تاریخ کے تماشے
سب سے پہلے تو میرا اپنا ایک تماشا۔ میں نے برسوں تک رپورٹنگ کی لیکن یہ میری احتیاط تھی
Abdulqhasan@hotmail.com
سب سے پہلے تو میرا اپنا ایک تماشا۔ میں نے برسوں تک رپورٹنگ کی لیکن یہ میری احتیاط تھی یا کوئی اور وجہ کہ میری خبر کی کبھی تردید نہیں ہوئی۔ ایک بار تردید ہوئی لیکن وہ جھوٹی نکلی اور میری جان میں جان آئی۔ یہ جان لینے والا حادثہ تھا۔ بہر کیف خیریت گزر گئی۔ دوسرا حادثہ اب جا کر برسہا برس بعد ہوا ہے میں نے کالم میں لکھا کہ پھل فروٹ بیچنے والے عام ریڑھی والے ہر روز ڈیڑھ لاکھ روپے کما لیتے ہیں۔ بات یہ نہیں تھی بلکہ یوں تھی کہ وہ ہر روز اتنی رقم کا سودا لاتے ہیں جو عموماً شام تک فروخت ہو جاتا ہے۔ اتنا منافع نہیں ہوتا اگر ہر روز ڈیڑھ لاکھ روپے کا منافع ہوتا تو مجھے آپ کسی ریڑھی کے پاس دیکھتے۔
ہمارے ایک کرمفرما تھے مولانا احسان الٰہی ظہیر وہ سبزی منڈی میں آڑھت کرتے تھے، صبح سویرے نیلامی کے وقت پہنچ جاتے دو چار ٹرکوں کی بولی دے کر اور مال بناکر واپس آ جاتے اور پھر لیڈری کیا کرتے۔ مولانا یہ ہنر سکھانے کے لیے ہر وقت تیار رہتے مگر اتنی صبح جاگ کر سبزی منڈی بادامی باغ کون جا سکتا تھا۔ میں نے اپنا تماشا لگایا اور شکر ہے کہ باہر سے تردید آنے سے پہلے یہ کام خود ہی کر لیا۔ اب تاریخ کا ایک تماشا ملاحظہ فرمائیے۔ ان دنوں پیغمبروں کی سرزمین فلسطین پر قیامت برپا ہے۔ یہودی مسلمانوں کو تہہ تیغ کر رہے ہیں اور بڑی بے رحمی کے ساتھ یہ فرض ادا کر رہے ہیں۔
جرمنی کے ہٹلر نے کہا تھا کہ میں نے سب یہودی مار دیے ہیں مگر دنیا کے لیے بطور نمونہ چند چھوڑ دیے ہیں۔ اس نے اپنے پیچھے جو نمونہ چھوڑا تھا اب وہی تباہی مچا رہا ہے۔ آج ایک ارب سے زیادہ مسلمان اس زمین پر زندہ ہیں لیکن یہودی ان کو آپس میں لڑا کر اور انھیں بے حس بنا کر اپنا انتقام لے رہے ہیں۔ صلاح الدین ایوبیؒ نے فلسطین کی آزادی کے لیے جنگ شروع کی، اس طویل جنگ کے دوران ایک دن ایسا بھی آیا جب عیسائی دنیا کے سپاہی اور ان کے سپہ سالار اپنے پادریوں سمیت فلسطین کے محاذ جنگ پر آ گئے اور اپنی تعداد اور طاقت کے زعم میں کہ وہ اب صلاح الدین ایوبی کو ٹھکانے لگا دیں گے۔
مسیحی سپاہ کی اس غیر معمولی تعداد اور اس کی جنگی تیاریوں اور جوش و جذبہ کو دیکھ کر سلطان صلاح الدین کے سپہ سالار ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان کو دشمن کی تعداد اور طاقت سے باخبر کیا اور متفقہ مشورہ دیا کہ اب کسی بہانے جنگ کو ٹال دیں پھر دیکھ لیں گے۔ سلطان نے تفصیلات معلوم کیں، اپنے بند خیمے کے ایک پردے کو تلوار سے چیر کر باہر دیکھا تو تاحد نظر دشمن کی بھاری تعداد دکھائی دی ان کے لہراتے ہوئے نیزے اور تلواریں دیکھیں اور یہ سب دیکھ کر بجائے مرعوب ہونے کے سپہ سالار ایوبی بہت خوش ہوئے۔
