پاکستانیوں کے لیے مشعل راہ

بابر سلیمان کا ہوا بازی کا دس سال سے زیادہ کا تجربہ تھا جب کہ ان کا بیٹا حارث آٹھ سال کی عمر سے باپ کے ساتھ۔۔۔

بابر سلیمان کا ہوا بازی کا دس سال سے زیادہ کا تجربہ تھا جب کہ ان کا بیٹا حارث آٹھ سال کی عمر سے باپ کے ساتھ پروازوں میں شریک تھا۔ فوٹو: ایکسپریس نیوز/فائل

پاکستان کے غریب اور پسماندہ بچوں کی تعلیم کی خاطر فنڈ ریزنگ کے لیے اپنے ذاتی ہوائی جہاز میں دنیا کا چکر کاٹنے والا کم عمر پائلٹ راؤ حارث سلیمان اپنے والد سمیت اس وقت شہید ہو گیا جب وہ اپنا طویل سفر مکمل کر کے امریکا واپس پہنچنے والے تھے۔ امریکا کے سمندری عملے نے سترہ سالہ حارث کی نعش سمندر سے برآمد کر لی ہے مگر ان کے والد بابر سلیمان کی تلاش بدستور جاری ہے۔ امریکی ساحلی محافظوں نے تباہ شدہ طیارہ بھی بحرالکاہل سے نکال لیا ہے۔

معلوم ہوا ہے بابر سلیمان کی مدت سے خواہش تھی کہ وہ نجی طیارے میں پوری دنیا کا چکر لگائیں مگر والد کے اس پروگرام میں سترہ سالہ حارث نے بھی شمولیت کا فیصلہ کر لیا تاکہ اس طرح پاکستان میں نادار بچوں کے لیے اسکول قائم کرنے کے لیے فنڈ اکٹھے کیے جائیں۔ واضح رہے امریکا کی سٹیزن فاؤنڈیشن نامی ایک تنظیم پاکستان میں ایک ہزار اسکول تعمیر کرا چکی ہے۔ حارث اور اس کے والد نے اسی نیک مقصد کے لیے اس ایڈونچر کا پروگرام بنایا تھا۔ وہ سنگل انجن طیارے پر کمسن پائلٹ کے ذریعے دنیا کا چکر لگا کر ریکارڈ بھی قائم کرنا چاہتے تھے۔ ان کو اس سفر کے خطرات سے بھی آگاہی تھی چنانچہ روانگی سے پہلے انھوں نے حفاظتی طریقے سکھانے والی کلاسوں میں بھی شرکت کی تھی۔


بابر سلیمان کا ہوا بازی کا دس سال سے زیادہ کا تجربہ تھا جب کہ ان کا بیٹا حارث آٹھ سال کی عمر سے باپ کے ساتھ پروازوں میں شریک تھا اور اسے اس سال جون میں پائلٹ کا لائسنس بھی مل گیا تھا۔ حارث اور ان کا گھرانا تیس سال سے امریکا میں مقیم ہے، حارث امریکی شہری تھا مگر اس کے دل میں پاکستان کا درد کوٹ کوٹ کر بھرا تھا، اس کے نزدیک پاکستان میں دہشتگردی، غربت کے خاتمہ کے لیے تعلیم کا ہونا بہت ضروری ہے۔

نوجوان حارث اور ان کے والد جس نوبل کاز کے لیے نکلے تھے، اسے جاری رہنا چاہیے۔ پاکستان کے متمول حضرات اور نوجوانوں کے لیے حارث کا کردار مشعل راہ ہے کہ کس طرح امریکا میں خوشحال زندگی گزارنے والے باپ بیٹا پاکستان کے غریب بچوں کے لیے ہوائی سفر پر نکلے اور اس راہ میں جاں سے چلے گئے۔ پاکستان سے باہر رہنے والے جتنی محبت پاکستان سے کرتے ہیں' اگر اتنی ہی وطن عزیز میں بسنے والے کریں تو یہاں کسی غریب کا بچہ تعلیم سے محروم نہیں رہ سکتا۔
Load Next Story