ہم غلام مسلمان

خدا کی اس زمین پر میں ایک منفرد بلکہ بے مثال مسلمان ہوں۔ میں ایک ایسے ملک کا باشندہ ہوں

Abdulqhasan@hotmail.com

خدا کی اس زمین پر میں ایک منفرد بلکہ بے مثال مسلمان ہوں۔ میں ایک ایسے ملک کا باشندہ ہوں جس کی سرزمین خدا و رسولؐ کے نام پر حاصل کی گئی اور یوں مسلمانوں کی تاریخ میں پہلی باقاعدہ ریاست وجود میں آئی جو اسلام کے نام پر حاصل کی گئی۔ ہم مسلمانوں کی یہ پہلی ریاست ہے جسے جدید دور کا سب سے کارگر اسلحہ یعنی ایٹم بم ملا جو اس کے باشندوں نے خود بنایا مانگا تانگا یا خریدا نہیں۔

یوں میں اگر کہوں کہ میں اس منفرد ریاست کا ایک شہری ہوں تو میرا یہ دعویٰ غلط نہیں ہے اور یہ بھی غلط نہیں ہے کہ ایٹم کی مالک واحد مسلمان ریاست 'اسلامی جمہوریہ پاکستان' اپنے ارد گرد مسلمانوں کا قتل عام دیکھ رہی ہے اور اپنے ایٹم کے اوپر بیٹھی ہوئی چپ ہے بلکہ اس کا لیڈر ایک نفلی عبادت کے لیے ایک لشکر لے کر سعودی عرب جا چکا ہے۔ ایک بے پناہ مقروض قوم پر تو حج بھی فرض نہیں ہے کجا ایک عمرے پر اس قدر خرچ کیا جائے خواہ یہ خرچ بیت المال کا ہو یا ذاتی۔

مطلب یہ ہے کہ ان دنوں دنیا بھر میں مسلمانوں کی جو حالت ہے اس میں کسی مسلم حکمران کو نیند بھی کیسے آ سکتی ہے کہاں یہ کہ وہ کوئی بیرونی سفر کرے اور وہ بھی ایک گروہ کے ہمراہ۔ میں جو ایک بالکل نہتا مسلمان ہوں اور جس کے اختیار میں چند لفظوں کے سوا کچھ بھی نہیں جو دوسرے روز ردی بن جاتے ہیں سوائے رونے دھونے اور اپنے آپ کو ملامت کرنے کے اور کیا کر سکتا ہے۔

مشرق بعید کے ملک برما سے لے کر مغربی افریقہ کے ملک تیونس اور مراکش تک جہاں بھی کوئی مسلمان آباد ہے وہ مسلمان دشمن قوتوں کے نشانے پر ہے اور یہ نشانے ایسے ظالم ہیں کہ ان ملکوں میں مسلمانوں کی تہذیب کے آثار مٹا رہے ہیں۔ میں نے وہ چند شہر دیکھے ہوئے ہیں جو مسلمان دشمن مغربی طاقتوں کا نشانہ بنائے گئے۔ خبروں میں جن مقامات کے برباد ہونے یا تہس نہس ہونے کی اطلاع ملتی ہے خدا نہ کرے کہ میں اس زندگی میں ان شہروں کو کبھی پھر سے دیکھ سکوں۔ مجھ میں تو کسی تہذیبی نشانی کے نقصان کی صرف اطلاع بھی قابل برداشت نہیں کجا کہ میں ان کے ٹکڑوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھوں۔

شام کے شہر حلب میں اللہ کی تلوار حضرت خالد بن ولیدؓ کے مزار کو تباہ کر دیا گیا۔ اس شہر میں حضرت کا انتقال ہوا تھا اور اپنی رہائش گاہ میں پلنگ پر لیٹے ہوئے تاریخ کی اس عظمت نے نہ جانے کتنی حسرت کے ساتھ اپنے جسم پر نگاہ ڈال کر کہا کہ اس جسم کا کوئی حصہ کسی نہ کسی جہاد کے زخم کی نشانی سے خالی نہیں، متعدد معرکوں میں حصہ لیا اور فتح پائی لیکن شہادت مقدر میں نہیں تھی اور آج بستر پر پڑا جان دے رہا ہوں۔ عظیم فاتح کی یہ بات ان کے شہر حلب کے ذکر سے یاد آ گئی جس شہر کو انھوں نے اپنی آخری عمر کے لیے پسند کیا تھا۔

خود دمشق شہر کے آثار کو نقصان پہنچایا گیا۔ دنیا کا واحد شہر جو اپنی اساسی آبادی کے بعد سے اب تک ہزاروں برس سے آباد چلا آ رہا ہے۔ یہاں لاتعداد صحابہ کے مزار ہیں جو مدینہ سے وہاں چلے گئے تھے حضرت ابوہریرہؓ سمیت۔ پھر ایسی عمارتیں ہیں جو بادشاہوں نے تعمیر کی تھیں اور وہ غوطہ دمشق دنیا کا مشہور ترین باغ جو دمشق شہر کو اپنے حصار میں لیے ہوئے ہے۔ گرم صحرائے عرب کے باشندوں نے فتح دمشق کے وقت جب یہ خنک باغ دیکھا تو وہ مبہوت رہ گئے اور اس سے آگے بڑھ کر دمشق شہر کی طرف پیش قدمی روک دی۔


