، فوڈ اینڈ بیوریجز نے 96.4 ارب روپے، شوگر انڈسٹری نے 45 ارب روپے کے قرضے حاصل کیے۔ پاور سیکٹر کیلیے 50.3 ارب روپے کے قرضے حاصل کیے۔ کنسٹرکشن سیکٹر میں قرضوں کا رجحان منفی 3.8 ارب روپے رہا جبکہ ٹرانسپورٹ سیکٹر نے 25.6 ارب روپے کامرس اینڈ ٹریڈ سیکٹر نے 10 اب روپے کے قرضے حاصل کیے۔

ان قرضوں میں انرجی سیکٹر نے 22.3 اب روپے کے لانگ ٹرم قرضے حاصل کیے۔ ٹیلی کام سیکٹر کے لانگ ٹرم قرضوں کی مالیت 18.6 ارب روپے، شوگر سیکٹر کے لانگ ٹرم قرضوں کی مالیت 11.2 ارب روپے، ٹیکسٹائل سیکٹر کے لانگ ٹرم قرضوں کی مالیت 7.6 ارب روپے رہی۔ ماہرین کے مطابق ان تمام شعبوں میں توانائی کیلیے طویل مدتی سرمایہ کاری کی جارہی ہے۔

ٹیلی کام کا شعبہ تھری جی اور فور جی ٹیکنالوجی متعارف کرانے کیلیے انفرااسٹرکچر میں سرمایہ کاری کررہا ہے۔ شوگر انڈسٹر میں گنے کے پھوک سے بجلی پیدا کرنے کیلیے سرمایہ کاری کی جارہی ہے اسی طرح ٹیکسٹائل سیکٹر پیداواری استعداد میں بہتری کیلیے توسیع اور ماڈرنائزیشن کیلیے سرمایہ کاری کررہا ہے۔ ان تمام شعبوں میں کی جانے والی سرمایہ کاری کے ثمرات آئندہ چند سال میں ظاہر ہوں گے جس سے معیشت کو مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔
Load Next Story