انھوں نے ساتھی جرنیلوں کو بلایا اور ان کو بھی اپنے خیمے سے یہ نقشہ دکھایا اور یہ غیر معمولی تاریخ جملہ کہا کہ دیکھو میرے دوستو دشمن اتنی بڑی تعداد میں پھر کبھی ایک میدان میں ایک ساتھ جمع نہیں ہوگا۔ آج میں اس کو جانے نہیں دوں گا، ہمیشہ کے لیے ختم کر دوں گا۔ چنانچہ عکہ کے اس میدان میں جنگ ہوئی یورپ کی سپاہ میدان جنگ میں کاٹ دی گئی یا بھاگ گئی اور سلطان صلاح الدین ایوبی کو دشمن پر حتمی فتح حاصل ہوگئی، بیت المقدس آزاد ہو گیا۔ فلسطین مسلمانوں کا ملک بن گیا۔
سلطان اپنی زندگی کی سب سے بڑی دشمن فوج کو ختم کرنے کے اعزاز سے متصف ہو گیا۔ تاریخ کا ہیرو بن گیا۔ اس فاتح کے نام کی عظمت زندہ ہے اور زندہ رہے گی لیکن تاریخ نے ایک منظر تو وہ دیکھا جو سلطان صلاح الدین نے اسے دکھایا تھا اور یہی تاریخ اسی فلسطین اور اس وقت کے دشمن کے مقابلے میں کہیں زیادہ فوج کو آج دیکھ رہی ہے جو میدان جنگ سے بہت دور زندگی کے مزے لوٹ رہی ہے۔ کسی سلطان کی طرح میدان جنگ کے خیمے میں نہیں میدان شرمندگی اور بزدلی کے کسی محل میں محو استراحت ہے، اور رسوا ہے۔
مشرق کی سرزمینوں پر ہندو طاقت پکڑ رہا ہے اور مغرب کی طرف بڑھنے کے منصوبے بنا رہا ہے جس طرف پاکستان سے لے کر سعودی عرب تک موجود ہیں۔ دوسری طرف مغرب میں یہودی ایسے ہی منصوبوں پر عمل پیرا ہے اور آگے بڑھنے کی خواہش پال رہا ہے۔ دنیا میں اسرائیل وہ واحد ملک ہے جس کی کوئی سرحد نہیں ہے کوئی انٹرنیشنل بائونڈری نہیں ہے کیونکہ اس نے اپنی سرحدوں کو پھیلانا ہے اور پھیلانا جلد چاہ رہا ہے۔ دنیا کی طاقتیں اس کے ساتھ ہیں اور اس کے ہر ستم پر چپ ہیں۔
ویسے چپ تو اسرائیل کے ہم دشمن بھی ہیں اور اسرائیل کو کسی طرف سے کوئی جنگی خطرہ نہیں ہے جب کہ اس کا ہر پڑوسی اس کی طرف سے جنگی خطرے میں ہے بلکہ خطرہ بھگت رہا ہے۔ فلسطین کے ایک مسلمان خاندان نے اپنے گھر والوں کو دو حصوں میں بانٹ کر مختلف مقامات پر بھیج دیا ہے کہ کوئی تو زندہ بچ جائے گا۔ کیا ہمیں سلطان ایوبی کا نام لینے اور لکھنے کا حق حاصل ہے۔ ہم مسلمانوں کے ارب اور کھرب پتی حکمران جن کی دولت مغربی دنیا کے بینکوں میں محفوظ کر دی گئی ہے اور جن کے بارے میں خبریں یہانتک بھی ہیں کہ انھوں نے اسرائیل کو اپنی طرف سے امن کا پیغام دے رکھا ہے اور ایسا کوئی پیغام نہ بھی ہو کیا فرق پڑ سکتا ہے کیونکہ ہم سب ناخوش ہیں اور چپ چاپ مسلمانوں کا بہتا ہوا لہو دیکھ رہے ہیں۔
