4افراد قتل کیس ذوالعرش کا بیان قلمبند چچا کے ہمراہ جانے کی اجازت
لڑکی نے عدالت کو بتایا کہ فائرنگ کی آواز سن کر اس کی آنکھ کھلی تو اس کے سامنے بہن عریشہ کی لاش۔
لڑکی نے عدالت کو بتایا کہ فائرنگ کی آواز سن کر اس کی آنکھ کھلی تو اس کے سامنے بہن عریشہ کی لاش۔
سول جج وجوڈیشل مجسٹریٹ نمبر 10کی عدالت نے اکلوتے بیٹے کی جانب سے ماں باپ
2 بہنوں کو قتل کرنے کے واقعے کی واحد گواہ 14 سالہ بہن ظل شاہ عرف ذوالعرش کا بیان قلمبند کرنے کے بعد اسے اس کی خواہش پر چچا عبدالجبار یوسف زئی کے حوالے کردیا۔
مارکیٹ پولیس نے ظل شاہ کو بیان قلمبند کرانے کے لیے فاضل عدالت میں پیش کیا۔ لڑکی نے عدالت کو بتایا کہ فائرنگ کی آواز سن کر اس کی آنکھ کھلی تو اس کے سامنے بہن عریشہ کی لاش۔
جبکہ ورشا زخمی حالت میں پڑی تھی، ملزم بھائی شاہ رخ نے کہا کہ ورشا کو اسپتال لے جانا ہے، جب میں نے امی اور ابو کا پوچھا تو اس نے کہا کہ انہیں بھی قتل کر دیا ہے، اس نے مجھے بھی مارنے کی کوشش کی اور ناکامی پر خاموش رہنے کی تلقین کی ۔
2 بہنوں کو قتل کرنے کے واقعے کی واحد گواہ 14 سالہ بہن ظل شاہ عرف ذوالعرش کا بیان قلمبند کرنے کے بعد اسے اس کی خواہش پر چچا عبدالجبار یوسف زئی کے حوالے کردیا۔
مارکیٹ پولیس نے ظل شاہ کو بیان قلمبند کرانے کے لیے فاضل عدالت میں پیش کیا۔ لڑکی نے عدالت کو بتایا کہ فائرنگ کی آواز سن کر اس کی آنکھ کھلی تو اس کے سامنے بہن عریشہ کی لاش۔
جبکہ ورشا زخمی حالت میں پڑی تھی، ملزم بھائی شاہ رخ نے کہا کہ ورشا کو اسپتال لے جانا ہے، جب میں نے امی اور ابو کا پوچھا تو اس نے کہا کہ انہیں بھی قتل کر دیا ہے، اس نے مجھے بھی مارنے کی کوشش کی اور ناکامی پر خاموش رہنے کی تلقین کی ۔