اسرائیلی جارحیت میں شدت آگئی

غزہ پر اسرائیل کے حملوں میں کمی ہونے کے بجائے روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

غزہ پر اسرائیل کے حملوں میں کمی ہونے کے بجائے روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ فوٹو؛ فائل

غزہ پر اسرائیل کے حملوں میں کمی ہونے کے بجائے روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اتوار کو تو اسرائیل نے سفاکی کی انتہا کر دی اس نے نہتے اور بے گناہ فلسطینیوں پر بارود کی بارش کر دی' شدید ترین بمباری کے باعث مزید سو فلسطینی جام شہادت نوش کر گئے جس کے بعد 13 روز میں فلسطینی شہداء کی تعداد 438 ہو گئی۔ اسرائیلی جارحیت کے جواب میں حماس نے بھی حملے کیے جس سے 13اسرائیلی فوجی ہلاک ہوگئے۔ اسرائیل نے زمینی آپریشن وسیع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے مزید فوجی غزہ میں داخل کر دیے،اس نے ریزرو فوج کے 53 ہزار فوجیوں کو بھی متحرک کر دیا ہے۔

اسرائیل کی حالیہ کارروائیوں اور جنگی تیاریوں سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ وہ جنگ بندی کے بجائے فلسطینیوں کے خلاف بھرپور کارروائی کا ارادہ رکھتا اور اسے عملی جامہ پہنانے کے لیے بے تاب ہے۔ اسرائیل جس انداز میں فلسطینیوں کا قتل عام کر رہا ہے اس سے یوں ظاہر ہوتا ہے جیسے وہ اس خطے سے فلسطینیوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم کرنا چاہتا ہے' بالکل اسی طرح جس طرح اسپین میں مسلمانوں کا قتل عام کرکے وہاں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ان کی قوت کو ختم کر دیا گیا۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو جنگ بند کرنے کے بجائے جارحانہ رویہ اپنائے ہوئے ہیں، انھوں نے دھمکی دی کہ کارروائی میں مزید توسیع ہو سکتی ہے۔

انھوں نے ان حملوں کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا کہ حماس کے سرنگوں کے نظام پر حملہ کرنے کے لیے زمینی کارروائی کی ضرورت ہے کیونکہ فضائی حملے سے یہ ممکن نہیں تھا، اسرائیل کو اپنے دفاع کا پورا حق حاصل ہے۔ مظلوم فلسطینیوں پر اسرائیل کی جانب سے حملوں کا یہ سلسلہ پہلی بار شروع نہیں ہوا اس سے قبل بھی کئی بار اسرائیل نے فلسطینیوں پر شدید بمباری اور حملے کیے اور سیکڑوں فلسطینیوں کو شہید کردیا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اقوام متحدہ' امریکا' یورپ اور دیگر عالمی قوتوں نے کبھی اسرائیل کو اس جارحیت سے روکنے کی عملی کوشش نہیں کی۔

اسرائیل نے جب بھی فلسطینیوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے عالمی ضمیر نے سوائے مذمت کرنے کے کوئی پیشرفت نہیں کی ۔ اگر ماضی ہی میں اسرائیل کو اس کے ظالمانہ اقدامات سے روکنے کی کوشش کی گئی ہوتی تو آج یہ نوبت نہ آتی۔ اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں کے رویے اس امر کے عکاس ہیں کہ وہ فلسطینیوں کے قتل عام میں اسرائیلی جارحیت کا اندرون خانہ ساتھ دے رہے ہیں۔ عالمی قوتوں کے فلسطینیوں کے ساتھ عالمی مارکیٹ میں کوئی تجارتی یا معاشی مفادات وابستہ نہیں جب کہ اسرائیل عالمی سطح پر ہونے والی معاشی اور تجارتی سرگرمیوں میں بنیادی اور بڑا حصہ دار ہونے کے علاوہ عالمی معاشی نظام کا بھی اہم کردار ہے۔

یہودی امریکا سمیت یورپ کے متعدد ممالک میں معاشی اور سیاسی سطح پر بنیادی کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس لیے ان علاقوں کی کوئی بھی حکومت اسرائیلی ناراضگی کا خطرہ مول نہیں لے سکتی۔ ایک جانب تو یہ صورت حال ہے دوسری جانب مسلم دنیا بھی اپنے اپنے مفادات' باہمی اختلافات اور اندرون خانہ مشکلات کے باعث اسرائیل کو اس کی جارحیت سے روکنے کی پوزیشن میں نہیں' وہ بھی کوئی عملی کارروائی کرنے کے بجائے صرف مذمتی بیانات تک خود کو محدود کیے ہوئے ہے۔


