تزویراتی گہرائی کا شوشہ

حکومتِ پاکستان نے دہشت گردوں کو پاکستان کے حوالے کرنے کا پیغام پہنچایا مگر ملزمان کو پاکستان کے حوالے کرنے...

tanveer.qaisar@express.com.pk

کلدیپ نیئر بھارت کے معروف اور بزرگ اخبار نویس ہیں۔ اٹھارہ جولائی 2014ء کو انھوں نے ''ایکسپریس' کے انھی صفحات پر شایع ہونے والے اپنے کالم میں لکھا: ''اسلام آباد حکومت اب بھی افغانستان کو اپنی تزویراتی گہرائی (Strategic Depth) سمجھتی ہے۔

نئی دہلی نے اسلام آباد حکومت کو قائل کرنے کی اپنی سی کوشش کی ہے کہ وہ کابل کے حوالے سے اپنی پالیسی تبدیل کرے لیکن پاکستان نے اس طرف کوئی توجہ نہیں دی۔ بے شک اسلام آباد کو اپنی پالیسی میں تبدیلی پیدا کرنا پڑے گی اور افغانستان کو اپنی تزویراتی گہرائی سمجھنے کے تصور سے باہر نکلنا پڑے گا۔

یہ بات خود پاکستان کے اپنے مفاد میں ہو گی کیونکہ اگر (افغانستان سے امریکی فوجیں نکلنے کے بعد) وہاں طالبان کا عمل دخل بڑھ گیا تو پاکستان خود بھی ایک آزاد خیال اسلامی ریاست نہ رہ سکے گا۔''انھوں نے تزویراتی گہرائی کے حوالے سے جو بات کہی ہے تو اس حوالے سے دیکھا جائے تو اگر ماضی میں افغانستان کے حوالے سے پاکستان کی کوئی مبینہ تزویراتی گہرائی رہی بھی ہے تو یہ بھارت کے اعصاب پر بری طرح سوار تھی۔

پاکستان نے اس مبینہ اسٹرٹیجک ڈیپتھ کا کوئی خواب دیکھا بھی تھا یا اس کے پالیسی ساز اداروں کے ذہن میں اس قسم کا کوئی خیال پنپتا بھی رہا ہے تو واضح رہنا چاہیے کہ اس کا سبب بھی بھارتی فوجی تیاریوں ہی کو گردانا جاتا ہے۔ 80ء کے عشرے میں تزویراتی گہرائی کا پہلی بار ذکر اذکار سامنے آنے لگا تھا۔ اس اصطلاح کی جائے پیدائش اسلام آباد کی NDU کو قرار دیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ بھارت کی بڑھتی ہوئی جوہری سرگرمیاں بتائی جاتی ہیں۔ ایسے میں اپنے ایٹمی اثاثوں کے تحفظ اور ملکی سلامتی کے لیے پاکستان نے مبینہ تزویراتی گہرائی کا سوچا بھی تو کونسے کسی عالمی قانون کو توڑا؟

ویسے تو سوویت یونین (جنگِ عظیم دوم کے دوران) اور اسرائیل بھی اپنے اپنے حوالے سے ''تزویراتی گہرائی'' کی اصطلاح بروئے کار لاتے رہے ہیں لیکن جنوبی ایشیا میں شدید بھارتی پروپیگنڈہ کی بنیاد پر یہ اصطلاح، افغانستان کے حوالے سے، پاکستان پر منطبق کر دی گئی۔ یہ بھی دراصل پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے کا ایک حصہ رہا ہے۔ بھارت جزوی طور پر اس میں کامیاب بھی رہا ہے۔

آج افغانستان اور بھارت کئی معاملات میں پاکستان کے خلاف پینگیں جھولتے نظر آتے ہیں، اس کے عقب میں بھارت کی دراصل یہی منفی سوچ کار فرما رہی ہے جسے محور بنا کر بھارت نے افغانستان کو باور کرانے کی کوشش کی کہ پاکستان اپنے تزویراتی گہرائی کے تصور کو عملی جامہ پہنانے کے لیے افغانستان کو ہمیشہ اپنے زیرِ نگیں رکھنا چاہتا ہے۔ اس تنفر آفریں بھارتی پروپیگنڈے نے بلا شبہ اپنا رنگ دکھایا ہے۔ اسلام آباد میں متعین امریکی سفیر رچرڈ اولسن بھی اسی حوالے سے بیان دے چکے ہیں۔


حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اس بارے میں بار بار تردیدیں کر چکا ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی بھی اس سے انکار کرچکے ہیں ۔ سٹین فورڈ ریویو ایسے تحقیقی عالمی جریدے میں بھی لکھا جا چکا ہے کہ افغانستان کے پس منظر میں اگر پاکستان کا کبھی کوئی تزویراتی گہرائی کا تصور رہا بھی ہے تو اس سے اس وقت باقاعدہ ناتہ توڑ لیا گیا تھا جب جنرل پرویز مشرف چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف تھے۔ معروف امریکی اخبار ''ہفنگٹن پوسٹ'' کے نام نہاد تجزیہ نگار Josh Mall بھی اسی اصطلاح کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان اور آئی ایس آئی کے خلاف دریدہ دہنی کرتے ہیں تو ہمیں کوئی حیرت نہیں ہونی چاہیے۔