یہ منظر دیکھ کر عکہ کا میدان یاد آتا ہے جہاں تاریخ نے اس کے بالکل الٹ تماشا دکھایا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ برسوں تک اس میدان سے انسانوں کی ہڈیاں دیکھی جاتی رہیں۔ تاریخ یہاں کام آنے والے انسانوں کی غیر معمولی تعداد کا اندازہ نہیں لگا سکی۔ یہی تاریخ آج ہمارے سامنے جو تماشا دکھا رہی ہے یہ بھی کسی شاندار ماضی رکھنے والی قوم کا عبرت کدہ ہے۔
محترم شیخ ریاض صاحب کے خاندان نے ایک افطاری دی جو سیاسی بن گئی اس کا ذکر کرنا تھا لیکن فلسطین سے آنے والی خبروں نے اسے ایک دن کے لیے ملتوی کر دیا۔
ہمارے ایک کرمفرما تھے مولانا احسان الٰہی ظہیر وہ سبزی منڈی میں آڑھت کرتے تھے، صبح سویرے نیلامی کے وقت پہنچ جاتے دو چار ٹرکوں کی بولی دے کر اور مال بناکر واپس آ جاتے اور پھر لیڈری کیا کرتے۔ مولانا یہ ہنر سکھانے کے لیے ہر وقت تیار رہتے مگر اتنی صبح جاگ کر سبزی منڈی بادامی باغ کون جا سکتا تھا۔ میں نے اپنا تماشا لگایا اور شکر ہے کہ باہر سے تردید آنے سے پہلے یہ کام خود ہی کر لیا۔ اب تاریخ کا ایک تماشا ملاحظہ فرمائیے۔ ان دنوں پیغمبروں کی سرزمین فلسطین پر قیامت برپا ہے۔ یہودی مسلمانوں کو تہہ تیغ کر رہے ہیں اور بڑی بے رحمی کے ساتھ یہ فرض ادا کر رہے ہیں۔
جرمنی کے ہٹلر نے کہا تھا کہ میں نے سب یہودی مار دیے ہیں مگر دنیا کے لیے بطور نمونہ چند چھوڑ دیے ہیں۔ اس نے اپنے پیچھے جو نمونہ چھوڑا تھا اب وہی تباہی مچا رہا ہے۔ آج ایک ارب سے زیادہ مسلمان اس زمین پر زندہ ہیں لیکن یہودی ان کو آپس میں لڑا کر اور انھیں بے حس بنا کر اپنا انتقام لے رہے ہیں۔ صلاح الدین ایوبیؒ نے فلسطین کی آزادی کے لیے جنگ شروع کی، اس طویل جنگ کے دوران ایک دن ایسا بھی آیا جب عیسائی دنیا کے سپاہی اور ان کے سپہ سالار اپنے پادریوں سمیت فلسطین کے محاذ جنگ پر آ گئے اور اپنی تعداد اور طاقت کے زعم میں کہ وہ اب صلاح الدین ایوبی کو ٹھکانے لگا دیں گے۔
مسیحی سپاہ کی اس غیر معمولی تعداد اور اس کی جنگی تیاریوں اور جوش و جذبہ کو دیکھ کر سلطان صلاح الدین کے سپہ سالار ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان کو دشمن کی تعداد اور طاقت سے باخبر کیا اور متفقہ مشورہ دیا کہ اب کسی بہانے جنگ کو ٹال دیں پھر دیکھ لیں گے۔ سلطان نے تفصیلات معلوم کیں، اپنے بند خیمے کے ایک پردے کو تلوار سے چیر کر باہر دیکھا تو تاحد نظر دشمن کی بھاری تعداد دکھائی دی ان کے لہراتے ہوئے نیزے اور تلواریں دیکھیں اور یہ سب دیکھ کر بجائے مرعوب ہونے کے سپہ سالار ایوبی بہت خوش ہوئے۔
انھوں نے ساتھی جرنیلوں کو بلایا اور ان کو بھی اپنے خیمے سے یہ نقشہ دکھایا اور یہ غیر معمولی تاریخ جملہ کہا کہ دیکھو میرے دوستو دشمن اتنی بڑی تعداد میں پھر کبھی ایک میدان میں ایک ساتھ جمع نہیں ہوگا۔ آج میں اس کو جانے نہیں دوں گا، ہمیشہ کے لیے ختم کر دوں گا۔ چنانچہ عکہ کے اس میدان میں جنگ ہوئی یورپ کی سپاہ میدان جنگ میں کاٹ دی گئی یا بھاگ گئی اور سلطان صلاح الدین ایوبی کو دشمن پر حتمی فتح حاصل ہوگئی، بیت المقدس آزاد ہو گیا۔ فلسطین مسلمانوں کا ملک بن گیا۔
