فٹبال ورلڈکپ 2018 برطانیہ نے روس میں انعقاد کی مخالفت کردی

ملائیشین ایئر لائن کا جہازگرنے کے بعد روس پر مزید پابندیوں کی وجہ سے میزبانی کے حقوق واپس لینے چاہئیں، نائب وزیر اعظم

ملائیشین ایئر لائن کا جہازگرنے کے بعد روس پر مزید پابندیوں کی وجہ سے میزبانی کے حقوق واپس لینے چاہئیں، نائب وزیر اعظم فوٹو: فائل

ABBOTABAD:
برطانیہ نے فٹبال ورلڈکپ 2018 کے روس میں انعقاد کی مخالفت کر دی، نائب وزیر اعظم نک کلیگ کا کہنا ہے کہ یوکرین میں ملائیشین ایئر لائن کا جہاز گرنے کے حوالے سے روس پر مزید پابندیوں کی وجہ سے میزبانی کے حقوق واپس لینے چاہئیں۔


انھوں نے یہ بات سنڈے ٹائم سے گفتگو کرتے ہوئے کہی، نک کلیگ نے کہا کہ یہ سوچا بھی نہیں جا سکتا کہ روس کو فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی کرنی چاہیے۔واضح رہے کہ اس سے قبل فٹبال کی گورننگ باڈی ایسے مطالبات کو رد کرچکی ہے۔ جرمنی کے چند سیاستدانوں کی جانب سے ورلڈکپ کی منتقلی کے مطالبے پر فیفا نے کہا تھا کہ میزبانی 'خوش آئند' ہو گی۔یاد رہے کہ مغربی ممالک روس کے حمایت یافتہ باغیوں پر ملائیشیا کا جہاز مار گرانے کا الزام لگاتے ہیں، البتہ روس ان کی تردید کرتا ہے، جمعے کے روز یورپی یونین نے روس پر مزید پابندیاں عائد کیں جس کے باعث 100 سے زیادہ افراد، کمپنیوں کے اثاثے منجمد اور ان پر سفری پابندیاں عائد ہوگئی ہیں۔

برطانوی نائب وزیر اعظم نے کہا کہ روس پر دباؤ ڈالنے کے لیے مختلف اقدامات کی ضرورت ہے لیکن ورلڈ کپ کی میزبانی کے حقوق واپس لیے جانا ایک اہم پابندی ہو گی۔انھوں نے کہا کہ اگر پوتن کو کسی چیز کی فکر ہے تو وہ ان کا رتبہ ہے، اگر انھیں یاد دلایا جائے کہ جب تک وہ پوری دنیا کو نظر انداز کرتے رہیں گے اپنا رتبہ برقرار نہیں رکھ سکتے تو ہو سکتا ہے کہ ان پر اس کا اثر ہو۔ نک کلیگ نے کہا کہ اگر فیفا ورلڈ کپ کا انعقاد روس میں ہونے دیا جاتا ہے تو دنیا کے رہنما نہایت کمزور نظر آئیں گے۔ یاد رہے کہ رواں سال میگا ایونٹ کا انعقاد برازیل میں ہوا جس کا اختتام جرمنی کی ٹائٹل فتح پر ہوا تھا۔
Load Next Story