شہر میں پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ بڑھ گئی

کراچی آپریشن کے دوران پولیس کے 150 سے زائد افسران اوراہلکار شہید ہوگئے

دہشت گردوں نے ڈیوٹی سے واپس جانے والے سادہ لباس اہلکاروں کوزیادہ نشانہ بنایا۔ فوٹو: فائل

شہر میں پولیس اہلکاروں کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ ہوگیا ہے۔


کئی واقعات میں فائرنگ کے علاوہ پولیس اہلکاروں کو بم دھماکوں کے ذریعے بھی نشانہ بنایا گیا جن میں ایس پی چوہدری اسلم ، انسپکٹر شفیق تنولی اور رزاق آباد ٹریننگ سینٹر کی کمانڈوز کی بس شامل تھی،ملک کے معاشی حب کراچی میں گزشتہ سال 5 ستمبر سے ٹارگٹ کلرز بھتہ خوروں اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن شروع کیا گیا، کراچی آپریشن کے دوران پولیس کی اعلیٰ قیادت اور دیگر سینئر افسران کی اکھاڑ پچھاڑ بھی کی گئی جس کا مقصد جرائم پیشہ افراد کی بیخ کنی اور ان کے خلاف بلاامتیاز کارروائی بتائی گئی۔

آپریشن کے دوران جہاں ایک جانب پولیس نے ہزاروں ملزمان کی گرفتاری کے دعوے کیے اور پولیس مقابلوں میں سیکڑوں اغوا کار بھتہ خور، ٹارگٹ کلرز اور دہشت گرد ہلاک کیے گئے تو وہیں دوسری جانب دہشت گردوں کے حملوں اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں پولیس کے150 سے زائد افسران و اہلکار جام شہادت نوش کرگئے، دہشت گردوں نے سب سے زیادہ ڈیوٹی ختم کرکے گھروں کو واپس جانے والے سادہ لباس اہلکاروں کو فائرنگ کا نشانہ بنایا اور اس قسم کے واقعات میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہوگیا ہے۔
Load Next Story