بچے کے بازو کاٹنے کی سفاکانہ واردات اور حکمران

بدقسمتی سے پاکستان میں اس قسم کے ظالمانہ رویے عرصے سے پروان چڑھ رہے ہیں۔

بدقسمتی سے پاکستان میں اس قسم کے ظالمانہ رویے عرصے سے پروان چڑھ رہے ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس نیوز/فائل

پنجاب کے شہر گجرات کے نواحی گاؤں چک بھولا میں 10 سالہ بچے کے بازو کاٹنے کی سفاکانہ واردات ہمارے معاشرے میں بڑھتی ہوئی لاقانونیت اور سفاکی کی ایک اور مثال ہے۔

اس سے پہلے بھی کئی دل دہلا دینے والی وارداتیں ہوچکی ہیں۔ چند سال پہلے سیالکوٹ میں ہجوم نے دو سگے بھائیوں کو بڑی بے دردی سے ڈنڈے مار مار کر قتل کر دیا تھا۔ خواتین اور کم عمر بچوں پر تشدد کرنا' ان کے اعضا کاٹنا، چہرہ مسخ کرنا یا قتل کرنا سفاکی کا آخری درجہ ہے۔


بدقسمتی سے پاکستان میں اس قسم کے ظالمانہ رویے عرصے سے پروان چڑھ رہے ہیں۔ اس قسم کی وارداتیں اس لیے بڑھ رہی ہیں کہ معاشرے میں قانون کا خوف ختم ہو گیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف اگلے روز گجرات پہنچے اور بچے کی عیادت کی' یہ ایک اچھی بات ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس قسم کے نوٹس سے نظام ٹھیک ہو جائے گا، اعلیٰ عدلیہ کے از خود نوٹسز ہوں یا وزیراعظم یا وزیراعلیٰ کا کسی واردات یا جرم کے بعد جائے وقوع پر پہنچنا ہو، ان اقدامات سے نظام انصاف ٹھیک ہو سکتا ہے نہ عوام میں بڑھتی ہوئی سفاکی کی نفسیات میں ٹھہراؤ یا کمی آ سکتی ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کسی بھیانک واردات کے مجرم کو پولیس مقابلے میں مار دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد معاملہ ختم ہو جاتا ہے لیکن اس کلچر نے سسٹم کو جو نقصان پہنچایا ہے' اس کا ازالہ ممکن نہیں رہا، آج پولیس سسٹم خراب ہے' ضلعی انتظامیہ کا نظام درست نہیں رہا' عدالتوں میں جو کچھ ہو رہا ہے' اس کے بارے میں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ سب کچھ ایک دن میں نہیں ہوا' حکمران طبقات نے اپنے مفادات کے تحفظ اور اپنی بدعنوانی کے بچاؤ کے لیے سسٹم کو دیدہ دانستہ خراب کیا' اب خرابی بہت بڑھ گئی ہے' پنجاب کے دیہی علاقوں میں بااثر طبقات پولیس اور پٹواری سے مل کر غریبوں کا جینا حرام کیے ہوئے ہیں' یہی حال سندھ کے دیہی علاقوں کا ہے۔

بلوچستان کے دوردراز علاقوں میں عام آدمی سرداروں کے رحم وکرم پر ہیں۔خیبر پختونخوا کے دیہی علاقوں میں تو قانون نام کی چیز ہی نہیں ہے۔ ملک میں حقیقی جمہوریت کو قائم ہوئے چھٹا برس ہو گیا ہے' ان برسوں میں بھی ملک کے سیاسی و سماجی نظام میں تبدیلی کے لیے کچھ نہیں کیا گیا' گجرات کا واقعہ ہماری انتظامیہ' پولیس' عدلیہ اور حکمرانوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہونا چاہیے' انھیں سوچنا چاہیے کہ معاشرے میں انتہا پسندی' ظلم اور سفاکی کیوں بڑھ رہی ہے۔
Load Next Story