مزاحمت کو دم توڑنا ہی تھا
شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ضرب عضب کے حوالے سے خوش آیند پیش رفت کی اطلاعات مل رہی ہیں
میرعلی میں دہشت گردوں کی نصب کی گئی درجنوں بارودی سرنگیں ناکارہ بنائی جا چکی ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل
KARACHI:
شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ضرب عضب کے حوالے سے خوش آیند پیش رفت کی اطلاعات مل رہی ہیں جس میں بتایا جارہا ہے کہ آپریشن کے دوران پاک فوج کے سامنے دہشت گردوں کی مزاحمت دم توڑنے لگی ہے۔ فوج نے تحصیل میرعلی کا بڑا حصہ کلیئر کرا لیا ہے جب کہ خود ساختہ ہتھیاروں(آئی ای ڈیز ) کی فیکٹری بھی تباہ کردی گئی ۔ میرعلی میں دہشت گردوں کی نصب کی گئی درجنوں بارودی سرنگیں ناکارہ بنائی جا چکی ہیں۔
پاک فوج کی طرف سے علاقے سے دہشت گردوں کا مکمل صفایا کرنے کا اعلان چند دنوں میں متوقع ہے۔ دوسری طرف غیرملکی دہشت گردوں کے مرکز بنے قصبوں بویا اور دیگان کا کنٹرول مستحکم کیا جا رہا ہے ۔ سیکیورٹی ذرایع کے مطابق وادی شوال اور دتہ خیل بھی دہشت گردوں کے اہم ٹھکانے ہیں جہاں زمینی کارروائی کے ذریعے مکمل کنٹرول حاصل کرنا پاک فوج کا اگلاہدف ہے ۔ آپریشن میں اب تک 531دہشت گرد مارے اور ان کے تقریباً سو ٹھکانے تباہ کیے جا چکے ہیں۔
منگل کو پی آئی ڈی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے ریاستی و سرحدی امور (سیفران) لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ نے بعض اہم حقائق بیان کیے ، ان کا کہنا ہے کہ آپریشن میں کامیابی ہی واحد آپشن ہے' اس کے خاتمہ کا ٹائم فریم نہیں دیا جاسکتا، قوم متاثرین کی ناراضگی کی متحمل نہیں ہوسکتی ' متاثرین کی پر امن واپسی اور آبادکاری چیلنج ہے ' شمالی وزیرستان کے بعد کراچی' لاہور اور اسلام آباد سمیت جہاں پر دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاعات ہوں گی ٹارگٹڈ آپریشن کیے جائیں گے۔
ان کا کہنا ہے کہ ملا فضل اللہ کے حامی افغانستان میں آپریشن سے توجہ ہٹانے کے لیے شرارت کرسکتے ہیں جس سے نمٹنے کے لیے افواج پاکستان مکمل طور پر تیار ہیں ۔ اس آپریشن کے نتائج و مضمرات کے حوالے سے ان کا یہ استدلال قابل غور ہے کہ شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن 65 اور 71ء کی جنگوں سے زیادہ ''بڑا'' اور ''خطرناک'' ہے لیکن بدقسمتی سے ہم من حیث القوم عوام کو آئی ڈی پیز کی امداد کے لیے متحرک نہیں کرسکے، دہشتگردوں کے ٹھکانے تباہ کرنا کوئی مسئلہ نہیں ٗ آئی ڈی پیز کا ناراض ہونا بہت بڑا مسئلہ ہوگا ۔ اس ایک فقرہ میں معنی کا سمندر چھپا ہوا ہے ۔وہ کہتے ہیں دس لاکھ سے زائد متاثرین کا اندراج کیا جا چکا ہے جب کہ سابقہ اور موجودہ متاثرین کی کل تعداد 22 لاکھ سے تجاوز کرسکتی ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ داخلی استحکام کے لیے دہشت گردی کی بیخ کنی ناگزیر ہے۔ طالبان نے پاکستان پر ایک علانیہ جنگ مسلط کی ، ریاستی رٹ کو چیلنج کیا، ضرورت گربہ کشتن روز اول والے فارمولے کی تھی مگر تاخیر نے قوم کو بہت برے دن دکھائے، کوئی شہر ایسا نہیں تھا جہاں دہشت گردی کی واردات نہ ہوئی ہو ۔ دہشت گردی سے ملکی معیشت کو اربوں روپے کے شدید نقصانات کا سامنا کرنا پڑا، جب کہ وطن عزیز پہلے ہی نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصروف تھا، یوں ملک کو ناقابل تلافی صدمات اٹھانے پڑے اور ہزاروں بیگناہ انسانوں کو دہشت گردی کی بھینٹ چڑھایا گیا۔
خدا کا شکر ہے کہ موجودہ حکومت اور عسکری قیادت نے مل کر اس عفریت کا مقابلہ کرنے کی ٹھان لی جس کے مثبت نتائج اب سب کے سامنے آرہے ہیں ۔ مگر ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں ۔اس آپریشن کے ذریعے ملک گیر بدامنی اور معاشی نْقصانات کی تلافی صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ دہشت گردی کا مکمل خاتمہ قومی حمایت اور سیاسی و عسکری اتفاق رائے اور اتحاد سے کیا جائے ۔داخلی امن بلا روک ٹوک سیاسی عمل اور امن عامہ سے مشروط ہے۔ یہ وقت ہنگامہ آرائی کا نہیں ۔ تاہم یہ امر خوش آیند ہے کہ آپریشن صحیح سمت کامیابی سے جاری ہے۔
دریں اثناء پاک فوج کی انجینئرنگ ڈویژن کے جی او سی میجر جنرل اختر جمیل راؤ نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے بہت جلد پورے شمالی وزیرستان کو دہشت گردوں سے پاک کردیا جائیگا، لاکھوں متاثرین جب باعزت طریقے سے واپس جائیں گے تو ایک جدید اور پرامن وزیرستان پائیں گے۔ آئی ڈی پیز بچوں کے لیے اسکول قائم کیے جا رہے ہیں، راشن کی تقسیم کا پہلا مرحلہ مکمل ہوچکا ہے۔ آئی ڈی پیز میں اب تک 1297 ملین مالیتی 12608ٹن راشن تقسیم کیا جا چکا ہے۔ 12311مرد 8849 خواتین اور 5771 بچوں کا مفت علاج کیا گیا ، 70ہزار بڑے جانوروں اور 80ہزار چھوٹے جانوروں کے لیے چارا اور علاج کے لیے مناسب انتظامات کیے گئے ہیں۔
متاثرین کی عید کو شاندار طریقے سے منانے کے لیے اعلیٰ سول و فوجی قیادت بنوں آکر ان کے ساتھ عید منائیں گے ۔دوسری طرف آئی ڈی پیز کی مختلف شہروں میں آباد کاری اور پھر گھروں کو واپسی جلد ممکن بنانا بھی ضروری ہے ۔ بے گھر ہونے والے دہشتگردی کے بلاواسطہ ستم رسیدہ خاندان ہیں، اور رحم و امداد کے لائق ہیں۔ تاہم ان کی آباد کاری میں مضمر خطرات کا ادراک بھی ضروری ہے، ان کی آڑ میں سماج دشمن عناصر اور انتہا پسند کچھ بھی واردات کرسکتے ہیں۔
