پاک بھارت جامع مذاکرات

پاکستان میں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور بھارت میں نریندر مودی کے برسراقتدار آنے

جامع مذاکرات کا سلسلہ نومبر2008 میں ممبئی میں ہونے والی دہشت گردی کی واردات کے نتیجے میں معطل ہو گیا تھا۔

پاکستان میں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور بھارت میں نریندر مودی کے برسراقتدار آنے کے بعد برصغیر میں قیام امن کے حامی حلقوں کو قوی امید ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان معطل شدہ جامع مذاکرات کا سلسلہ بحال ہو جائے گا ۔ جامع مذاکرات کا سلسلہ نومبر2008 میں ممبئی میں ہونے والی دہشت گردی کی واردات کے نتیجے میں معطل ہو گیا تھا۔ بعد میں یہ مذاکرات بحال تو ہوئے لیکن ان کی رفتار انتہائی سست تھی' پھر گزشتہ برس لائن آف کنٹرول پر ہونے والی کشیدگی کے نتیجے میں یہ ایک بار پھر معطل ہو گئے' جو تا حال معطل چلے آ رہے ہیں۔

وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف بھارت کے ساتھ اچھے دوستانہ تعلقات کا برملا اظہار کرتے ہیں' ادھر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی گو انتہا پسند نظریات کے حامل ہیں تاہم مبصرین کی رائے ہے کہ وہ بھی پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں' ایسے حالات میں یہ اطلاع سامنے آئی ہے کہ پاک بھارت جامع مذاکرات میں تعطل ختم ہونے کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔ ایکسپریس کی اطلاع کے مطابق دونوں ممالک کے خارجہ سیکریٹریوں کے درمیان 25 اگست کو اسلام آباد میں مذاکرات طے پا گئے ہیں۔

پاکستان اور بھارت جنوبی ایشیاء کے دو بڑے ممالک ہیں اور دونوں ہی ایٹمی قوتیں ہیں۔ ایسے حالات میں دونوں ملکوں کے درمیان مسلسل کشیدگی مثبت علامت نہیں ہے۔ اس خطے میں امن کی خواہاں قوتوں کی دیرینہ خواہش ہے کہ دونوں ملک اپنے باہمی تنازعات بات چیت کے ذریعے پر امن انداز میں حل کریں۔ موجودہ حالات میں یہ اطلاع کہ دونوں ملک جامع مذاکرات بحال کرنے پر متفق ہیں' ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ہے۔ پاکستان اور بھارت گزشتہ کئی برس سے مذاکراتی عمل کے ذریعے اپنے دو طرفہ تنازعات حل کرنے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔

دو طرفہ مذاکرات کے 8 نکاتی ایجنڈے میں مسئلہ کشمیر' سیاچن' اور سرکریک کے علاوہ اور کئی اہم تصفیہ طلب معاملات شامل ہیں تاہم ابھی تک مذاکرات کسی اہم مسئلے کے حل کے حوالے سے نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکے۔ ادھر بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ دو ماہ قبل وزیراعظم نریندر مودی اور وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے درمیان ملاقات میں اتفاق ہوا تھا کہ دونوں ممالک کے خارجہ سیکریٹری آپس میں رابطے میں رہیں گے۔ دونوں ملکوں کے خارجہ سیکریٹریوں نے کچھ عرصہ قبل فون پر گفتگو میں بھی مذاکراتی عمل آگے بڑھانے کا عزم ظاہر کیا تھا۔ بہر حال یہ ساری باتیں بڑی امید افزا ہیں۔

پاکستان اور بھارت کی قیادت کو زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر آگے بڑھنا چاہیے' آج کی دنیا تنازعات کی نہیں بلکہ مفاہمت کی دنیا ہے۔ آج ہر ملک اپنے معاشی مفادات کو سامنے رکھ کرآگے بڑھ رہا ہے۔ نئے نئے اقتصادی بلاک سامنے آ رہے ہیں۔ ترقی یافتہ طاقتور اقوام نے جی 8 کے نام سے اقتصادی بلاک بنا رکھا ہے۔ اسی طرح دنیا کی 20 اقوام نے مل کر ایک بلاک رکھا ہے۔ اس کے علاوہ علاقائی بلاک بن رہے ہیں' خلیجی ممالک نے اپنی تنظیم گلف کوآپریشن کونسل کے نام سے بنا رکھی ہے۔