وہ اسرائیلی مظالم کے خلاف ان قوتوں سے مدد مانگ رہی ہے جو درپردہ اسرائیلی مفادات کی محافظ ہیں۔ شام اور عراق خود خانہ جنگی کا شکار ہیں' مصر کی فوجی حکومت نے فلسطینیوں کا ساتھ دینے کے بجائے غزہ جانے والی سرنگوں کو بند کرکے امداد کا سلسلہ ہی روک دیا ہے۔ صرف ترک حکومت اسرائیلی کی جارحیت کی کھلم کھلا مذمت کر رہی ہے مگر عملی طور پر وہ بھی کچھ کرنے سے قاصر ہے۔

مسلم دنیا اسرائیل کے خلاف جنگی کارروائی کرنے کے بجائے معاشی اور تجارتی سطح ہی پر اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کر دے تو بھی یہ اسرائیل کو ظالمانہ اقدامات سے روکنے کے لیے اہم حربہ ثابت ہو سکتا ہے مگر ایسا کچھ بھی نہیں کیا جا رہا بلکہ بہت سے مسلم ممالک کے اسرائیل کے ساتھ گہرے معاشی اور تجارتی مفادات وابستہ ہیں۔ اسرائیلی حکومت کو بھی تمام صورت حال کا بخوبی ادراک ہے کہ وہ کچھ بھی کر لے کوئی قوت بھی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔

اسرائیلی سفاکی کا یہ عالم ہے کہ وہ فلسطینی علاقے میں ایمبولینسوں کو بھی نشانہ بنا رہا ہے، سڑکوں اور گلیوں میں جا بجا لاشیں بکھری پڑی ہیں، اسپتالوں میں ادویات ناپید ہیں اور سیکڑوں زخمی علاج کے منتظر ہیں اور ہزاروں افراد علاقے سے نقل مکانی کر رہے ہیں۔ فلسطینی صدر محمود عباس کا کہنا ہے کہ شجائیہ میں ہونے والی اموات قتل عام ہے، اسرائیل نے مشرقی علاقے شجائیہ پر اندھا دھند بمباری کی تھی جس میں 62 سے زائد افراد شہید اور 250 زخمی ہوئے' عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں، شہدا میں عورتوں'بچوں کے علاوہ حماس کے رہنما خلیل الحیاء کا بیٹا بھی شامل ہے۔

اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو رہی جب کہ امریکا بھی اسرائیلی جارحیت کا ساتھ دے رہا ہے۔ صدر اوباما نے کہا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ اسرائیل کا حالیہ زمینی آپریشن سرنگوں کو تباہ کرنے کے لیے ہے' انھوں نے وائٹ ہائوس میں اسلامی ملکوں کے سفیروں کے اعزاز میں ہونے والی افطار پارٹی میں نہتے فلسطینیوں ہی کو مجرم قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ غزہ سے اسرائیل پر گھریلو ساخت کے میزائلوں سے حملے ہوتے ہیں جس سے اسرائیلی شہری نشانہ بنتے ہیں اور کوئی ملک اپنے شہریوں کی ہلاکتوں کو برداشت نہیں کر سکتا۔ اگر اس وقت اسرائیل فلسطینیوں کے خلاف حملے بند بھی کر دیتا ہے تو اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ وہ مستقبل میں دوبارہ ایسا نہیں کرے گا۔

اسرائیل جب چاہتا ہے فلسطینیوں کے خلاف کارروائی شروع کر دیتا ہے اور اسے روکنے والا کوئی بھی نہیں ہوتا۔ اقوام متحدہ اور امریکا کی اسرائیل کے بارے میں پالیسیاں واضح ہو چکی ہیں ۔ اب مسلم دنیا ہی کو اس کا فیصلہ کرنا ہو گا کہ اگر مستقبل میں فلسطین سمیت کسی بھی مسلم ملک کے خلاف جارحیت ہوتی ہے تو اسے کس طرح روکا جائے۔اگر اب بھی ہوش کے ناخن نہ لیے گئے اور خواب خرگوش کے یونہی مزے لیے جاتے رہے تو پھر انھیں مستقبل میں اس سے زیادہ شدید جارحیت کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
Load Next Story