چنانچہ انچارج ڈی آئی جی لاڑکانہ جاوید عالم اوڈھو اور ایس ایس پی توقیر نعیم نے ڈی آئی جی آفس میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صحافیوں کو بتایا کہ آپریشن ضرب عضب کی شروعات کے بعد متاثرین کی سندھ میں آمد کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے جن کے لیے اپر سندھ میں 5چیک پوسٹیں قائم کی گئی ہیں جب کہ سندھ میں کموں شہید ،جیکب آباد اور کشمور کے علاقوں میں بھی چیک پوسٹس قائم کر کے متاثرین کی مکمل چھان بین کے بعد انھیں سندھ میں داخل کیا جارہا ہے، تاہم پولیس نے چیکنگ کے دوران 18 مطلوب دہشت گرد جن میں سے متعدد کا تعلق تحریک طالبان پاکستان سے ہے گرفتار کرلیا ہے جب کہ 6 افغانیوں کو بھی آپریشن متاثرین کے روپ میں سندھ میں داخل ہوتے ہوئے گرفتار کیا گیا ہے۔
ادھر اسلام آباد پولیس کی اسپیشل برانچ نے شمالی وزیرستان سے آنیوالے آئی ڈی پیز کا ابتدائی سروے مکمل کر لیا جسکے مطابق 164خاندانوں کے 895 افراد نے اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں رہائش اختیار کی ہے، سروے رپورٹس وزیر داخلہ اور آئی جی کو ارسال کر دی گئی ہیں ، سیکیورٹی فورسزنے غنڈی سرچ آپریشن اورکرفیو کے دوران گرفتار ہونیوالے صحافی سمیت تمام افراد رہا کر دیے۔
باجوڑ ایجنسی کے سلار زئی قبائل نے پاک افغان سرحد سے متصلہ علاقوں میں افغانستان کے اُس پار سے دہشت گردوں کی دخل اندازی روکنے کے لیے ہزاروں افراد پر مشتمل گرینڈ قومی لشکر تشکیل دینے اور اپنے اپنے علاقوں کی سطح پر امن کمیٹیاں مزید فعال بنانے کا اعلان کیا ہے ۔ادھر افغانستان اور پاکستان کے لیے امریکا کے خصوصی نمایندے جیمزڈوبنز نے کہا ہے کہ پاکستانی قیادت نے یقین دلایا ہے کہ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن سے حقانی نیٹ ورک بکھر چکا ہے اوراب یہ خطرہ نہیں رہا ۔یہ اعلان معتبر ذرایع 'فرام ہارسز مائوتھ' کی طرف سے ہے ، لہٰذا آپریشن ضرب عضب بلا امتیاز جاری رہیگا ۔
شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ضرب عضب کے حوالے سے خوش آیند پیش رفت کی اطلاعات مل رہی ہیں جس میں بتایا جارہا ہے کہ آپریشن کے دوران پاک فوج کے سامنے دہشت گردوں کی مزاحمت دم توڑنے لگی ہے۔ فوج نے تحصیل میرعلی کا بڑا حصہ کلیئر کرا لیا ہے جب کہ خود ساختہ ہتھیاروں(آئی ای ڈیز ) کی فیکٹری بھی تباہ کردی گئی ۔ میرعلی میں دہشت گردوں کی نصب کی گئی درجنوں بارودی سرنگیں ناکارہ بنائی جا چکی ہیں۔
پاک فوج کی طرف سے علاقے سے دہشت گردوں کا مکمل صفایا کرنے کا اعلان چند دنوں میں متوقع ہے۔ دوسری طرف غیرملکی دہشت گردوں کے مرکز بنے قصبوں بویا اور دیگان کا کنٹرول مستحکم کیا جا رہا ہے ۔ سیکیورٹی ذرایع کے مطابق وادی شوال اور دتہ خیل بھی دہشت گردوں کے اہم ٹھکانے ہیں جہاں زمینی کارروائی کے ذریعے مکمل کنٹرول حاصل کرنا پاک فوج کا اگلاہدف ہے ۔ آپریشن میں اب تک 531دہشت گرد مارے اور ان کے تقریباً سو ٹھکانے تباہ کیے جا چکے ہیں۔
