آپریشن ضرب عضب میں مزید کامیابیاں
شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب میں پاک فوج نے میر علی میں تازہ زمینی کارروائی کرتے
حکومت رمضان پیکیج کے تحت ہر بے گھر خاندان میں باون ہزار روپے تقسیم کر رہی ہے، عبدالقادر بلوچ فوٹو: اے ایف پی/فائل
شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب میں پاک فوج نے میر علی میں تازہ زمینی کارروائی کرتے ہوئے مزید دہشت گرد ہلاک اور ان کے کئی دیگر ٹھکانے تباہ کر دیے۔ ہفتہ کو فورسز نے دریائے ٹوچی کی دوسری جانب دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جب کہ حسوخیل اور خوشحال نامی قصبوں کی جانب فورسز کی پیش قدمی اور سرچ آپریشن جاری ہے۔ گزشتہ ماہ شروع کیے جانے والی کارروائی میں اب تک پانچ سو سے زاید شدت پسند ہلاک ہو چکے ہیں اور ان کے سیکڑوں ٹھکانے بھی تباہ کر دیے گئے ہیں۔
پاک فوج نے جن علاقوں کو کلیئر کیا ہے' وہاں آئی ای ڈیز بنانے کی متعدد فیکٹریاں بھی پکڑی گئی ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گرد کس پیمانے پر ہلاکت خیز مواد تیار کر رہے تھے۔ گورنر کے پی کے سردار مہتاب احمد خان نے وائس آف امریکا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عسکریت پسندوں کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کر دیا گیا ہے جب کہ حکومت متاثرین میں ایک ارب روپے سے زائد کی رقم تقسیم کر چکی ہے نیز پاک فوج اور فلاحی ادارے عید پیکیج بھی تقسیم کر رہے ہیں اور بچوں کو پولیو ویکسین کے قطرے بھی پلائے جا رہے ہیں۔ وفاقی وزیر عبدالقادر بلوچ نے بتایا ہے کہ حکومت رمضان پیکیج کے تحت ہر بے گھر خاندان میں باون ہزار روپے تقسیم کر رہی ہے۔
ادھر امریکا نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ شمالی وزیرستان میں آپریشن کے بعد حقانی نیٹ ورک کے شدت پسندوں کو دوبارہ واپس نہ آنے دے۔ وہائٹ ہائوس کی نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سینئر اہلکار جیفری ایگرز نے کہا ہے کہ جو بات اہم ہے وہ یہ ہے کہ آپریشن مکمل ہونے پر حقانی نیٹ ورک کے لوگ پھر سے اپنی پناہ گاہوں میں واپس تو نہیں آ جائیں گے۔
امریکا میں پاکستانی سفیر جلیل عباس جیلانی کا کہنا تھا کہ اب اُس علاقے کو محفوظ بنانے کے لیے ضروری ہے کہ نیٹو اور افغانستان پاکستان کے ساتھ تعاون کریں جب کہ امریکا میں افغانستان کے سفیر اکلیل حکیمی نے الزام عاید کیا کہ ان کی اطلاعات کے مطابق حقانی نیٹ ورک کے شدت پسندوں کو محفوظ راستہ دیا گیا اور وہ پاکستان ہی میں دوسری جگہ منتقل ہوگئے ہیں۔
افغانستان میں امریکی و نیٹو فورسز کی نمایندگی کرنیوالے ریٹائرڈ جنرل جان ایلن نے کہا ''جب میں وہاں کمانڈر تھا تو حقانی نیٹ ورک کے ارکان نے ہمارے پانچ سو فوجیوں کو ہلاک کیا لیکن جب کبھی وزیرستان میں آپریشن کیا جاتا وہ کسی نہ کسی طرح بچ نکلتے ہیں''۔ امریکی اور افغان نمائیدوں کی باتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک حقانی نیٹ ورک ان کے ذہنوں پر بری طرح سوار ہے حالانکہ پاکستان یہ واضح کر چکا ہے کہ شمالی وزیرستان میں سب گروپوں کے خلاف آپریشن ہو رہا ہے اور اس سلسلے میں کسی کو کوئی رعایت نہیں دی جا رہی۔
پاک فوج کے ترجمان ایک سے زائد بار اس عزم کا اظہار کر چکے ہیں کہ شمالی وزیرستان میں ان کا کوئی پسندیدہ گروپ نہیں ہے' حقانی نیٹ ورک ہو یا کوئی اور جو بھی پاک فوج کی مزاحمت کر رہا ہے' اس کے خلاف آپریشن جاری ہے۔ اصل میں افغانستان کی انتظامیہ اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے پاکستان کے خلاف واویلا کرتی رہتی ہے' افغانستان میں تعینات اتحادی افواج کے کمانڈر بھی طالبان کے خلاف موثر کارروائی کر سکنے کی ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لیے حقانی نیٹ ورک کا شور مچاتے ہیں۔
