غزہ میں اسرائیلی بربریت اور عالمی ضمیر
اگر صورت حال اسی طرح جاری رہی تو آیندہ چند روز میں فلسطینیوں کی ایک بڑی تعداد کا بھوک سے مرنے کا خطرہ موجود ہے۔
اگر صورت حال اسی طرح جاری رہی تو آیندہ چند روز میں فلسطینیوں کی ایک بڑی تعداد کا بھوک سے مرنے کا خطرہ موجود ہے۔ فوٹو: فائل
FAISALABAD:
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے اعلان کے مطابق غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف اور مظلوم فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے جمعتہ الوداع کو ملک بھر میں یوم سوگ منایا گیا۔ اس موقع پر قومی پرچم سرنگوں رہا۔ وزیراعظم کی جانب سے فلسطینیوں کے لیے دس لاکھ ڈالر امداد کا بھی اعلان کیا گیا۔
جمعرات کو سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے ہفتہ وار بریفنگ میں غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو وہاں سے اپنی فوج نکالنی چاہیے، انھوں نے اسرائیلی بمباری کی مذمت کرتے ہوئے بے گناہ شہریوں خاص طور پر خواتین اور بچوں کی ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ انھوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے اسرائیلی جارحیت کے خلاف ہر فورم پر کھل کر مخالفت کی ہے، وہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت جاری رکھے گا' پاکستان نے سلامتی کونسل میں قرار داد پیش کی ہے اس کے علاوہ او آئی سی اور دیگر ہم خیال ممالک سے کہا ہے کہ وہ غزہ میں فوری اور غیر مشروط جنگ بندی اور اسرائیلی فوج کے انخلا کے لیے دباؤ ڈالیں۔
اسرائیلی جارحیت کے خلاف پاکستان کا یوم سوگ کا اعلان اور وزیراعظم کی طرف سے دس لاکھ ڈالر کا عطیہ اس امر کا واضح اظہار ہے کہ پاکستان ہر محاذ پر فلسطینی عوام کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ اسرائیلی جارحیت کے خلاف دنیا بھر میں مظاہرے جاری ہیں، ترکی میں بھی بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے ہیں حتیٰ کہ تل ابیب میں بھی یہودی عوام اپنی حکومت کی سفاکی کے خلاف سڑکوں پر آ گئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اسلامی دنیا میں ہونے والے ان مظاہروں کا اسرائیلی جارحیت پر کیا اثر پڑا ہے۔ کیا اس سے اسرائیلی حملوں میں کمی واقع ہوئی ہے یا اقوام متحدہ کی جانب سے اسرائیل کو جارح اور ظالم قرار دے کر اس کے خلاف کسی کارروائی کا اعلان کیا گیا ہے۔
صورت حال یہ ہے کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا جب کہ فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی بمباری میں مزید شدت آگئی ہے۔ 18 روز میں اب تک 815 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ تازہ حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت مزید سوا سو افراد کو موت کی نیند سلا دیا گیا ہے۔ اسرائیلی دیدہ دلیری اور سفاکیت اس قدر بڑھ گئی ہے کہ اس نے بیت الحنون میں پناہ گزینوں کے کیمپ کے طور پر استعمال ہونے والے اقوام متحدہ کے اسکول پر بھی بمباری کر دی جس سے 15 افراد شہید اور دو سو زخمی ہو گئے۔ اس حملے کے بعد بھی اقوام متحدہ کی جانب سے مکمل خاموشی سامنے آ رہی ہے اور اس جارحیت کو روکنے کے لیے کسی قسم کا اقدام نہیں کیا گیا۔
اقوام متحدہ کے انسانی امداد کے ادارے کی سربراہ ویلیری آموس کے مطابق ایک لاکھ اٹھارہ ہزار افراد اقوام متحدہ کے اسکولوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ اگر اسرائیل اقوام متحدہ کے مزید تعلیمی اداروں کو بھی اپنی جارحیت کا نشانہ بناتا ہے تو اقوام متحدہ کی بے حسی کے تناظر میں یہ کہنا مشکل امر نہیں کہ اس کے بعد بھی مکمل خاموشی طاری رہے گی' اقوام متحدہ اور عالمی سطح پر بڑی قوتوں کی جانب سے اسرائیلی جارحیت روکنے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا جائے گا۔ غزہ کا 40 فیصد علاقہ نوگو ایریا بن چکا اور شہریوں کی خوراک کا ذخیرہ تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔
اگر صورت حال اسی طرح جاری رہی تو آیندہ چند روز میں فلسطینیوں کی ایک بڑی تعداد کا بھوک سے مرنے کا خطرہ موجود ہے۔ اسرائیل جس سفاکانہ اور جارحانہ انداز میں فلسطینیوں کا قتل عام کر رہا ہے اس سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ وہ اس خطے سے مجبور فلسطینیوں کو ختم کرنا چاہتا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو جنگ بندی کے بجائے مزید کارروائی کی دھمکیاں دیتے دکھائی پڑتے ہیں جس سے خطے میں صورت حال مزید خراب ہونے کا خطرہ ہے۔
ایک جانب اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون غزہ میں جاری کشیدگی کے مسئلہ پر خادم الحرمین شریفین شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز سے جدہ میں ملاقات کر رہے ہیں تو دوسری جانب امریکی اور بعض یورپی ممالک تل ابیب کے لیے اپنی فضائی پروازیں بحال کر کے اسرائیل سے دوستانہ تعلقات کا عندیہ دے رہے ہیں۔ ماضی میں اسرائیل نے جب بھی فلسطینیوں پر حملے کیے اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں نے اس جارحیت کو روکنے کے لیے کبھی عملی اقدام نہیں کیا۔ اگر ماضی ہی میں اسرائیل کے ان ظالمانہ اقدامات کو روکنے کی کوئی کوشش کی گئی ہوتی تو آج جو کچھ ہو رہا ہے اس کی نوبت نہ آتی۔
مسلم ممالک اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ ہی کر دیں تو بھی اسرائیل پر دباؤ پڑ سکتا ہے مگر مسلم حکمران صرف مذمتی بیانات ہی پر اکتفا کیے ہوئے ہیں۔ کچھ مسلم ممالک کے اسرائیل کے ساتھ گہرے تجارتی تعلقات ہیں اور فلسطینیوں پر ہونے والے حملوں کے بعد بھی ان تعلقات میں کوئی کمی نہیں آئی۔ مشرق وسطیٰ کے ممالک شام اور عراق خود خانہ جنگی کا شکار ہیں جب کہ مصر کی فوجی حکومت بھی فلسطینیوں کا ساتھ نہیں دے رہی۔
اس صورت حال کے تناظر میں فلسطینی خود کو تنہا اور بے بس محسوس کر رہے ہیں۔ اسرائیل کو بھی ان حقائق کا بخوبی ادراک ہے اور جانتا ہے کہ وہ فلسطینیوں پر جتنے مرضی مظالم کے پہاڑ توڑ لے کوئی قوت بھی اس کی راہ میں مزاحم نہیں ہو سکتی۔ لہٰذا وہ جب چاہتا ہے کوئی بہانہ تراش کر فلسطینیوں کا قتل عام شروع کر دیتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ مسلم دنیا واضح لائحہ عمل اختیار کرے ورنہ مستقبل میں بھی فلسطینیوں کا قتل عام اسی طرح جاری رہے گا۔
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے اعلان کے مطابق غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف اور مظلوم فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے جمعتہ الوداع کو ملک بھر میں یوم سوگ منایا گیا۔ اس موقع پر قومی پرچم سرنگوں رہا۔ وزیراعظم کی جانب سے فلسطینیوں کے لیے دس لاکھ ڈالر امداد کا بھی اعلان کیا گیا۔
جمعرات کو سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے ہفتہ وار بریفنگ میں غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو وہاں سے اپنی فوج نکالنی چاہیے، انھوں نے اسرائیلی بمباری کی مذمت کرتے ہوئے بے گناہ شہریوں خاص طور پر خواتین اور بچوں کی ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ انھوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے اسرائیلی جارحیت کے خلاف ہر فورم پر کھل کر مخالفت کی ہے، وہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت جاری رکھے گا' پاکستان نے سلامتی کونسل میں قرار داد پیش کی ہے اس کے علاوہ او آئی سی اور دیگر ہم خیال ممالک سے کہا ہے کہ وہ غزہ میں فوری اور غیر مشروط جنگ بندی اور اسرائیلی فوج کے انخلا کے لیے دباؤ ڈالیں۔
اسرائیلی جارحیت کے خلاف پاکستان کا یوم سوگ کا اعلان اور وزیراعظم کی طرف سے دس لاکھ ڈالر کا عطیہ اس امر کا واضح اظہار ہے کہ پاکستان ہر محاذ پر فلسطینی عوام کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ اسرائیلی جارحیت کے خلاف دنیا بھر میں مظاہرے جاری ہیں، ترکی میں بھی بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے ہیں حتیٰ کہ تل ابیب میں بھی یہودی عوام اپنی حکومت کی سفاکی کے خلاف سڑکوں پر آ گئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اسلامی دنیا میں ہونے والے ان مظاہروں کا اسرائیلی جارحیت پر کیا اثر پڑا ہے۔ کیا اس سے اسرائیلی حملوں میں کمی واقع ہوئی ہے یا اقوام متحدہ کی جانب سے اسرائیل کو جارح اور ظالم قرار دے کر اس کے خلاف کسی کارروائی کا اعلان کیا گیا ہے۔