منگل کو پی آئی ڈی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے ریاستی و سرحدی امور (سیفران) لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ نے بعض اہم حقائق بیان کیے ، ان کا کہنا ہے کہ آپریشن میں کامیابی ہی واحد آپشن ہے' اس کے خاتمہ کا ٹائم فریم نہیں دیا جاسکتا، قوم متاثرین کی ناراضگی کی متحمل نہیں ہوسکتی ' متاثرین کی پر امن واپسی اور آبادکاری چیلنج ہے ' شمالی وزیرستان کے بعد کراچی' لاہور اور اسلام آباد سمیت جہاں پر دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاعات ہوں گی ٹارگٹڈ آپریشن کیے جائیں گے۔
ان کا کہنا ہے کہ ملا فضل اللہ کے حامی افغانستان میں آپریشن سے توجہ ہٹانے کے لیے شرارت کرسکتے ہیں جس سے نمٹنے کے لیے افواج پاکستان مکمل طور پر تیار ہیں ۔ اس آپریشن کے نتائج و مضمرات کے حوالے سے ان کا یہ استدلال قابل غور ہے کہ شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن 65 اور 71ء کی جنگوں سے زیادہ ''بڑا'' اور ''خطرناک'' ہے لیکن بدقسمتی سے ہم من حیث القوم عوام کو آئی ڈی پیز کی امداد کے لیے متحرک نہیں کرسکے، دہشتگردوں کے ٹھکانے تباہ کرنا کوئی مسئلہ نہیں ٗ آئی ڈی پیز کا ناراض ہونا بہت بڑا مسئلہ ہوگا ۔ اس ایک فقرہ میں معنی کا سمندر چھپا ہوا ہے ۔وہ کہتے ہیں دس لاکھ سے زائد متاثرین کا اندراج کیا جا چکا ہے جب کہ سابقہ اور موجودہ متاثرین کی کل تعداد 22 لاکھ سے تجاوز کرسکتی ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ داخلی استحکام کے لیے دہشت گردی کی بیخ کنی ناگزیر ہے۔ طالبان نے پاکستان پر ایک علانیہ جنگ مسلط کی ، ریاستی رٹ کو چیلنج کیا، ضرورت گربہ کشتن روز اول والے فارمولے کی تھی مگر تاخیر نے قوم کو بہت برے دن دکھائے، کوئی شہر ایسا نہیں تھا جہاں دہشت گردی کی واردات نہ ہوئی ہو ۔ دہشت گردی سے ملکی معیشت کو اربوں روپے کے شدید نقصانات کا سامنا کرنا پڑا، جب کہ وطن عزیز پہلے ہی نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصروف تھا، یوں ملک کو ناقابل تلافی صدمات اٹھانے پڑے اور ہزاروں بیگناہ انسانوں کو دہشت گردی کی بھینٹ چڑھایا گیا۔
خدا کا شکر ہے کہ موجودہ حکومت اور عسکری قیادت نے مل کر اس عفریت کا مقابلہ کرنے کی ٹھان لی جس کے مثبت نتائج اب سب کے سامنے آرہے ہیں ۔ مگر ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں ۔اس آپریشن کے ذریعے ملک گیر بدامنی اور معاشی نْقصانات کی تلافی صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ دہشت گردی کا مکمل خاتمہ قومی حمایت اور سیاسی و عسکری اتفاق رائے اور اتحاد سے کیا جائے ۔داخلی امن بلا روک ٹوک سیاسی عمل اور امن عامہ سے مشروط ہے۔ یہ وقت ہنگامہ آرائی کا نہیں ۔ تاہم یہ امر خوش آیند ہے کہ آپریشن صحیح سمت کامیابی سے جاری ہے۔