پاکستان کے قبائلی علاقوں اور سوات' بونیر' چترال وغیرہ جو دہشت گردی کی وارداتیں ہوئی ہیں' ان کے ڈانڈے افغانستان سے ملے ہیں۔ تحریک طالبان کی قیادت افغانستان میں ہی مقیم ہے۔ بہر حال امریکا اور افغانستان کی منفی باتوں کے باوجود پاک فوج شمالی وزیرستان میں کامیابی سے آپریشن کر رہی ہے اور وہ دن دور نہیں جب وزیرستان سے دہشت گردی کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو جائے گا۔
پاک فوج نے جن علاقوں کو کلیئر کیا ہے' وہاں آئی ای ڈیز بنانے کی متعدد فیکٹریاں بھی پکڑی گئی ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گرد کس پیمانے پر ہلاکت خیز مواد تیار کر رہے تھے۔ گورنر کے پی کے سردار مہتاب احمد خان نے وائس آف امریکا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عسکریت پسندوں کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کر دیا گیا ہے جب کہ حکومت متاثرین میں ایک ارب روپے سے زائد کی رقم تقسیم کر چکی ہے نیز پاک فوج اور فلاحی ادارے عید پیکیج بھی تقسیم کر رہے ہیں اور بچوں کو پولیو ویکسین کے قطرے بھی پلائے جا رہے ہیں۔ وفاقی وزیر عبدالقادر بلوچ نے بتایا ہے کہ حکومت رمضان پیکیج کے تحت ہر بے گھر خاندان میں باون ہزار روپے تقسیم کر رہی ہے۔
ادھر امریکا نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ شمالی وزیرستان میں آپریشن کے بعد حقانی نیٹ ورک کے شدت پسندوں کو دوبارہ واپس نہ آنے دے۔ وہائٹ ہائوس کی نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سینئر اہلکار جیفری ایگرز نے کہا ہے کہ جو بات اہم ہے وہ یہ ہے کہ آپریشن مکمل ہونے پر حقانی نیٹ ورک کے لوگ پھر سے اپنی پناہ گاہوں میں واپس تو نہیں آ جائیں گے۔
امریکا میں پاکستانی سفیر جلیل عباس جیلانی کا کہنا تھا کہ اب اُس علاقے کو محفوظ بنانے کے لیے ضروری ہے کہ نیٹو اور افغانستان پاکستان کے ساتھ تعاون کریں جب کہ امریکا میں افغانستان کے سفیر اکلیل حکیمی نے الزام عاید کیا کہ ان کی اطلاعات کے مطابق حقانی نیٹ ورک کے شدت پسندوں کو محفوظ راستہ دیا گیا اور وہ پاکستان ہی میں دوسری جگہ منتقل ہوگئے ہیں۔
افغانستان میں امریکی و نیٹو فورسز کی نمایندگی کرنیوالے ریٹائرڈ جنرل جان ایلن نے کہا ''جب میں وہاں کمانڈر تھا تو حقانی نیٹ ورک کے ارکان نے ہمارے پانچ سو فوجیوں کو ہلاک کیا لیکن جب کبھی وزیرستان میں آپریشن کیا جاتا وہ کسی نہ کسی طرح بچ نکلتے ہیں''۔ امریکی اور افغان نمائیدوں کی باتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک حقانی نیٹ ورک ان کے ذہنوں پر بری طرح سوار ہے حالانکہ پاکستان یہ واضح کر چکا ہے کہ شمالی وزیرستان میں سب گروپوں کے خلاف آپریشن ہو رہا ہے اور اس سلسلے میں کسی کو کوئی رعایت نہیں دی جا رہی۔
پاک فوج کے ترجمان ایک سے زائد بار اس عزم کا اظہار کر چکے ہیں کہ شمالی وزیرستان میں ان کا کوئی پسندیدہ گروپ نہیں ہے' حقانی نیٹ ورک ہو یا کوئی اور جو بھی پاک فوج کی مزاحمت کر رہا ہے' اس کے خلاف آپریشن جاری ہے۔ اصل میں افغانستان کی انتظامیہ اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے پاکستان کے خلاف واویلا کرتی رہتی ہے' افغانستان میں تعینات اتحادی افواج کے کمانڈر بھی طالبان کے خلاف موثر کارروائی کر سکنے کی ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لیے حقانی نیٹ ورک کا شور مچاتے ہیں۔
پاکستان کے قبائلی علاقوں اور سوات' بونیر' چترال وغیرہ جو دہشت گردی کی وارداتیں ہوئی ہیں' ان کے ڈانڈے افغانستان سے ملے ہیں۔ تحریک طالبان کی قیادت افغانستان میں ہی مقیم ہے۔ بہر حال امریکا اور افغانستان کی منفی باتوں کے باوجود پاک فوج شمالی وزیرستان میں کامیابی سے آپریشن کر رہی ہے اور وہ دن دور نہیں جب وزیرستان سے دہشت گردی کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو جائے گا۔