خود اس فوج کے سپہ سالار حضرت خالد نے اس باغ کو اس قدر پسند کیا کہ اپنے فاتح لشکر کو بھی یہاں ٹھہرنے کی اجازت دے دی اور کوئی چالیس دن کے بعد اس سبزہ زار اور پھولوں کی آغوش سے باہر نکل کر شہر میں داخل ہوئے جہاں اس مفتوح شہر کے لوگ ان کے منتظر تھے۔ اس دمشق میں کسی نے شیخ سعدی جیسے سیاح کو غلام بنا کر فروخت کر دیا۔ غالباً اسی غلامی کے دوران شیخ سعدی نے وہ منظر دیکھا جسے انھوں نے اپنے اس شہرہ آفاق شعر میں بیان کیا ہے

چناں قحط سالے شد اندر دمشق

کہ یاراں فراموش کردند عشق

کہ دمشق میں ایک سال ایسا قحط پڑا کہ یار لوگ عشق و عاشقی بھی بھول گئے۔ دمشق کی مسجد بنو اُمیہ میں ایک گوشہ ایسا ہے جس میں امام غزالی نے بیٹھ کر اپنی ایک تصنیف مکمل کی تھی چنانچہ اس گوشے کو زاویہ غزالی کا نام دے دیا گیا ہے۔ میں نے ایک بار اس شہر کی دیوانہ وار سیر کی جس کا طویل حال ایک مختصر کالم میں کیسے بیان کروں۔ یہ شہر مسلمانوں کے دشمنوں نے حال ہی میں تباہ کیا ہے اور پھر بغداد۔ پروفیسر حتی نے ایک یاد گار مضمون لکھا کہ ''وہ شہر جو بغداد تھا'' اور عباسیوں کے اس شہر کے علماء اور فضلاء نے اس شہر کے قصیدے لکھ کر اسے زندہ کر دیا۔ تصوف نے اس شہر میں عروج کا دور دیکھا حضرت گیلانیؒ کا مزار مبارک اسی شہر میں ہے اور علوم تصوف اور صوفیوں کے سید الطائفہ حضرت جنید بغدادی کے قیام کا اعزاز اسی شہر کو حاصل ہے۔

بغداد میں پرورش پانے والے علوم و فنون اور اس بے مثال شہر میں قیام کرنے والے علماء اور سائنس دانوں نے اس شہر کو تاریخ کا مرکز بنا دیا اور دنیا بھرکے علوم وفنون کا گہوارہ۔ یہ کہانی بہت طویل ہے اور مسلمانوں کے دشمنوں کو معلوم ہے کہ عالم اسلام میں بکھرے ہوئے یہ آثار جب تک سلامت ہیں مسلمان ان کی برکت اور ان کے دیدار سے نئی زندگی پاتے رہیں گے ختم نہیں ہوں گے چنانچہ آج دنیا بھر میں مسلمان جس کسی بڑے شہر میں آباد ہیں ان پر لشکر کشی کی جا رہی ہے یا ان کو آپس میں لڑایا جا رہا ہے۔ مسلمان حکمران عالم اسلام کے ملزم ہیں۔

کوئی ڈیڑھ ارب مسلمان کراچی شہر سے بھی کم آبادی والے اسرائیل سے خوفزدہ ہیں کیونکہ اسرائیل کے پیچھے دنیا کی بڑی طاقتیں ہیں۔ ہٹلر بدقسمت نکلا کہ اس نے کہا کہ میں نے یہودی قتل کر دیے ہیں مگر بطور نمونہ چند چھوڑ دیے ہیں۔ اس کا یہ اندازہ غلط نکلا انھیں بچ جانے والے یہودیوں نے دنیا کے امن کو غارت کردیا ہے اور ہٹلر کے جرمن کو بھول کر مسلمانوں سے ہٹلر کا بدلہ لے رہے ہیں کیونکہ جرمنی ایک طاقت ہے اور مسلمان مفتوح اور غلام ہیں۔

مسلمانوں کی قیادت اور حکمران اسرائیل اور اس کے سرپرستوں کے غلام ہیں۔ ذرا غور فرمائیے کہ ان دنوں پاکستان کا ایک لیڈر امریکا میں ہے کہ وہ پاکستان میں مارشل لاء نہ لگنے دے۔ ''انا للہ وانا الیہ راجعون''۔ انھی لیڈروں کا عالم اسلام مشرق بعید سے لے کر مغربی افریقہ تک غلامی کی زندگی بسر کر رہا ہے۔ یہ لیڈر خود غلام ہیں تو ہمیں آزادی کیسے دلائیں گے اور کوئی غزہ کے مسلمانوں پر کیا لکھے جس کے شہیدوں میں ایک چوتھائی بچے ہیں۔
Load Next Story