آپریشن ضرب عضب امید کی کرن

شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ’’ضرب عضب‘‘ کامیابی سے جاری ہے،

اب تک آپریشن کے دوران750دہشت گرد مارے جاچکے ہیں جب کہ دہشت گردوں کے98 ٹھکانے تباہ کیے گئے ہیں. فوٹو؛ فائل

شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ''ضرب عضب'' کامیابی سے جاری ہے، اب تک آپریشن کے دوران750دہشت گرد مارے جاچکے ہیں جب کہ دہشت گردوں کے98 ٹھکانے تباہ کیے گئے ہیں، میرعلی کا 70 فیصد علاقہ کلیئرکردیا گیا ہے جب کہ میران شاہ،دیگان اور میرعلی میں مسلسل کارروائی جاری ہے ۔

آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن کے دوران میر علی میں2 اسلحہ بنانے والی فیکٹریاں پکڑی گئیں جب کہ گھرگھر تلاشی بھی لی جارہی ہے، اب تک شمالی وزیرستان میں جاری پاک فوج کے آپریشن کے دوران اسلحہ بنانے والی30فیکٹریاں تباہ کی جاچکی ہیں ۔ ملک سے دہشت گردی کے خاتمہ اور داخلی امن وامان کو یقینی بنانے کے لیے آپریشن ضرب عضب کا تسلسل خوش آیند طریقے سے جاری ہے اور سیاسی و عسکری حکمت عملی ان اہداف کی سمت تیزی سے اپنا سفر طے کررہی ہے جس کا مقصد فاٹا سمیت ملک بھر کو امن ، سلامتی ،ترقی اور آسودگی کے ثمرات مہیا کرنا ہے ۔

یہ دشوار کام پاک فوج کے جوانوں نے ایک چیلنج کے طور پر قبول کیا ہے اور قوم کو یقین ہے کہ اس آپریشن کے ذریعے جسے پوری قوم سمیت سیاسی ، مذہبی ، جمہوری قوتوں اور عالمی برادری کی مکمل حمایت حاصل ہے بہت جلد اپنے حقیقی نصب العین کو پالے گی ۔ تاہم دہشت گردی کے عفریت کے خاتمہ کے لیے کاؤنٹ ڈاؤن پر اصرار مناسب نہیں ۔ یہ پاکستان کی سیاسی و عسکری تاریخ کی ایک انتہائی کٹھن آزمائش اور جراتمندانہ آپریشن ہے جس میں پاک فوج اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے امید افزا مرحلہ میں داخل ہوچکی ہے۔ سیاسی اور سماجی مبصرین آپریشن سے جڑے کئی سماجی و معاشی اور آباد کاری کے مسائل کی نشاندہی کرتے آئے ہیں، ان کو بھی پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے، مثلاً نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے شمالی وزیرستان میں پاک فوج کے آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں نقل مکانی کرنے والے بے گھر افراد کی تصدیق کا عمل مکمل کر لیا ہے۔


وزیراعظم آفس کو بھجوائی جانے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں نقل مکانی کرنے والوں میں 94 ہزار 152خاندانوں کے سربراہان نے رجسٹریشن کروائی، نادرا نے ان میں سے53 ہزار 186 خاندانوں کے کوائف درست ہونے کی تصدیق کر دی ہے، تاہم وزیر اعظم آفس سے جاری اعلامیہ میں بتائے گئے اعداد و شمار کے مطابق رجسٹرڈ ہونے والے خاندانوں میں سے40 ہزار966 خاندانوں کی رجسٹریشن غلط ہے، جنھیں مسترد کر دیا گیا ہے، ان میں بہت سے خاندانوں کی ڈبل رجسٹریشن تھی، اسی طرح سندھ اور ملک کے دیگر چند شہروں میں بے گھر افراد کی عارضی آباد کاری کے خلاف بعض سیاسی جماعتوں نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے احتجاج کا بھی بھی راستہ اختیار کیا ہے،اسے حسن عمل سے طے کرنا ناگزیر ہے ۔ایک اطلاع کے مطابق شمالی وزیرستان کے آئی ڈی پیزکرم ایجنسی کے راستے افغانستان سے واپس آرہے ہیں۔

اب تک 24658افراد پر مشتمل 3466خاندان پاکستان واپس آ چکے ہیں ۔ فاٹا ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کرم ایجنسی کے کوآرڈینیٹر کے مطابق شمالی علی زئی ہائی اسکول میں افغانستان سے آنے والے آئی ڈی پیزکے لیے رجسٹریشن کیمپ قائم کیا گیا ہے ، جب کہ عالمی قوتوں کی توجہ بھی آپریشن کے ٹمپو، اس کے اہداف اور کامیابی پر مرکوز ہے۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ اور دیگر امریکی میڈیا میں خارجہ امور کے معاون خصوصی طارق فاطمی کے دورہ امریکا کے حوالے سے شایع ہونے والی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ طارق فاطمی نے امریکی حکام پر پاکستان کے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے واضح کر دیا کہ اب بہت ہو گیا ، پاکستان مزید برداشت نہیں کر سکتا جس پر امریکا کی طرف سے یقین دلایا گیا کہ افغانستان میں پناہ لینے والے دہشت گردوں کے خلاف ضروری کارروائی کی جائے گی ۔طارق فاطمی نے کہا کہ امریکا کو افغانستان سے پاکستان میں ہونے والی کارروائیوں کو روکنے اور پاکستان سے فرار ہو کر افغانستان میں پناہ لینے والے دہشت گردوں کو گرفتار کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے ۔

یہ اصرار پاکستان کا حق ہے ، چنانچہ افغانستان میں اتحادی فوج کے سابق کمانڈر امریکی جنرل ریٹائرڈ جان ایلن نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن ضرب عضب کوامید کی کرن قراردیتے ہوئے کہا کہ عام طورپرپاکستان کووہ کریڈٹ نہیں دیا جاتا جس کا وہ مستحق ہے، پاکستان کی خدمات شکایات کے شورمیں دب کررہ جاتی ہیں، دہشت گردی کے خلاف کوششوں میں گزشتہ3سال کے دوران پاکستان کو جتناجانی نقصان اٹھانا پڑاوہ اتحادی فوج کو13سال کے دوران ہونے والے نقصان سے زیادہ ہے ۔ جنرل ریٹائرڈجان ایلن نے پاک افغان سرحدپرسیکیورٹی میں پاکستان کے کلیدی کردارکا بھی اعتراف کیا ۔

یوں آپریشن ضرب عضب پر امریکا سمیت پوری دنیا کی نگاہیں ہیں، مگر حکومت کو داخلی بدامنی اور قتل وغارت کا بھی سدباب کرنا ہوگا، اس سے آپریشن پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ پاک فوج شمالی وزیرستان میں قربانیوں کی نئی تاریخ رقم کررہی ہے اور قومی سلامتی کے دفاع اور دہشت گردی کے مکمل خاتمہ میں مصروف ہے۔عالمی برادری انتہا پسندوں کے خلاف اس فیصلہ کن جنگ کا ادراک کرے۔یہ قیام امن کے مشترکہ عالمی آدرش کی جنگ ہے جو پاکستان اکیلا لڑ رہا ہے۔
Load Next Story