صورت حال یہ ہے کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا جب کہ فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی بمباری میں مزید شدت آگئی ہے۔ 18 روز میں اب تک 815 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ تازہ حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت مزید سوا سو افراد کو موت کی نیند سلا دیا گیا ہے۔ اسرائیلی دیدہ دلیری اور سفاکیت اس قدر بڑھ گئی ہے کہ اس نے بیت الحنون میں پناہ گزینوں کے کیمپ کے طور پر استعمال ہونے والے اقوام متحدہ کے اسکول پر بھی بمباری کر دی جس سے 15 افراد شہید اور دو سو زخمی ہو گئے۔ اس حملے کے بعد بھی اقوام متحدہ کی جانب سے مکمل خاموشی سامنے آ رہی ہے اور اس جارحیت کو روکنے کے لیے کسی قسم کا اقدام نہیں کیا گیا۔
اقوام متحدہ کے انسانی امداد کے ادارے کی سربراہ ویلیری آموس کے مطابق ایک لاکھ اٹھارہ ہزار افراد اقوام متحدہ کے اسکولوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ اگر اسرائیل اقوام متحدہ کے مزید تعلیمی اداروں کو بھی اپنی جارحیت کا نشانہ بناتا ہے تو اقوام متحدہ کی بے حسی کے تناظر میں یہ کہنا مشکل امر نہیں کہ اس کے بعد بھی مکمل خاموشی طاری رہے گی' اقوام متحدہ اور عالمی سطح پر بڑی قوتوں کی جانب سے اسرائیلی جارحیت روکنے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا جائے گا۔ غزہ کا 40 فیصد علاقہ نوگو ایریا بن چکا اور شہریوں کی خوراک کا ذخیرہ تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔
اگر صورت حال اسی طرح جاری رہی تو آیندہ چند روز میں فلسطینیوں کی ایک بڑی تعداد کا بھوک سے مرنے کا خطرہ موجود ہے۔ اسرائیل جس سفاکانہ اور جارحانہ انداز میں فلسطینیوں کا قتل عام کر رہا ہے اس سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ وہ اس خطے سے مجبور فلسطینیوں کو ختم کرنا چاہتا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو جنگ بندی کے بجائے مزید کارروائی کی دھمکیاں دیتے دکھائی پڑتے ہیں جس سے خطے میں صورت حال مزید خراب ہونے کا خطرہ ہے۔
ایک جانب اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون غزہ میں جاری کشیدگی کے مسئلہ پر خادم الحرمین شریفین شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز سے جدہ میں ملاقات کر رہے ہیں تو دوسری جانب امریکی اور بعض یورپی ممالک تل ابیب کے لیے اپنی فضائی پروازیں بحال کر کے اسرائیل سے دوستانہ تعلقات کا عندیہ دے رہے ہیں۔ ماضی میں اسرائیل نے جب بھی فلسطینیوں پر حملے کیے اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں نے اس جارحیت کو روکنے کے لیے کبھی عملی اقدام نہیں کیا۔ اگر ماضی ہی میں اسرائیل کے ان ظالمانہ اقدامات کو روکنے کی کوئی کوشش کی گئی ہوتی تو آج جو کچھ ہو رہا ہے اس کی نوبت نہ آتی۔
مسلم ممالک اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ ہی کر دیں تو بھی اسرائیل پر دباؤ پڑ سکتا ہے مگر مسلم حکمران صرف مذمتی بیانات ہی پر اکتفا کیے ہوئے ہیں۔ کچھ مسلم ممالک کے اسرائیل کے ساتھ گہرے تجارتی تعلقات ہیں اور فلسطینیوں پر ہونے والے حملوں کے بعد بھی ان تعلقات میں کوئی کمی نہیں آئی۔ مشرق وسطیٰ کے ممالک شام اور عراق خود خانہ جنگی کا شکار ہیں جب کہ مصر کی فوجی حکومت بھی فلسطینیوں کا ساتھ نہیں دے رہی۔
اس صورت حال کے تناظر میں فلسطینی خود کو تنہا اور بے بس محسوس کر رہے ہیں۔ اسرائیل کو بھی ان حقائق کا بخوبی ادراک ہے اور جانتا ہے کہ وہ فلسطینیوں پر جتنے مرضی مظالم کے پہاڑ توڑ لے کوئی قوت بھی اس کی راہ میں مزاحم نہیں ہو سکتی۔ لہٰذا وہ جب چاہتا ہے کوئی بہانہ تراش کر فلسطینیوں کا قتل عام شروع کر دیتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ مسلم دنیا واضح لائحہ عمل اختیار کرے ورنہ مستقبل میں بھی فلسطینیوں کا قتل عام اسی طرح جاری رہے گا۔