غزہ میں قیامت صغریٰ

غزہ پر 14ویں روز بھی اسرائیلی حملے جاری رہے، اس دوران بمباری سے مزید127 فلسطینی شہید ہوگئے

عالم اسلام اور دنیائے عرب کے رہنما بھی فلسطینیوں کی نسل کشی کے خلاف کسی قسم کے اجتماعی لائحہ عمل کی تیاری سے بے بس نظر آتے ہیں. فوٹو: فائل

ISLAMABAD:
غزہ پر 14ویں روز بھی اسرائیلی حملے جاری رہے، اس دوران بمباری سے مزید127 فلسطینی شہید ہوگئے جب کہ حماس کے حملوں میں مزید7 اسرائیلی فوجی مارے گئے، دوسری جانب سلامتی کونسل نے ہنگامی اجلاس میں مذمتی قرارداد منظور کرنے کے بجائے محض جنگ بندی کا مطالبہ کردیا۔ غزہ میں اسرائیلی بربریت اور بہیمانہ ظلم وستم نے عالمی طاقتوں کی مصلحت کوشی اور اسرائیل نوازی کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے ، ادھر عالم اسلام اور دنیائے عرب کے رہنما بھی فلسطینیوں کی نسل کشی کے خلاف کسی قسم کے اجتماعی لائحہ عمل کی تیاری سے بے بس نظر آتے ہیں۔

یوں فلسطین کو جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات کی شکل میں اسرائیل اس رعونت کے ساتھ دے رہا ہے کہ عالم اسلام کے پاس اس کا کوئی ٹھوس دفاعی پروگرام مفقود ہے ۔ واشنگٹن پوسٹ میں تجزیہ نگار رچرڈ کوہن نے اپنے مضمون مں لکھا ہے کہ جو مسلم ممالک اسرائیل کو سمندر برد کرنے کے دعوے کرتے تھے وہ آج اسرائیل اور خود اپنے مذہبی انتہا پسندوں کے نرغے میں ہیں ، جب کہ یہ جنگ اسرائیل کی بقا کے لیے ناگزیر ہے۔ کتنی درد انگیز بات ہے کہ ایک آزاد و محفوظ قومی ریاست کے منتظر فلسطینی اپنی دھرتی پر بے موت مارے جارہے ہیں اور ان کے درمیان کوئی شعلہ نوا یاسر عرفات نہیں۔


اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے بڑھک ماری ہے کہ اسرائیل کو غزہ سے آنے والے راکٹوں کے جواب میں اپنے دفاع کا حق حاصل ہے اوراس کو بہت مضبوط بین الاقوامی حمایت حاصل ہے، جب کہ فلسطینی مندوب ریاض منصور نے اسرائیلی جارحیت رکوانے اور فلسطینیوں کو تحفظ فراہم کرنے کی قرارداد منظور نہ کیے جانے پر شدید مایوسی کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل کی طرف سے جاری بیان اسرائیلی آپریشن رکوانے کے حوالہ سے خود کونسل کے لیے آزمائش ہے۔ مزید برآں امریکی صدر بارک اوباما نے ہلاکتوں میں اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔

پاکستان میں فلسطین کے سفیر ولید ابوعلی نے اسلامی دنیا کے 57ممالک ، اقوام متحدہ، او آئی سی اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ میں نہتے فلسطینی عوام پر اسرائیلی فوجوں کی وحشیانہ کارروائیوں کا فوری نوٹس لیتے ہوئے صورتحال کی بہتری کے لیے اپنا کردار اداکریں ۔وقت آ گیا ہے کہ عالمی طاقتیں جنگ بندی میں تاخیر نہ کریں،اس لڑائی میں معصوم فلسطینی بچوں کا بہیمانہ قتل اس جنگ کی بھاری قیمت ہے ۔عالمی طاقتوں کو اسرائیلی بربریت کی کھل کر مذمت کرنی چاہیے ۔
Load Next Story