افغان حکام کی افسوسناک الزام تراشی
دہشت گردی کا شکار ممالک میں خودکش حملوں کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا
افغان حکومت کو بے جا اور غیرسنجیدہ طرز فکر کو ترک کرنا ہوگا بلکہ اس مسئلے پر سر جوڑ کر بیٹھنا ہوگا. فوٹو: فائل
دہشت گردی کا شکار ممالک میں خودکش حملوں کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ، یہ دہشت گردوں کا ایسا حربہ ہے جس پر سیکیورٹی ادارے قابو پانے میں ناکام نظر آتے ہیں ، پاکستان ہو،عراق یا افغانستان ہزارہا افراد ان مذموم خودکش حملوں کی نذر ہوچکے ہیں ، گزشتہ روزکی ایک افسوسناک خبر افغانستان کے حوالے سے ہے ۔ جس کے دارالحکومت کابل میں ایئرپورٹ کے قریب غیرملکی شہریوں کے کمپائونڈ میں ہونے والے خودکش حملے میں5 غیرملکی ہلاک ہوئے تھے۔
اس کا الزام بغیر تحقیقات کے افغان حکومت نے پاکستان پر عائد کرتے ہوئے خودکش حملوں میں آئی ایس آئی کو ملوث قرار دیا ہے۔خودکش حملہ آور ایک موٹرسائیکل پرسوار تھا۔غیرملکی افراد حملے کے وقت کمپائونڈ میں ورزش کرنے میں مصروف تھے ۔ تمام افرادکا تعلق نیپال سے بتایا گیا ہے ۔ طالبان ترجمان نے خودکش حملے کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ حملے میں 15 غیر ملکی افراد مارے گئے ہیں،تاہم اس کی آزادانہ ذرایع سے تصدیق نہیں ہوسکی۔
اسی علاقے میں ایک اور بم دھماکا ہوا، جس میں ایک شہری زخمی ہوا، افغان وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق کابل انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور صوبہ پکتیا میں حالیہ خود کش حملے حقانی نیٹ ورک نے آئی ایس آئی کے تعاون سے کیے ہیں۔حقیقت تو یہ ہے کہ طالبان اور غیرملکی دہشت گردوںکے خلاف پاک فوج اور دیگرسیکیورٹی ادارے اس وقت شمالی وزیرستان میں برسرپیکار ہیں ، افغان انتظامیہ کو اپنی اصل توجہ خطے کی تبدیل ہوتی حرکیات پر مرکوز کرنی چاہیے، کیا پاکستان کو درپیش ناقابل تردید حقائق کی روشنی میں آئی ایس آئی پر بغیر کسی ثبوت کے الزام عائد کرنا افغان حکومت کو زیب دیتا ہے۔
افغانوں پر پاکستانیوں کے بے شمار احسانات ہیں، پاکستان بار بار کہتا رہا ہے کہ پرامن افغانستان ہمارے مفاد میںہے۔ گزشتہ تین دہائیوں سے پاکستان نے دامے ،درمے،قدمے،سخنے اپنے افغان بھائیوں کی ہرممکن مدد کی ہے ، صلہ تو ہمیں بیوفائی اور الزام تراشی کے سوا کیا ملا ہے ، افغانستان کی حکومت کو اپنے طرز فکر پر غورکرنا چاہیے، پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں فرنٹ لائن اسٹیٹ کا کردار ادا کیا ہے، سویلین اور فوجی پچاس ہزار سے زائد جانوں کی قربانی پیش کی ہے ۔ آج کل شمالی وزیرستان میں طالبان اور غیرملکی دہشت گردوں کے خلاف جو آپریشن جاری ہے،اس کے نتیجے میں دہشت گرد فرار ہوکر افغانستان میں پناہ لے رہے ہیں۔ پاکستانی حکام کی نشاندہی کے باوجود افغانستان کی حکومت کوئی کارروائی ان دہشت گرد گروہوں کے خلاف نہیں کر رہی ہیں۔
ان کے قلع قمع کے لیے ایک مربوط میکنزم بنانے کی دونوں ممالک کو ضرورت ہے ، حالیہ افغان صدارتی انتخابات میں عوام کی بھرپور شرکت اور دلچسپی سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ افغان عوام جمہوریت پر کامل یقین رکھتے ہیں اور وہ شدت پسند گروہوں کو قطعاً پسند نہیں کرتے۔دراصل اپنی ناکامیوں کے اعتراف کے بجائے دوسروںپر الزام تراشی کرنا آسان ہے،امریکا بتدریج اپنی فوجیں افغانستان سے نکال رہا ہے،آنے والے دنوں میں پاکستان اور افغانستان کو طالبان اور دیگر شدت پسند گروہوں کی کارروائیوں کا شدت سے سامنا کرنا پڑسکتا ہے، لہذا افغان حکومت کو بے جا اور غیرسنجیدہ طرز فکر کو ترک کرنا ہوگا بلکہ اس مسئلے پر سر جوڑ کر بیٹھنا ہوگا تب ہی دونوں ممالک شدت پسند گروہوں کا یقینی خاتمہ کرکے ترقی،خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوسکتے ہیں۔
