توہین رسالت کو عالمی سطح پر جرم قرار دینے کیلئے رابطے شروع کردیے راجا پرویز

آتشزدگی سے ہلاکتوں پر 5،5لاکھ مزید دینے اور سیلاب زدگان کیلیے 10 کروڑکی فوری امداد کا اعلان، کراچی اور روجھان میں خطاب

کراچی: وزیر اعظم راجا پرویز اشرف سانحہ بلدیہ میں جاںبحق افرادکے لواحقین میں امدادتقسیم کرنے کی تقریب میں ایک خاتون کو چیک دے رہے ہیں ، گورنر عشرت العباد اور وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ بھی موجود ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس

وزیراعظم راجا پرویز اشرف نے کہا ہے کہ عوام نے احتجاج ریکارڈ کرادیا اب حکومت سفارتی سطح پر احتجاج کررہی ہے۔

ایسی حکمت عملی اپنا رہے ہیں کہ توہین رسالتؐ کو عالمی سطح پر جرم قرار دے دیا جائے۔ وزیراعلیٰ ہاؤس کراچی میں سانحہ بلدیہ کے متاثرین میں امدادی چیکس تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے مزید کہا کہ توہین آمیز گستاخانہ فلم سے پوری دنیا کے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ ہماری حکومت نے ملک میں پہلی مرتبہ اس معاملے کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کیلیےیوم عشق رسولؐ منایا۔ عام تعطیل کا اعلان کیا گیا۔ اس تعطیل کا مقصد یہ تھا کہ ہم پر امن طریقے سے اپنے احتجاج کو عالمی سطح پر ریکارڈ کراسکیں۔ انھوں نے کہا کہ یوم عشق رسولؐ کے موقع پر کچھ عناصر نے پرامن احتجاج کو سبوتاژ کیا اور اس احتجاج کے دوران متعدد افراد جاں بحق ہوئے جس کا ہمیں دکھ ہے۔


انھوں نے کہا کہ شرپسند عناصر نے احتجاج کے دوران اپنے ہی لوگوں کی املاک جلائیں ۔ یہ احتجاج کا کون سا طریقہ ہے کہ ہم اپنے بھائیوں کو ماریں، گاڑیوں، بینکوں، سنیما گھروں اور دیگر املاک کو نذر آتش کریں اور اپنے ہی ملک کا نقصان کریں۔ اس احتجاج کے دوران پرتشدد واقعات سے عالمی سطح پر اچھا تاثر نہیں گیا۔ انھوں نے کہا کہ یوم عشق رسولؐ کے موقع پر پر تشدد واقعات کا مقصد عالمی سطح پر ہمارے پیغام کو سبوتاژ کرنے کی کوشش تھی۔ اپنے ہی ملک کے لوگوں کو مارنا اور املاک جلانا عشق رسولؐ نہیں۔ انھوں نے کہا کہ عوام نے احتجاج ریکارڈ کرادیا ہے۔ روز روز احتجاج کرکے ہم ملک کے معیشت سے منسلک اداروں کو بند نہیں کرسکتے ۔

انھوں نے کہا کہ عوام کے احتجاج کے بعد اب سفارتی سطح پر اس معاملے پر احتجاج حکومت نے شروع کردیا ہے۔ ہم اقوام متحدہ ، امریکی حکومت ، اسلامی سربراہی تنظیم ، تمام مسلم اور دیگر ممالک سے رابطے میں ہیں اور ایسی حکمت عملی مرتب کر رہے ہیں کہ توہین رسالتؐ کرنا عالمی سطح پر جرم قرار دے دیا جائے ۔ انھوں نے کہا کہ اقوام متحدہ انبیاء کرام کی گستاخی کو روکنے کے لیے فوری قانون سازی کرے اور اس قانون کو پاس کرانے کیلیے حکومت پاکستان تمام ممالک سے رابطے میں ہے۔ انھوں نے کہا کہ پرامن احتجاج عوام کا حق ہے لیکن احتجاج کے دوران اپنے ملک کی املاک کو نقصان پہنچانا ٹھیک نہیں۔


انھوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اس حوالے سے آواز اٹھائیں گے۔ اس موقع پر وزیراعظم نے اعلان کیا کہ وزارت محنت کی جانب سے کراچی اور لاہور میں آتشزدگی کے واقعات میں جاں بحق ہونے والے افراد کے اہل خانہ کو مزید 5,5 لاکھ روپے فی کس دیے جائیں گے جبکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے تمام صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں میں وفاقی حکومت کی جانب سے 4,4 لاکھ ، سندھ حکومت کی جانب سے تین ، تین لاکھ اور فریال تالپور کی جانب سے دو ، دو لاکھ روپے فی کس دیے جا رہے ہیں۔ وزارت محنت اپنی جانب سے کراچی اور لاہور میں آتشزدگی کے واقعات میں جاں بحق افراد کو فی کس 5,5 لاکھ روپے ادا کرے گی۔ ان واقعات میں جو ورکرز جاں بحق ہوئے ہیں، وہ رجسٹرڈ ہوں یا نہ ہوں ان کے اہل خانہ کو یہ امدادی رقم دی جائے گی۔

بعدازاں وزیراعظم نے متاثرہ خاندانوں کے اہل خانہ میں وفاقی حکومت کی جانب سے 4 ، 4 لاکھ روپے جبکہ وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے سندھ حکومت کی جانب سے 3 , 3 لاکھ روپے کے امدادی چیک تقسیم کیے۔ مجموعی طور پر 204 جاں بحق افراد کے لواحقین میں چیک تقسیم کیے گئے اس کے علاوہ سانحہ بلدیہ کے 7 زخمیوں میں وفاقی حکومت کی جانب سے ایک ایک لاکھ روپے جبکہ صوبائی حکومت کی جانب سے پچاس پچاس ہزار روپے کے چیک بھی تقسیم کیے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں گورنر ہاؤس میں اعلیٰ سطح کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے سندھ حکومت کو ہدایت کی کہ وہ امن و امان کے قیام کیلیے مزید اقدام کرے اورجرائم پیشہ عناصر کیخلاف بلاتفریق کارروائی کی جائے۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ نے وزیراعظم کو صوبے میں بارش سے ہونے والے نقصانات اور امدادی کارروائیوں پر بریفنگ دی۔ وزیراعظم نے متاثرین کی بحالی کی ہدایت کی۔

علاوہ ازیں وزیراعظم نے ضلع راجن پور کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں روجھان اور قصبہ لعل گڑھ کا دورہ کیا اور صورتحال کا فضائی معائنہ کیا۔ قصبہ لعل گڑھ میں ایم پی اے اطہر حسن گورچانی کی رہائش گاہ پر سیلاب متاثرین کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے متاثرین کے لیے 10 کروڑ امداد' 50 ہزار خیمے' وطن کارڈ اور سیلاب میں جاں بحق ہونے والوں کے ورثاء کو 4 لاکھ روپے فی کس دینے کا اعلان کیا۔ انھوں نے کہا کہ ضلع راجن پور کو سیلاب سے مستقل محفوظ رکھنے کے لیے رود کوہی کاہا اور چھاچھڑ پر ڈرین بنائیں گے۔ اس موقع پر میر بلخ شیر مزاری' گورنر پنجاب لطیف کھوسہ' وفاقی وزراء فردوس عاشق اعوان' دوست محمد مزاری' مخدوم شہاب الدین' ڈاکٹر حفیظ شیخ بھی موجود تھے۔

وزیراعظم بذریعہ ہیلی کاپٹر سابق نگران وزیراعظم میر بلخ شیر مزاری کے ہمراہ روجھان ڈگری کالج پہنچے، وزیراعظم کو دوست محمد مزاری اور ڈی سی او راجن پور غازی امان اللہ نے سیلاب بارے بریفنگ دی بعد ازاں وزیراعظم نے اجتماع سے خطاب کیا اور کہا کہ پنجاب حکومت سیلاب میں بہت اچھا کام کرتی رہی ہے۔ وفاق بھی امداد میں پیش پیش رہا ہے۔ قبل ازیں اسلام آباد میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کے منصوبوں کا جائزہ لینے کیلیے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں انھوں نے ہدایت کی کہ بلوچستان میں مواصلات کے منصوبوں کو ترجیح دی جائے۔

Recommended Stories

Load Next Story