دریں اثناء پاک فوج کی انجینئرنگ ڈویژن کے جی او سی میجر جنرل اختر جمیل راؤ نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے بہت جلد پورے شمالی وزیرستان کو دہشت گردوں سے پاک کردیا جائیگا، لاکھوں متاثرین جب باعزت طریقے سے واپس جائیں گے تو ایک جدید اور پرامن وزیرستان پائیں گے۔ آئی ڈی پیز بچوں کے لیے اسکول قائم کیے جا رہے ہیں، راشن کی تقسیم کا پہلا مرحلہ مکمل ہوچکا ہے۔ آئی ڈی پیز میں اب تک 1297 ملین مالیتی 12608ٹن راشن تقسیم کیا جا چکا ہے۔ 12311مرد 8849 خواتین اور 5771 بچوں کا مفت علاج کیا گیا ، 70ہزار بڑے جانوروں اور 80ہزار چھوٹے جانوروں کے لیے چارا اور علاج کے لیے مناسب انتظامات کیے گئے ہیں۔
متاثرین کی عید کو شاندار طریقے سے منانے کے لیے اعلیٰ سول و فوجی قیادت بنوں آکر ان کے ساتھ عید منائیں گے ۔دوسری طرف آئی ڈی پیز کی مختلف شہروں میں آباد کاری اور پھر گھروں کو واپسی جلد ممکن بنانا بھی ضروری ہے ۔ بے گھر ہونے والے دہشتگردی کے بلاواسطہ ستم رسیدہ خاندان ہیں، اور رحم و امداد کے لائق ہیں۔ تاہم ان کی آباد کاری میں مضمر خطرات کا ادراک بھی ضروری ہے، ان کی آڑ میں سماج دشمن عناصر اور انتہا پسند کچھ بھی واردات کرسکتے ہیں۔
چنانچہ انچارج ڈی آئی جی لاڑکانہ جاوید عالم اوڈھو اور ایس ایس پی توقیر نعیم نے ڈی آئی جی آفس میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صحافیوں کو بتایا کہ آپریشن ضرب عضب کی شروعات کے بعد متاثرین کی سندھ میں آمد کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے جن کے لیے اپر سندھ میں 5چیک پوسٹیں قائم کی گئی ہیں جب کہ سندھ میں کموں شہید ،جیکب آباد اور کشمور کے علاقوں میں بھی چیک پوسٹس قائم کر کے متاثرین کی مکمل چھان بین کے بعد انھیں سندھ میں داخل کیا جارہا ہے، تاہم پولیس نے چیکنگ کے دوران 18 مطلوب دہشت گرد جن میں سے متعدد کا تعلق تحریک طالبان پاکستان سے ہے گرفتار کرلیا ہے جب کہ 6 افغانیوں کو بھی آپریشن متاثرین کے روپ میں سندھ میں داخل ہوتے ہوئے گرفتار کیا گیا ہے۔
ادھر اسلام آباد پولیس کی اسپیشل برانچ نے شمالی وزیرستان سے آنیوالے آئی ڈی پیز کا ابتدائی سروے مکمل کر لیا جسکے مطابق 164خاندانوں کے 895 افراد نے اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں رہائش اختیار کی ہے، سروے رپورٹس وزیر داخلہ اور آئی جی کو ارسال کر دی گئی ہیں ، سیکیورٹی فورسزنے غنڈی سرچ آپریشن اورکرفیو کے دوران گرفتار ہونیوالے صحافی سمیت تمام افراد رہا کر دیے۔
باجوڑ ایجنسی کے سلار زئی قبائل نے پاک افغان سرحد سے متصلہ علاقوں میں افغانستان کے اُس پار سے دہشت گردوں کی دخل اندازی روکنے کے لیے ہزاروں افراد پر مشتمل گرینڈ قومی لشکر تشکیل دینے اور اپنے اپنے علاقوں کی سطح پر امن کمیٹیاں مزید فعال بنانے کا اعلان کیا ہے ۔ادھر افغانستان اور پاکستان کے لیے امریکا کے خصوصی نمایندے جیمزڈوبنز نے کہا ہے کہ پاکستانی قیادت نے یقین دلایا ہے کہ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن سے حقانی نیٹ ورک بکھر چکا ہے اوراب یہ خطرہ نہیں رہا ۔یہ اعلان معتبر ذرایع 'فرام ہارسز مائوتھ' کی طرف سے ہے ، لہٰذا آپریشن ضرب عضب بلا امتیاز جاری رہیگا ۔