اس کا الزام بغیر تحقیقات کے افغان حکومت نے پاکستان پر عائد کرتے ہوئے خودکش حملوں میں آئی ایس آئی کو ملوث قرار دیا ہے۔خودکش حملہ آور ایک موٹرسائیکل پرسوار تھا۔غیرملکی افراد حملے کے وقت کمپائونڈ میں ورزش کرنے میں مصروف تھے ۔ تمام افرادکا تعلق نیپال سے بتایا گیا ہے ۔ طالبان ترجمان نے خودکش حملے کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ حملے میں 15 غیر ملکی افراد مارے گئے ہیں،تاہم اس کی آزادانہ ذرایع سے تصدیق نہیں ہوسکی۔
اسی علاقے میں ایک اور بم دھماکا ہوا، جس میں ایک شہری زخمی ہوا، افغان وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق کابل انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور صوبہ پکتیا میں حالیہ خود کش حملے حقانی نیٹ ورک نے آئی ایس آئی کے تعاون سے کیے ہیں۔حقیقت تو یہ ہے کہ طالبان اور غیرملکی دہشت گردوںکے خلاف پاک فوج اور دیگرسیکیورٹی ادارے اس وقت شمالی وزیرستان میں برسرپیکار ہیں ، افغان انتظامیہ کو اپنی اصل توجہ خطے کی تبدیل ہوتی حرکیات پر مرکوز کرنی چاہیے، کیا پاکستان کو درپیش ناقابل تردید حقائق کی روشنی میں آئی ایس آئی پر بغیر کسی ثبوت کے الزام عائد کرنا افغان حکومت کو زیب دیتا ہے۔
افغانوں پر پاکستانیوں کے بے شمار احسانات ہیں، پاکستان بار بار کہتا رہا ہے کہ پرامن افغانستان ہمارے مفاد میںہے۔ گزشتہ تین دہائیوں سے پاکستان نے دامے ،درمے،قدمے،سخنے اپنے افغان بھائیوں کی ہرممکن مدد کی ہے ، صلہ تو ہمیں بیوفائی اور الزام تراشی کے سوا کیا ملا ہے ، افغانستان کی حکومت کو اپنے طرز فکر پر غورکرنا چاہیے، پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں فرنٹ لائن اسٹیٹ کا کردار ادا کیا ہے، سویلین اور فوجی پچاس ہزار سے زائد جانوں کی قربانی پیش کی ہے ۔ آج کل شمالی وزیرستان میں طالبان اور غیرملکی دہشت گردوں کے خلاف جو آپریشن جاری ہے،اس کے نتیجے میں دہشت گرد فرار ہوکر افغانستان میں پناہ لے رہے ہیں۔ پاکستانی حکام کی نشاندہی کے باوجود افغانستان کی حکومت کوئی کارروائی ان دہشت گرد گروہوں کے خلاف نہیں کر رہی ہیں۔
ان کے قلع قمع کے لیے ایک مربوط میکنزم بنانے کی دونوں ممالک کو ضرورت ہے ، حالیہ افغان صدارتی انتخابات میں عوام کی بھرپور شرکت اور دلچسپی سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ افغان عوام جمہوریت پر کامل یقین رکھتے ہیں اور وہ شدت پسند گروہوں کو قطعاً پسند نہیں کرتے۔دراصل اپنی ناکامیوں کے اعتراف کے بجائے دوسروںپر الزام تراشی کرنا آسان ہے،امریکا بتدریج اپنی فوجیں افغانستان سے نکال رہا ہے،آنے والے دنوں میں پاکستان اور افغانستان کو طالبان اور دیگر شدت پسند گروہوں کی کارروائیوں کا شدت سے سامنا کرنا پڑسکتا ہے، لہذا افغان حکومت کو بے جا اور غیرسنجیدہ طرز فکر کو ترک کرنا ہوگا بلکہ اس مسئلے پر سر جوڑ کر بیٹھنا ہوگا تب ہی دونوں ممالک شدت پسند گروہوں کا یقینی خاتمہ کرکے ترقی،خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوسکتے ہیں۔