سلطان اپنی زندگی کی سب سے بڑی دشمن فوج کو ختم کرنے کے اعزاز سے متصف ہو گیا۔ تاریخ کا ہیرو بن گیا۔ اس فاتح کے نام کی عظمت زندہ ہے اور زندہ رہے گی لیکن تاریخ نے ایک منظر تو وہ دیکھا جو سلطان صلاح الدین نے اسے دکھایا تھا اور یہی تاریخ اسی فلسطین اور اس وقت کے دشمن کے مقابلے میں کہیں زیادہ فوج کو آج دیکھ رہی ہے جو میدان جنگ سے بہت دور زندگی کے مزے لوٹ رہی ہے۔ کسی سلطان کی طرح میدان جنگ کے خیمے میں نہیں میدان شرمندگی اور بزدلی کے کسی محل میں محو استراحت ہے، اور رسوا ہے۔
مشرق کی سرزمینوں پر ہندو طاقت پکڑ رہا ہے اور مغرب کی طرف بڑھنے کے منصوبے بنا رہا ہے جس طرف پاکستان سے لے کر سعودی عرب تک موجود ہیں۔ دوسری طرف مغرب میں یہودی ایسے ہی منصوبوں پر عمل پیرا ہے اور آگے بڑھنے کی خواہش پال رہا ہے۔ دنیا میں اسرائیل وہ واحد ملک ہے جس کی کوئی سرحد نہیں ہے کوئی انٹرنیشنل بائونڈری نہیں ہے کیونکہ اس نے اپنی سرحدوں کو پھیلانا ہے اور پھیلانا جلد چاہ رہا ہے۔ دنیا کی طاقتیں اس کے ساتھ ہیں اور اس کے ہر ستم پر چپ ہیں۔
ویسے چپ تو اسرائیل کے ہم دشمن بھی ہیں اور اسرائیل کو کسی طرف سے کوئی جنگی خطرہ نہیں ہے جب کہ اس کا ہر پڑوسی اس کی طرف سے جنگی خطرے میں ہے بلکہ خطرہ بھگت رہا ہے۔ فلسطین کے ایک مسلمان خاندان نے اپنے گھر والوں کو دو حصوں میں بانٹ کر مختلف مقامات پر بھیج دیا ہے کہ کوئی تو زندہ بچ جائے گا۔ کیا ہمیں سلطان ایوبی کا نام لینے اور لکھنے کا حق حاصل ہے۔ ہم مسلمانوں کے ارب اور کھرب پتی حکمران جن کی دولت مغربی دنیا کے بینکوں میں محفوظ کر دی گئی ہے اور جن کے بارے میں خبریں یہانتک بھی ہیں کہ انھوں نے اسرائیل کو اپنی طرف سے امن کا پیغام دے رکھا ہے اور ایسا کوئی پیغام نہ بھی ہو کیا فرق پڑ سکتا ہے کیونکہ ہم سب ناخوش ہیں اور چپ چاپ مسلمانوں کا بہتا ہوا لہو دیکھ رہے ہیں۔
یہ منظر دیکھ کر عکہ کا میدان یاد آتا ہے جہاں تاریخ نے اس کے بالکل الٹ تماشا دکھایا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ برسوں تک اس میدان سے انسانوں کی ہڈیاں دیکھی جاتی رہیں۔ تاریخ یہاں کام آنے والے انسانوں کی غیر معمولی تعداد کا اندازہ نہیں لگا سکی۔ یہی تاریخ آج ہمارے سامنے جو تماشا دکھا رہی ہے یہ بھی کسی شاندار ماضی رکھنے والی قوم کا عبرت کدہ ہے۔
محترم شیخ ریاض صاحب کے خاندان نے ایک افطاری دی جو سیاسی بن گئی اس کا ذکر کرنا تھا لیکن فلسطین سے آنے والی خبروں نے اسے ایک دن کے لیے ملتوی کر دیا۔