عالمی سطح پر جو قوتیں پاکستان اور اس کے مضبوط و مستحکم اداروں کو ہر لمحہ نقصان پہنچانے کی در پے رہتی ہیں، یہ پروپیگنڈہ بھی کرتی رہی ہیں کہ گزشتہ پندرہ برس سے پاکستان جس طرح افغان طالبان کو اعانت فراہم کرتا رہا ہے اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی کرنے میں محترز رہا ہے، اس کے بنیادی ڈانڈے بھی اسی نام نہاد ''تزویراتی گہرائی'' سے ملتے ہیں۔ اسے ہم بے بنیاد اور واہیات پروپیگنڈے کے سوا اور کیا نام دے سکتے ہیں؟

حقیقت یہ ہے کہ افغان طالبان کبھی پاکستان کے ماتحت رہے ہیں نہ انھوں نے کبھی پاکستان دشمنوں کے خلاف کارروائی کرنے کی کسی پاکستانی درخواست کو ''شرفِ قبولیت'' ہی بخشا۔ ایک مثال ہی کافی ہے: جناب محمد نواز شریف جب دوسری بار وزیر اعظم بنے تو ایک کالعدم مذہبی جماعت کے دہشت گردوں نے ان کے کانوائے کو بم سے اڑانے کی سازش کی۔ خدا کا شکر ہے کہ وزیر اعظم اس سے محفوظ رہے مگر ذمے دار دہشت گرد کارروائی کے بعد مقتدر افغان طالبان کے ہاں پناہ گیر ہوگئے۔

حکومتِ پاکستان نے دہشت گردوں کو پاکستان کے حوالے کرنے کا پیغام پہنچایا مگر ملزمان کو پاکستان کے حوالے کرنے سے صاف انکار کر دیا گیا۔ اس کے باوجود بھارت اور امریکا بیک زبان پاکستان کے خلاف اس ''تزویراتی گہرائی'' کا راگ الاپ رہے ہیں۔ مثال کے طور پر سابق امریکی وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن، جو اوباما کے بعد امریکی صدارت کا خواب بھی دیکھ رہی ہیں، نے جون 2014ء کے آخری ہفتے بھارتی نجی ٹی وی، ND TV کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا: ''پاکستان کا تزویراتی گہرائی کا تصور مردہ ہو چکا ہے۔''

یہ محترمہ، جس نے جولائی 2014ء کے وسط میں فلسطین پر خونریز اسرائیلی جارحیت کی بھی کھل کر حمایت کرتے ہوئے فلسطین دشمنی کا ثبوت دیا ہے، مزید کہتی ہیں:ـ ''پاکستان کی طرف سے افغانستان میں تزویراتی گہرائی حاصل کرنے کا خواب بری طرح ٹوٹ چکا ہے۔ یہ تصور بنیادی طور پر ہی غلط تھا۔ اب پاکستان کو چاہیے کہ وہ اپنی ساری طاقت جنگجوؤں سے نمٹنے پر مرتکز کرے۔ پاکستان نے اپنے مغربی پچھواڑے میں تزویراتی گہرائی کے نام پر سانپ پالے تھے اور سوچا تھا کہ یہ صرف اس کے دشمنوں کو ڈنک ماریں گے لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔''

ہیلری کلنٹن نے یہ بیان دے کر اپنے بھارتی دوستوں کو تو خوب خوش کیا ہے لیکن افسوس کہ وہ کذب گوئی کی بھی مرتکب ہوئی ہیں۔ اپنے ہندو اور یہودی دوستوں کو خوش کرنے کے لیے ہیلری کا یہ پہلا اقدام نہیں ہے۔ یہ وہی ہیلری کلنٹن ہیں جنہوں نے تقریباً چودہ سال قبل نائن الیون کے سانحہ کے فوراً بعد ایک ارب پتی عرب شہزادے کا کروڑوں کا چیک یہ کہہ کر لینے سے انکار کر دیا تھا کہ ان پیسوں سے خون کی بُو آتی ہے۔ عرب شہزادے نے تو انسانی ہمدردی کے تحت نائن الیون کے سانحہ میں مرنے والوں کے وارثوں کی مالی امداد میں یہ چیک پیش کیا تھا مگر یہود کی ناراضی سے خوفزدہ ہیلری کلنٹن نے اسے مسترد کر دیا تھا۔

اس وقت جب کہ شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف ملٹری آپریشن پوری تندی اور تندہی سے جاری ہے، ان لمحات میں کسی طرف سے اگر کوئی ''تزویراتی گہرائی'' کا شوشہ چھوڑتا ہے تو ہم سمجھتے ہیں کہ یہ دراصل ضربِ عضب پر ضرب لگانے کے مترادف ہو گا۔ اس طرح کی خبروں اور تجزیوں کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے۔ افواجِ پاکستان وطنِ عزیز کی بقا اور سلامتی کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ ایسے میں ''تزویراتی گہرائی'' کے شوشوں کی کیا حیثیت؟
Load Next Story