اس تنظیم کے رکن ممالک نے ویزے کی پابندیاں نرم کر رکھی ہیں۔ لاطینی امریکا کے ملک ایک دوسرے سے تعاون کر رہے ہیں' افریقی ملک بھی اقتصادی رشتوں میں بڑھے ہوئے یں۔ یورپی ملکوں نے اپنی یونین بنا رکھی ہے۔ یورپی یونین میں شامل ممالک نے اپنے باشندوں کے لیے ویزا ختم کر دیا ہے۔ جب سے یورپی یونین قائم ہوئی ہے اس میں شامل ممالک نے متاثر کن ترقی کی ہے۔ اس تنظیم میں وہ یورپ کی وہ اقوام جو کم ترقی یافتہ ہیں 'انھوں نے بھی بہتر اقتصادی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔

جنوبی ایشیا میں بے پناہ اقتصادی پوٹینشل موجود ہے۔اس خطے میں بھارت 'پاکستان' بنگلہ دیش'سری لنکا 'نیپال 'مالدیپ 'بھوٹان اور افغانستان شامل ہیں۔ اگر اس خطے کے ممالک اپنے اختلافات کو باہمی مذاکرات کے ذریعے دور کر لیں اور اپنے وسائل ایک دوسرے کے لیے کھول دیں تو یہ خطہ حیرت انگیز رفتار سے ترقی کر سکتا ہے۔ پاکستان اور بھارت اس خطے کے سب سے بڑے اور طاقتور ملک ہیں۔ ان کے درمیان کئی تصفیہ طلب تنازعات موجود ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان دشمنی اور مخاصمت کی تاریخ بھی پرانی ہے۔ بلاشبہ تعلقات کے بگاڑ میں بھارتی اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ زیادہ ہے۔

بھارت نے پاکستان کو دو لخت کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اگر بھارت مشرقی پاکستان میں مداخلت نہ کرتا تو وہ کبھی بنگلہ دیش کا روپ نہ دھارتا۔ کشمیر کا تنازعہ بھی بھارت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے تاحال حل طلب ہے۔ بھارتی قیادت کو یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ جب تک تنازعہ کشمیر کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل نہیں ہوتا پاکستان اور بھارت کے تعلقات اچھے نہیں ہو سکتے۔ اس کے ساتھ ساتھ دونوں ملکوں کے درمیان سیاچن اور سرکریک کا تنازعہ بھی حل طلب ہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان آبی تنازعات بھی موجود ہیں ۔بھارت سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں ڈیم اور بیراج تعمیر کر رہا ہے ۔اس خطے میں امن کی کنجی بھارت کے پاس ہے کیونکہ تنازعات کے حل میں وہی رکاوٹ ہے۔اب جب کہ سیکریٹری کی سطح کے مذاکرات کی بحالی کے امکانات پیدا ہوئے ہیں تو کوشش یہ ہونی چاہیے کہ انھیں نتیجہ خیز بنایا جائے۔ کشمیر کا تنازعہ تو خاصا پیچیدہ اور مشکل شکل اختیار کر چکا ہے۔

اگر بھارت نسبتاً چھوٹے تنازعات جیسے سیاچن اور سرکریک وغیرہ ہیں ان پر مثبت پیش رفت کرے تو یہ تنازعات جلد حل ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح پانی کے تنازعات پر بھی بھارت کو اپنے رویے میں لچک پیدا کرنی چاہیے ۔اگر بھارت اپنے رویے میں لچک پیدا کرے تو پاکستان بھی اس کا مثبت جواب دے گا۔امید کی جانی چاہیے کہ بحال ہونے والے جامع مذاکرات مثبت سمت میں پیش رفت کریں گے۔
Load Next Story